جی ایچ ایم سی کے ترقیاتی پراجکٹس سست روی کا شکار

حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اگر کسی کام کی تکمیل کا وقت متعین کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا جائے کہ اس مدت میں کام مکمل کرلیے جائیں گے تو اب کوئی بھی جی ایچ ایم سی کے ان اعلانات پر بھروسہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے چونکہ بلدیہ نے جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیہ ص

حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اگر کسی کام کی تکمیل کا وقت متعین کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا جائے کہ اس مدت میں کام مکمل کرلیے جائیں گے تو اب کوئی بھی جی ایچ ایم سی کے ان اعلانات پر بھروسہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے چونکہ بلدیہ نے جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیہ صرف کام کی مدت کو طول دینے کے کام انجام دے رہی ہے اور بلدیہ تخمینی لاگت پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ کسی بھی کام کی تاخیر کے راست اثرات عوام پر بھی پڑتے ہیں چونکہ تعمیری و ترقیاتی کاموں میں تاخیر عوامی دشواریوں کا بھی سبب بنتی ہے ۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے دو ماہ قبل اس بات کا اعلان کیا تھا کہ تلسنکرات کے موقعہ پر ٹولی چوکی فلائی اوور کا افتتاح عمل میں آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قبل ازیں انہوں نے اپوگوڑہ میں زیر تعمیر فلائی اوور کے متعلق بھی اسی طرح کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے اعلان سیاسی وعدوں کی طرح ثابت ہورہے ہیں ۔ ٹولی چوکی فلائی اوور کی تعمیر میں پیدا شدہ رکاوٹیں دور ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے لیکن کام کی رفتار وہی سست ہونے کے باعث راہگیروں بالخصوص علاقہ کے تاجرین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ٹریفک مسائل کے حل کے لیے تعمیر کیا جانے والا یہ فلائی اوور کئی ٹریفک مسائل پیدا کررہا ہے ۔

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر کے ترقیاتی کاموں کے متعدد اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن ان اعلانات کو قابل عمل بنانے میں کوئی اہم پیشرفت نظر نہیں آرہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے جس طرح اعلانات پر انحصار کے ذریعہ عوام کو خوش کیا جارہا ہے اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بھی عوام کو خوش کرنے والے اعلانات کے ذریعہ ترقی کے خواب دکھائے جارہے ہیں ۔ میر عالم تالاب کے اطراف رنگ روڈ کی تعمیر کے علاوہ پارک کی ترقی کے اعلان کا حشر بھی کچھ ایسا ہی ہوا چونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے اس پراجکٹ کے متعلق بھی اپنے اعلانات میں اس کی عاجلانہ تکمیل کا وعدہ کیا تھا اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو بھی اس بات کی طمانیت دی گئی تھی کہ اس پراجکٹ کو 2014 کے اواخر تک مکمل کرلیا جائے گا لیکن اب 2015 میں داخل ہوئے 15 یوم کا عرصہ گزرنے کے باوجود جی ایچ ایم سی کے پراجکٹس کے موقف میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT