Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / جی ایچ ایم سی انتخابات

جی ایچ ایم سی انتخابات

وہی پُرفریب وعدے وہی دلفریب باتیں
جو فریب کھائیں ہم پھر تو قصور ہوگا اپنا
جی ایچ ایم سی انتخابات
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لئے انتخابی عمل کی مدت کو 28 دنوں سے گھٹاکر 15 دن کردینے حکومت کے جی او کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے داخل کردہ درخواست کو حیدرآباد ہائیکورٹ نے سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے حکومت کے جی او کو معطل کردیا۔ ٹی آر ایس حکومت کے لئہ یہ پہلی انتخابی ناکامی ہے۔ حکومت نے عجلت میں یہ جی او جاری کیا تھا۔ گریٹر حیدرآباد میں بلدی انتخابات کے ذریعہ اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشاں حکمرانی پارٹی نے جی ایچ ایم سی کے قانون میں ترمیم کی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایم سی انتخابات قواعد کے مطابق ہی منعقد کئے جائیں۔ انتخابی عمل کے شیڈول کی مدت کو گھٹانے کی کوشش درست نہیں ہے۔ کارگذار چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس ایس وی بھٹ پر مشتمل بنچ نے حکومت تلنگانہ کے جی او کو معطل کرتے ہوئے سابق شیڈول کو بحال کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی دھر ریڈی اور مقامی شہری رگھوناتھ راؤ کی جانب سے علیحدہ علیحدہ داخل کردہ دو درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے درخواست گذار کے اس استدلال کی بھی سماعت کی کہ ریاستی الیکشن کمیشن اور حکومت کو انتخابی شیڈول کی مدت 40 دن برقرار رکھی جانے کی ہدایت دی جائے۔ حیدرآباد کے شہری رگھوناتھ راؤ نے حکومت کے 4 جنوری کو جاری کردہ جی او کو چیلنج کیا تھا کیوں کہ حکومت نے جی ایچ ایم سی کے قانون کی دفعہ 33 میں ترمیمات لائی تھیں۔  حکومت نے انتخابی شیڈول کی مدت کو کم کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا تھا اور اس کے لئے کل جماعتی اجلاس طلب کرکے تمام سیاسی پارٹیوں کی مرضی معلوم نہیں کی گئی۔ حکومت چاہتی تھی کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو انتخابی عمل کے دوران رائے دہندوں تک پہونچنے کا کم وقت ملے۔ اس لئے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی اور پرچہ نامزدگی کے ادخال کے لئے وقت کم دیا گیا تھا مگر عدالت نے حکومت کے اس فیصلہ کو مسترد کردیا۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کے قانون میں جو ترمیم کی ہے اسے غیر دستوری قرار دیا جارہا ہے لیکن حکومت کا استدلال ہے کہ ری آرگنائزیشن ایکٹ نے حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعہ ترمیم کرسکتی ہے۔ حکومت کی یہاں ایک غلطی یہ ہوئی کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے جی ایچ ایم سی قانون کو پہلے ہی منظور کرلیا تھا اگر اسے قانون میں ترمیم کرنی تھی تو اس کے لئے اسے آرڈیننس یا پھر قانون سازی کے ذریعہ ترمیم کرسکتی تھی۔ لہذا بادی النظر میں انتخابی شیڈول میں تبدیلی اور انتخابی عمل کی مدت میں کمی کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن صاف ستھرے انتخابات اور مسائل کی یکسوئی کے لئے ہر شہری بھی چاہتا ہے کہ ایک بہترین ٹیم منتخب کی جائے تاکہ عوام کے روز مرہ کے بلدی مسائل کی آسانی سے یکسوئی ہوسکے۔ سڑکوں پر کھڈ، تاریکی، اُبلتی موریوں ، کچرے کے انبار، مچھروں کی کثرت، آوارہ کتوں کی بہتات کے علاوہ بے ہنگم ٹریفک مسائل نے شہریوں کا جینا مشکل کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت کی توجہ ان مسائل کی جانب ہونی چاہئے۔ لیکن حکومت نے انتخابات کو اپنی مرضی سے منعقد کرانے کا یکطرفہ فیصلہ کرکے غیر دستوری قدم اٹھایا تھا جس کو قانون کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔ حکومت نے انتخابی عمل کو کم کرکے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال اور دستبرداری کے لئے بھی ایک ہی دن کی مہلت دی تھی۔ اور انتخاب کو 14 دن کے اندر کرانے کے بجائے صرف 9 دنوں کے اندر پورا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انتخابی عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انتخابات کے لئے اعلامیہ جاری کرنے پرچہ نامزدگی کے ادخال اور ان پرچہ جات کی تنقیح کے لئے وقت درکار ہوتا ہے جس کے بعد ہی امیدواروں کی قطعی تعداد کا اعلان کیا جاتا ہے مگر حکومت نے کس نیت اور ارادے کے تحت یہ فیصلہ کیا تھا اس کی اب قانون کی جانب سے نفی ہوچکی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لئے بغ؁ر حکومت کوئی بھی کام یکطرفہ طور پر انجام نہیں دے سکتی۔ جی ایچ ایم سی پر اپنا کنٹرول رکھنے کی جدوجہد کرنے والی ٹی آر ایس کو ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد انتخابات کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی اب وقت مل گیا ہے کہ وہ بلدی انتخابات کے لئے موزوں اور نیک دیانتدار امیدواروں کو ٹکٹ دے کر عوامی خدمت کو یقینی بنائیں۔ ان انتخابات میں دولت، طاقت کے مظاہرہ کا اندھا دھند تماشہ کیا جاتا ہے تو پھر انتخابی عمل ناپسندیدہ عوامل کی نذر ہوجائے گا اور عوام کے حق میں وہی پرانے مسائل برقرار رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT