Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی کے حلقوں کی ازسرنو حدبندی، 200 حلقہ جات، ڈیویژنس کی تقسیم

جی ایچ ایم سی کے حلقوں کی ازسرنو حدبندی، 200 حلقہ جات، ڈیویژنس کی تقسیم

حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) بلدی حدود حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ازسرنو حد بندی کے بعد 200 بلدی حلقہ جات بنانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اِس سلسلہ میں اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ بلدی عہدیداروں نے 200 حلقہ جات کے سلسلہ میں تمام اُمور کو قطعیت دینے کا عمل شروع کردیا ہے اور بلدیہ میں تشکیل دیئے جانے والے اِن 200 بلدی

حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) بلدی حدود حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ازسرنو حد بندی کے بعد 200 بلدی حلقہ جات بنانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اِس سلسلہ میں اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ بلدی عہدیداروں نے 200 حلقہ جات کے سلسلہ میں تمام اُمور کو قطعیت دینے کا عمل شروع کردیا ہے اور بلدیہ میں تشکیل دیئے جانے والے اِن 200 بلدی حلقوں میں 35 ہزار سے کم رائے دہندوں کو رکھا جائے گا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں جملہ 5 زون ہیں اور زون واری اساس پر بلدیہ نے کارپوریٹر ڈیویژنس کی تقسیم کردی ہے۔ ساؤتھ زون میں جہاں 16 لاکھ 26 ہزار 271 رائے دہندے بلدیہ کی فہرست رائے دہندگان کے مطابق ہیں وہاں فی الحال 43 بلدی کارپوریٹرس کے حلقہ جات ہیں جبکہ اضافہ کے بعد ساؤتھ زون میں 51 بلدی حلقہ جات ہوجائیں گے۔ اِن 51 بلدی حلقہ جات میں بلدیہ نے 1572 مراکز رائے دہی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساؤتھ زون میں موجود 3 سرکلس میں مجموعی اعتبار سے 43 سے بڑھاکر 51 بلدی نشستیں ہوجائیں گی۔ اِسی طرح ایسٹ زون میں 11 لاکھ 22 ہزار 176 رائے دہندے فہرست رائے دہندگان میں شامل ہیں اور فی الحال ایسٹ زون میں صرف 17 بلدی حلقہ جات موجود ہیں جو اضافہ کے بعد 29 ہوجائیں گے۔ ایسٹ زون میں 1119 مراکز رائے دہی قائم کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ سنٹرل زون کے 4 سرکلس میں فہرست رائے دہندگان کے مطابق 20 لاکھ 22 ہزار 520 رائے دہندے موجود ہیں اور اِن 4 سرکلس میں فی الحال 50 بلدی حلقہ جات موجود تھے جنھیں بڑھاکر 56 بلدی ڈیویژنس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سنٹرل زون کے 4 سرکلس کے لئے بلدیہ نے 1925 مراکز رائے دہی قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ویسٹ زون میں بھی 4 بلدی سرکلس موجود ہیں لیکن اِن سرکلوں میں رائے دہندوں کی تعداد صرف 11 لاکھ 55 ہزار 173 ہے۔ فی الحال ایسٹ زون میں 14 بلدی حلقے موجود ہیں جوکہ اضافہ کے بعد دوگنے ہوجائیں گے یعنی ویسٹ زون میں نئے منصوبہ کے مطابق 28 بلدی نشستیں ہوں گی۔ نارتھ زون میں بھی 4 بلدی سرکلس موجود ہیں جن میں 13 لاکھ 59 ہزار 333 رائے دہندے شامل ہیں۔ فی الحال نارتھ زون میں 26 بلدی حلقہ جات تھے جبکہ اضافہ کے بعد اِن کی تعداد 36 سے تجاوز کرجائے گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق بلدی سرکلس 1 تا 18 کو 5 زونس میں تقسیم کرتے ہوئے جملہ 72 لاکھ 85 ہزار 473 رائے دہندوں کو 200 بلدی نشستوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں 7051 مراکز رائے دہی قائم کئے جانے کا امکان ہے جبکہ بلدی عہدیداروں نے جس اعتبار سے بلدی نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے اُس کے مطابق بلدی عہدیداروں نے فی بلدی نشست 33 ہزار 659 رائے دہندوں کے اعتبار سے بلدی حلقہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے سابقہ منصوبہ میں 39 ہزار 138 رائے دہندوں پر مشتمل بلدی حلقہ کی تیاری کا بھی منصوبہ تھا جس کے اعتبار میں 172 نشستیں بنائی جارہی ہیں لیکن بنیادی سہولتوں کی بہتر فراہمی اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی سہولت کی خاطر رائے دہندوں کی تعداد میں تخفیف کے ذریعہ بلدی حلقوں کو جوکہ فی الحال 150 ہیں بڑھاکر 200 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT