Saturday , February 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی کو محکمہ فینانس سے ہر ماہ سوکروڑ کی اجرائی

جی ایچ ایم سی کو محکمہ فینانس سے ہر ماہ سوکروڑ کی اجرائی

ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر اور تنخواہوں کی اجرائی میں آسانی
حیدرآباد ۔ 25 نومبر (سیاست نیوز) مالی مشکلات سے دوچار عظیم تر بلدیہ حیدرآباد پر حکومت کو رحم آ گیا ہے۔ اس مناسبت سے محکمہ فینانس نے ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ 50 کروڑ فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے۔ بجٹ مختص کرنے اور دیگر شعبہ جات کیلئے دیئے جانے والے فنڈس کیلئے بارہا نمائندگی کی گئی۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق حکومت نے ان نمائندگیوں کو اب قبول کرلیا ہے۔ زائد بجٹ رکھنے والا بلدیہ عظیم تر حیدرآباد دو تین برس سے نقصانات سے دوچار ہورہا ہے۔ اخراجات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) بھی استعمال کرلئے گئے یہاں تک کہ ہر ماہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے بھی بجٹ مہیا نہیں ہو پارہا ہے۔ بلدیہ کے سر پر سڑکوں کی ترقی پروگرام (SRPD) اور ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کی ذمہ داری عائد کی گئی اور حالیہ دنوں اس پراجکٹ کے آغاز کی وجہ سے ماہانہ 300-200 کروڑ بلس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ملازمین کی تنخواہ اور وظائف کی ادائیگی کیلئے ماہانہ 120 کروڑ کی ضرورت پڑتی ہے اور دیگر کاموں کیلئے ماہانہ 130 کروڑ جملہ ہر ماہ 250 کروڑ روپیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ڈبل بیڈ روم اور ایس آر ڈی پی پروگراموں سے بجٹ میں مزید اضافہ نے جی ایچ ایم سی کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ درحقیقت جی ایچ ایم سی کو حکومت کی جانب سے اسٹامپ ڈیوٹی سرچارجس کے تحت 300 کروڑ، انکم ٹیکس کے تحت 100 کروڑ، ٹراویلس ٹیکس کے تحت 70 کروڑ اور دیگر ٹیکسیس کے تحت 50 کروڑ روپئے ادا کرنا پڑتا ہے مگر چند برس سے یہ تمام ٹیکسیس صحیح طریقہ سے ادا نہیں کئے جارہے ہیں۔ اخراجات میں اضافہ اور عظیم تر بلدیہ کے فنڈس میں سے 360 کروڑ آر ٹی سی کو دیئے جانے کی وجہ سے عظیم تر بلدیہ حیدرآباد دیوالیہ کا شکار ہوگیا ہے۔ سال گذشتہ نوٹوں کی منسوخی کے وقت جی ایچ ایم سی کو 1,205 کروڑ کا ٹیکس وصول ہوا اور اس سال 700 کروڑ ٹیکس وصول کیا گیا ہے جبکہ بلدیہ کو سالانہ 2,500 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے مگر اخراجات اس رقم سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے عظیم بلدیہ حیدرآباد دیوالیہ کا شکار ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT