Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی اور ایم ایل سی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی

جی ایچ ایم سی اور ایم ایل سی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی

کانگریس و تلگو دیشم قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت ، جناب محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/3ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات اور مجالس مقامی کے تحت قانون ساز کونسل کی 12نشستوں کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم کے دو عوامی نمائندوں کی آج ٹی آر ایس میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد محمود علی نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پارٹی کا موقف انتہائی مستحکم ہے اور دونوں انتخابات میں کسی جماعت کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس شاندار مظاہرہ کرے گی۔ محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے ذریعہ ریاست کے عوام کا دل جیت لیا ہے جس کا مظاہرہ ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں دیکھنے کو ملا جہاں ٹی آر ایس امیدوار پی دیاکر کو تاریخی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور اپوزیشن امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ محمود علی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے خلاف بے بنیاد پروپگنڈہ کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام میں حکومت کے بارے میں شبہات پیدا کئے جائیں۔ ورنگل کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ نہ ہی اپوزیشن پر بھروسہ کریں گے اور نہ ہی ان کے پروپگنڈہ پر یقین کرنے والے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ جیسے جیسے گریٹر حیدرآباد کے انتخابات قریب آرہے ہیں پارٹی قائدین اور کیڈر میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ ورنگل کی شاندار کامیابی کا تسلسل قانون ساز کونسل اور گریٹر حیدرآباد انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ ٹی آر ایس گریٹر حیدرآباد چناؤ میں کسی بھی پارٹی سے مفاہمت نہیں کرے گی بلکہ تنہا مقابلہ کرتے ہوئے کارپوریشن پر قبضہ کرے گی۔ گریٹر حیدرآباد کی تاریخ میں ٹی آر ایس کارپوریشن پر اپنا میئر اور ڈپٹی میئر منتخب کرتے ہوئے حیدرآباد کی ترقی کیلئے خود کو وقف کردے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ جس طرح ٹی آر ایس نے پُرامن جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ حاصل کیا ہے اسی طرح حیدرآباد پر بھی ٹی آر ایس کا قبضہ رہے گا۔ محمود علی نے ’’ تلنگانہ ہمارا اور میئر ہمارا ‘‘ کا نعرہ دیا اور کہا کہ کوئی اور جماعت اس موقف میں نہیں ہے کہ وہ تمام طبقات کی تائید حاصل کرسکے۔ اقتدار کے دیڑھ سال کے عرصہ میں ٹی آر ایس نے حیدرآباد کا نقشہ بدل دیا اور اسے ترقیافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ پر قبضہ کے بعد شہر کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ محمود علی نے بتایا کہ شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی، پینے کے پانی اور برقی کی سربراہی جیسی ضرورتوں کی تکمیل میں ٹی آر ایس حکومت نے غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور عوام اس کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کیلئے دو بیڈ روم کے مکانات کی سربراہی کا آغاز ہوچکا ہے اور شہر کو گوداوری کے پانی کی سربراہی کے ذریعہ ان علاقوں کو سیراب کیا گیا جہاں پانی کی شدید قلت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ اپریل تک گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پانی کی قلت دور ہوجائیگی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پارٹی کو عوامی تائید حاصل ہورہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں کسی بھی جماعت سے اتحاد یا مفاہمت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ محمود علی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین حکومت کے اقدامات سے متاثر ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اور آنے والے دنوں میں شہر کے کئی اہم قائدین ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں پارٹی کے حقیقی کارکنوں اور قائدین کے ساتھ مکمل انصاف کریں گے اور ٹکٹوں کی تقسیم میں حقیقی کارکنوں کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ گریٹر چناؤ کیلئے اعلامیہ کی اجرائی باقی ہے لیکن ابھی سے شہر میں الیکشن کا ماحول پیدا ہوچکا ہے اور رائے دہندے ٹی آر ایس کو اقتدار دلانے کیلئے بے چین ہیں۔

TOPPOPULARRECENT