Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی حدود میں 804 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ

جی ایچ ایم سی حدود میں 804 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ

مانسون کی آمد کے ساتھ ہی بلدیہ چوکس ، وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی ہدایت
حیدرآباد۔9جون(سیاست نیوز) مانسون کی آمد اور بارش سے ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں ناکام مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو بلدی حدود میں موجود مخدوش عمارتیں ایک مرتبہ پھر یاد آنے لگی ہیں اور ان عمارتوں کے انہدام اور انہیں خالی کروانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں نشاندہی کردہ مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود میں 2013مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور جاریہ موسم کے دوران 310عمارتوں کو منہدم کیا گیا جبکہ اب تک جملہ 1110 مخدوش عمارتوں کو منہدم کیا گیا ہے اور 99 عمارتوں کی درستگی عمل میںلائی گئی ہے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے مطابق جاریہ موسم باراں کے دوران عہدیداروں نے 804 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلہ میں بہت جلد نوٹسوں کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ ان عمارتوں کو فوری خالی کرواتے ہوئے انہیں منہدم کیا جاسکے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ بارش اور اس کے نقصانات سے عوام کو محفوظ بنانے کے اقدامات کریں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حکام کی جانب سے مانسون کی تیاریوں کے نام پر اختیار کردہ رویہ کے متعلق حکومت اور اعلی عہدیدار مطمئن نہیں ہیں کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں مانسون کی آمد کے ساتھ ہی عظیم تر مسائل نے صورتحال کی پول کھول دی اور اب جاری کردہ مخدوش عمارتوں کے اعداد شمار کا جائزہ لیاجائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ جی ایچ ایم سی نے مانسون کی آمد سے قبل مخدوش عمارتوں کے انہدام پر کوئی توجہ مبذول نہیں کی بلکہ مانسون کی آمد کی تیاریوں کے سلسلہ میں صرف اجلاس کرتے رہ گئے لیکن مانسون کی آمد کے بعد ان عہدیداروں کی نیند بیدار ہوئی کہ شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے کچھ نہیں کیا جا سکا ہے لیکن اتنا ہی نہیں بلکہ مخدوش عمارتوں کے انہدام کے ذریعہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے سبب شہر کے نواحی علاقہ ونستھلی پورم میں دیوار منہدم ہونے کے سبب ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی ۔ جی ایچ ایم سی عملہ کی جانب سے اگر شہر میں محفوظ مانسون کو ممکن بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں شہر کے حالات مزید ابتر ہوجائیں گے اور حکومت و بلدی عہدیدار ہدایات و اجلاس کی حد تک محدود رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT