Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا آغاز

جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا آغاز

حکومت کی اسکیمات اور پروگرامس کو نمایاں کرنے شہر بھر میں ہورڈنگس
حیدرآباد۔/6جنوری، (پی ٹی آئی) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات کیلئے شہر کی مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انتخابی مہم کا عملاً آغاز کیا گیا ہے۔ انتخابات کیلئے اعلامیہ کی اجرائی سے قبل ہی سیاسی پارٹیوں کے اعلیٰ قائدین مہم چلارہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس نے شہر بھر میں حکومت کی اسکیمات اور پروگراموں کو روشناس کرانے کیلئے ہورڈنگس آویزاں کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنی حریف پارٹیوں پر سبقت لیجاتے ہوئے مہم شروع کی ہے۔ تلنگانہ کے انفارمیشن ٹکنالوجی اور پنچایت راج وزیر کے ٹی راما راؤ نے دیگر وزراء کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مختلف ترقیاتی پروگراموں کو انجام دیا۔ یہ انتخابات اس ماہ کے وسط میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔ اگرچیکہ انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کو تلنگانہ کی سیاست میں دیگر تمام پارٹیوں پر سبقت حاصل ہے لیکن حیدرآباد میں وہ بڑی سیاسی طاقت نہیں سمجھی جاتی جہاں کی آبادی تقریباً 60 لاکھ ہے۔ ٹی آر ایس نے 2009ء کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں مقابلہ نہیں کیا تھا۔

وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی اور پنچایت راج نے حیدرآباد میں مقیم سیما آندھرا کے شہریوں سے بھی رجوع ہونے کی پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی ہے۔ ماضی میں اپوزیشن پارٹیوں نے الزامات عائد کئے تھے کہ ٹی آر ایس نے سیما آندھرا کے شہریوں کی توہین کی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کے دوران دونوں جانب سے تلخ بیانات اور تبصرے کئے گئے ہیں لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اب تک کوئی ناخوشگوار واقعات پیش نہیں آئے۔  تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 15اسمبلی حلقوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس مرتبہ بھی وہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں اچھا مظاہرہ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ تلگودیشم کیلئے اس مرتبہ جی ایچ ایم سی انتخابات کا مقابلہ سخت ترین ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے بعض ارکان اسمبلی حکمراں ٹی آر ایس سے وفاداری کرتے ہوئے شامل ہوگئے ہیں۔ تلگودیشم صدر چندرا بابو نائیڈو نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو حیدرآباد کی سب سے بڑی طاقتور پارٹی ثابت کرکے دکھائیں گے۔ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری توقع ہے کہ اس ہفتہ کے اوائل میں بی جے پی ۔ تلگودیشم کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ ایک اور مرکزی وزیر ہنس راج نے بھی آج تلگودیشم اتحاد کی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین پر تنقید کی کہ وہ سابق حکمراں نظام کی پوجا کررہے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد کی ترقی کو صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی کوششوںکا نتیجہ بتایا اور کہا کہ ان کی پارٹی شہر کی ترقی کے نام پر ووٹ مانگے گی۔ اسی دوران کانگریس نے زور دیا کہ حیدرآباد میں اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی دس سالہ حکمرانی کے دوران کئے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ کانگریس نے شہر کیلئے اپنے انتخابی منشور کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT