Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی کیلئے 2017 ء مصروف ترین سال

جی ایچ ایم سی کیلئے 2017 ء مصروف ترین سال

کئی ترقیاتی پروگرام صرف اعلانات تک محدود ، ڈبل بیڈ روم مکانات اسکیم بھی نا مکمل
حیدرآباد ۔ 28 ۔ دسمبر : ( ایجنسیز ) : ملک بھر کے شہروں میں قابل فخر کاموں کی دعویداری کرنے والے گریٹر حیدرآباد مجلس بلدیہ کے لیے سال 2017 ایوارڈس اور تقاریب کے انعقاد کے لیے تو ٹھیک رہا ۔ لیکن ترقیاتی پروگراموں کو متعینہ وقت پر مکمل کرنے کے معاملے میں مجلس بلدیہ کو زیادہ کامیابی نہیں مل سکی ، اکثر اسکیمات یا تو اعلانات تک محدود رہ گئے یا شیلانیاس کے بعد لاپرواہی کا شکار رہے ۔ جی ایچ ایم سی کے لیے سال 2017 منظوریوں اور سنگ بنیاد کے کاموں سے بھر پور رہا ، ایس آر ڈی پی کے مطابق پورے سال کے دوران کئی اسکیمات کا کی منصوبہ بندی کی ۔ جاریہ اسکیمات میں مادھا پور انڈر پاس کے افتتاح کے امکانات تھے لیکن لگ بھگ وہ مکمل ہونے کے باوجود کچھ تکنیکی مسائل کے سبب اس کا افتتاح منسوخ کیا گیا ۔ کے بی آر پارک کے چاروں طرف ایس آر پی ڈی پی کے تحت فلائی اوور پراجکٹ پر کام شروع کیا گیا تھا لیکن یہ کام بھی ابھی تک گرین ٹریبونل میں زیر التواء ہے ۔ ہائی ٹیک سٹی ، ایل بی نگر اور کچھ دیگر علاقوں میں اس کے تحت کام شروع ہوئے ہیں ۔ گچی باولی ، مہدی پٹنم ، بہادر پورہ ، عابڈس میں ایس آر ڈی پی کے کام صرف اعلانات تک ہی محدود رہے ۔ درگم چیرو پر ہینگنگ بریج کا کام بھی آگے نہیں بڑھ سکا ۔ ان پروگراموں میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ مکمل پراجکٹ پر 4000 کروڑ روپئے سے زیادہ لاگت کا تخمینہ مقرر کیا گیا ۔ حالانکہ وزیر برائے شہری ترقیات کے ٹی راما راؤ نے کئی بار اس بات کا اعلان کیا کہ حیدرآباد کی ترقی پر 20 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ جن میں ایس آر ڈی پی ، نالوں کی تعمیر و مرمت ، سڑکوں کی تعمیر ، موسیٰ ندی ترقی وغیرہ کے کام شامل ہیں ۔ کے ٹی آر نے شہر کے کئی دورے کیے اور سڑکیں ، کمیونٹی ہال ، کھیل بھون کے بشمول چھوٹی موٹی کئی ترقیاتی پروگراموں کا افتتاح کیا ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کے نام پر تلنگانہ حکومت اور جی ایچ ایم سی نے ملک بھر میں اپنی ساکھ بنانے کی کوشش کی ۔ اس کے تحت مرکز کے علاوہ مختلف ریاستوں کے وزراء اور منتخب نمائندوں نے حیدرآباد کا گذشتہ سال ان مقامات کا دورہ بھی کیا جہاں اسکیم کی تجویز رکھی گئی۔ لیکن کسی بھی اسکیم کا افتتاح نہیں ہوسکا ۔ جی ایچ ایم سی نے اس بات کا ادعا کیا کہ لگ بھگ 40 سلم بستیوں میں رہنے والوں کو رضا مند کرلیا گیا ہے کہ ان کی جھونپڑیاں توڑ کر وہاں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر سبھی سہولتوں کے ساتھ کیا جائے گا ۔ جی ایچ ایم سی کے لیے گلوبل انٹر پرینر شپ سمٹ 2017 ، پر چرچا کا سبب رہا ، چونکہ اس دوران ملک کے وزیراعظم اور امریکی صدر کی مشیرکار بیٹی کے بشمول 1000 سے زیادہ بیرونی ممالک کی اہم شخصیتیں شہر میں موجود تھے ۔ اس کی وجہ شہر کی کچھ سڑکیں کچھ دنوں کے لیے درست کی گئیں تھیں ۔ گذشتہ برسوں میں 5 روپئے میں کھانا کے انتظامات کو 150 مراکز تک دستیاب کروانے کا سہرا جی ایچ ایم سی کے نام ضرور رہا ۔ صفائی کے معاملہ میں جی ایچ ایم سی کوشش کررہا ہے ۔ 2016 میں کھلے مقامات پر کچرا سے پاک بنانے کی جو تحریک شروع کی گئی تھی وہ 2017 میں مکمل کامیاب نہیں رہی ۔ حالانکہ کچرے کے معاملہ میں کافی سدھار آیا ہے لیکن کھلے مکانات پر کچرا سے نجات اور گیلا و سوکھا کچرا کو الگ کرنے کے معاملہ میں جی ایچ ایم سی کو قابل اطمینان کامیابی اس سال بھی حاصل نہیں ہوئی ۔ لگ بھگ دو دہوں سے جاری چارمینار پیدل پراجکٹ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ۔

TOPPOPULARRECENT