Friday , June 22 2018
Home / اداریہ / جی ایچ ایم سی انتخابات کا مسئلہ

جی ایچ ایم سی انتخابات کا مسئلہ

گلشن میں کہیں فصل بہار آئی ہے شائد پھر خار مغیلاں کی چبھن جاگ اُٹھی ہے جی ایچ ایم سی انتخابات کا مسئلہ

گلشن میں کہیں فصل بہار آئی ہے شائد
پھر خار مغیلاں کی چبھن جاگ اُٹھی ہے
جی ایچ ایم سی انتخابات کا مسئلہ
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات 10 ماہ پرانی ٹی آر ایس حکومت کیلئے سیاسی طورپر ایک انتہائی آزمائشی مسئلہ ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ مضافاتی علاقوں پر مشتمل جی ایچ ایم سی کے لئے انتخابات کروانا مشکل بات بھی نہیں ہے لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کو شہری آبادی کے فیصلہ سازی کے اختیارات سے خائف دیکھا جارہا ہے ۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چیف منسٹر کی حیثیت سے چندرشیکھر راؤ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئی ریاست کی بنیادی ضروریات خاص کر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں عوامی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے علاوہ بہتر بلدی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے تاہم انھیں تلنگانہ کا سرکاری خزانہ اس بات کی اجازت نہیں دے رہا ہے کہ وہ مزید ترقیاتی کام انجام دے سکیں۔ اس لئے دونوں شہروں کے بشمول مضافات میں بلدیہ کی کارکردگی کے ناقص پن کی شکایات کا انبار ہوتا ہے۔ شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی کے ذریعہ تلنگانہ کی نئی حکومت نے پہلے ہی عوام کی ناراضگی مول لی ہے ۔ ٹیکس وصولی کی مہم میں اس مرتبہ جی ایچ ایم سی کا فائدہ بھی ہوا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کو شاید یہ الہام ہوا ہے کہ جی ایچ ایم سی انتخابات کروائے جاتے ہیں تو ان کی پارٹی ٹی آر ایس کو بدترین شکست ہوگی اور علاقائی سطح پر ناکام پارٹی ریاست کا اقتدار سنبھانے کیلئے عوام کی نظروں میں معتبر باقی نہیں رہتی۔ کے سی آر کو نفسیاتی طورپر جی ایچ ایم سی انتخابات کے بارے میں کیا بات خوفزدہ کررہی ہے یہ وہی بہتر جانتے ہیں لیکن شہریوں کو ایک بہتر صاف ستھرا نظم و نسق دینے کیلئے منتخب ادارہ ہونا ضروری ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی حکومت ان انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش کررہی ہے ، یہی اندیشہ ہے کہ ٹی آر ایس کو ناکامی ہوگی ۔ ہائیکورٹ کی جانب سے سرزنش کئے جانے کے بعد کے سی آر حکومت کا جی ایچ ایم سی انتخابات کرانے پر غور کرنا ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے تو اس کے لئے عاجلانہ اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ہائیکورٹ نے انتخابات کرانے کیلئے مزید 244 دن دینے حکومت کی اپیل کو مسترد کردیا ۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان انتخابات کو جتنا جلد ہوسکے منعقد کروایا جائے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی ازسرنوحدبندی کیلئے وقت درکار ہونا بھی ضروری ہے ۔ مزید 246 دنوں میں حلقوں کی ازسرنو حدبندی کی جاتی ہے تو 150 رکنی میونسپل کارپوریشن میں ارکان کی تعداد کو 200 تک کیا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کو بے خوف ہوکر انتخابات کی تیاری کرنی چاہئے تھی مگر انھیں حالیہ ایم ایل سی انتخابات میں پارٹی امیدوار کی ناکامی کے ذریعہ جو شدید دھکہ لگا ۔ اس کے علاوہ گرایجویٹ حلقہ کے ان انتخابات میں رائے دہندوں نے بیلٹ پیپر کے ساتھ کے سی آر حکومت کے خلاف نعرے لکھ کر اپنے احساسات کا اظہار کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں رہنے والے شہریوں میں کے سی آر کے خلاف احساسات پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد میں مضبوطی کے پیش نظر بھی ٹی آر ایس کو جی ایچ ایم سی انتخابات کروانا خود کو مسائل میں ڈھکیل دینے کے مترادف ہوگا ۔ بی جے پی کے حالیہ قومی عاملہ اجلاس میں صدر پارٹی امیت شاہ نے تلنگانہ میں بی جے پی کو مضبوط بنانے کے لئے ریاستی پارٹی قائدین کو ہدایت دی ہے ایسے میں تلنگانہ بی جے پی کے قائدین کو جی ایچ ایم سی انتخابات میں پارٹی کے لئے بہتر سے بہتر مظاہرہ کرنے کی کوشش کرنا ایک نکاتی ایجنڈہ رہ جاتا ہے ۔ شہر میں ہندوتوا طاقتوں کی حالیہ ریالیاں اور جلسوں کے بعد اکثریتی رائے دہندوں کے نبض کو ٹٹولنے والی ٹی آر ایس حکومت کا اندیشہ اگر یقین میں تبدیل ہوجائے تو میونسپل انتخابات میں ٹی آر ایس کو بدترین ناکامی ہوگی ۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود انتخابات کے انعقاد کو بہرحال نظرانداز یا دیرینہ ملتوی نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT