Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی کے 24 حلقوں کی بندربانٹ ‘حکومت اور جماعت میں فکسنگ

جی ایچ ایم سی کے 24 حلقوں کی بندربانٹ ‘حکومت اور جماعت میں فکسنگ

تلنگانہ میں معلق حکومت یا کانگریس کو اقتدار کا کوئی بھی موقع نہ چھوڑنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2014کے دوران جذبۂ تلنگانہ نے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو کامیابی سے ہمکنار کیا لیکن آئندہ انتخابات کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے جس سے پارٹی خوف و ہراس میں مبتلاء ہو چکی ہے۔تلنگانہ راشٹر سمیتی دیہی علاقوں میں زمینی حقائق سے آگاہ ہو لر دیہی علاقوں سے زیادہ شہری علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔تلنگانہ راشٹر سمیتی کو 2014 میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 24 حلقہ جات اسمبلی میں صرف تین پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ تلگو دیشم نے سب سے زیادہ 9حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس کے علاوہ مجلس کو 7 ‘ بی جے پی کو 5 حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن انتخابات کے بعد تلگو دیشم کے بیشتر ارکان کو تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرواتے ہوئے حیدرآباد میں اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کی گئی اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں بھی ٹی آر ایس کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اسی حکمت عملی کو برقرار رکھتے ہوئے اضلاع سے زیادہ شہری علاقو ں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کانگریس کو اقتدار سے دور رکھا جا سکے۔ دیہی علاقوں میں ٹی آر ایس کی گھٹتی مقبولیت کے سبب پارٹی نے تلگو دیشم کے شامل کئے گئے جی ایچ ایم سی حدود کے ارکان اسمبلی کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی مقصد کیلئے مقامی جماعت کو ساتھ رکھتے ہوئے انہیں 7نشستوں پر کامیابی میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا تیقن دیا جا رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ وہ شہری علاقوں بالخصوص حیدرآباد میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کم از کم 10تا15 نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنانے تعاون کریں حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ بی جے پی حیدرآباد میں اپنی نشستوں کو بچانے بھر پور کوشش کر ہی ہے وہیں کانگریس کی جانب سے خیریت آباد ‘ نامپلی‘ گوشہ محل‘ مہیشورم‘ ایل بی نگر‘ مشیرآباد کے علاوہ بعض دیگر حلقہ جات اسمبلی پر سخت مقابلہ کا امکان ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے 2014 اسمبلی انتخابات میں 63 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور فوری اپنے استحکام کیلئے مجلس کو ساتھ لے لیا تھا تاکہ حکومت کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ اس کے بعد کانگریس و تلگودیشم ارکان اسمبلی کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس ‘ سی پی آئی ‘ اور بی ایس پی کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے جماعت واری موقف میں تلنگانہ اسمبلی میں اپنی تعداد 82تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی لیکن ان میں عوامی منتخبہ صرف 63 ہیں جنہیں ٹی آر ایس امیدوار کی حیثیت سے عوام نے منتخب کیا تھا ۔ اس مرتبہ ٹی آر ایس کی مقبولیت میں کمی کے سبب پارٹی کو اضلاع سے 35تا40 ارکان کے انتخاب کی امید ہے کیونکہ کانگریس اور تلگو دیشم سے منتخب ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان کو ان کے حلقہ کے عوام دغا باز تصور کر رہے ہیں اور ترقیاتی کام نہ ہونے اور صرف اعلانات کے سبب ان کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے اس کے علاوہ جن ٹی آر ایس امیدواروں کو انہوں نے شکست دی تھی وہ امیدوار اپنے لئے ٹکٹ کے متمنی ہیں اسی لئے ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ان ارکان کو جو اپنی پارٹی چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں کامیاب کروانے ٹی آر ایس میں جدوجہد کے دوران شامل رہنے والے قائدین حصہ لیں گے۔ 2014 انتخابات میں ٹی آر ایس کو تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تائید حاصل تھی لیکن اس مرتبہ ٹی جے اے سی نے ٹی آر ایس کے خلاف مہم شروع کر دی ہے اور دیہی علاقوں کے عوام کی نبض کے مطابق جے اے سی کام کر رہی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں بشمول مجلس کم از کم 18 ارکان اسمبلی کو کامیاب بنانے حکمت عملی تیار کرہی ہے تاکہ اضلاع میں 40تا45نشستوں پر محنت کے ذریعہ کامیابی حاصل کرکے اقتدار برقرار رکھا جا سکے۔ بتایاجاتا ہے کہ جن علاقوں سے ٹی آر ایس کو کامیابی کی توقع بالکل بھی نہیں ہے ان میں مجلس کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور حیدرآباد میں حلقہ اسمبلی راجندر نگر میں مجلس کی کامیابی کے امکانات کو روشن بنانے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے کیونکہ راجندر نگر اسمبلی حلقہ میں موجودہ رکن کی کامیابی کو بی جے پی و تلگودیشم اتحاد کی مرہون منت تصور کیا جا رہا ہے اور پارٹی کا احساس ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس نشست پر کامیابی کے امکانات موہوم ہیں۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی نظریں کریم نگر ‘ ورنگل‘ نظام آباد ‘ عادل آباد کے علاوہ محبوب نگر کے شہری آبادیوں پر مشتمل حلقہ جات اسمبلی پر مرکوز ہیں اور ان حلقہ جات اسمبلی پر کامیابی کے ساتھ ساتھ برسراقتدار پارٹی کی اہم نشستوں میں افراد خاندان کی نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ 60نشستوں کے عدد کو پورا کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور اس حکمت عملی کے علاوہ اضلاع میں کسی ایک سیاسی جماعت کے حق میں رائے دہی نہ ہو سکے اس کیلئے بی جے پی کو بھی قدم جمانے کی کھلی چھوٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT