Monday , January 22 2018
Home / سیاسیات / جی ڈی پی کی شرح ترقی بہتر ہونے کی توقعات ، اندیشے برقرار

جی ڈی پی کی شرح ترقی بہتر ہونے کی توقعات ، اندیشے برقرار

نئی دہلی۔ 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی معیشت امکان ہے کہ 2014-15ء میں بہتر ہوکر اس کی شرح ترقی 5.4 فیصد سے 5.9 فیصد ہوجائے گی جو ناقص بارش اور پریشان کن خارجی ماحول کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے باعث ِ فکرمندی ہے۔ معاشی سروے کے بموجب شرح ترقی 2015-16ء کے بعد 7 تا 8 فیصد ہوسکتی ہے۔ سبسڈی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مالی ارتکاز ممکن ہوسکے۔ ٹ

نئی دہلی۔ 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی معیشت امکان ہے کہ 2014-15ء میں بہتر ہوکر اس کی شرح ترقی 5.4 فیصد سے 5.9 فیصد ہوجائے گی جو ناقص بارش اور پریشان کن خارجی ماحول کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے باعث ِ فکرمندی ہے۔ معاشی سروے کے بموجب شرح ترقی 2015-16ء کے بعد 7 تا 8 فیصد ہوسکتی ہے۔ سبسڈی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مالی ارتکاز ممکن ہوسکے۔ ٹیکس سے جی ڈی پی کی تناسب کی شرح میں معاشی ارتکاز کے لئے اضافہ ضروری ہے۔ 2014-15ء مالی سال میں سی اے ڈی کو جی ڈی پی کے 2.1 فیصد تک محدود کرنا ہوگا۔ ٹھوس فروشی کا افراطِ زر توقع ہے کہ 2014ء کے ختم تک معتدل ہوجائے گا۔ چلر فروشی کا افراطِ زر معتدل ہونے کے مستحکم اشارے دے رہا ہے۔ غذائی سے غیرغذائی افراطِ زر کو حسب معمول نگران کار پالیسی کے چوکٹھے کے ذریعہ قابو میں کیا جاسکے گا۔ مالیاتی قلت بہتر تحریکوں اور اصلاحات کے ذریعہ قابو میں کی جاسکتی ہیں۔ سادہ ٹیکس نظام اپنانا ہوگا اور بہت کم استثنیٰ دینے ہوں گے۔ موجودہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی قوانین کی جگہ زیادہ صاف ستھرے اور عصری قوانین پر عمل آوری ضروری ہوگی۔ سرمایہ کا خرچ کم کرنا معیشت کے لئے بہتر نہیں ہوتا۔ سیاسی انتظامیہ نے تبدیلیاں کرنا ضروری ہوں گی۔ مالی شعبہ میں نمایاں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نیا ایف آر بی ایم قانون جو بااختیار بھی ہو، منظور کرنا ہوگا۔ حکومت کو کم لیکن مستحکم افراط زر کی سمت مالیاتی ارتکاز کے ذریعہ پیشرفت کرنی ہوگی۔ آر بی آئی کی بیرونی زر مبادلہ منڈی میں مداخلت سے ذخائر عام طور پر مرتکز ہونے کا مسئلہ پس پشت ہوجاتا ہے۔ روپئے کی قدر مستحکم ہوچکی ہے۔ بحیثیت مجموعی بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر اطمینان بخش ہیں اور سرمایہ منڈیاں مستحکم ہیں۔ انفرا پراجیکٹ کے لئے وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہر شعبہ میں مقررہ نشانوں کی تکمیل میں مشکل ہورہی ہے۔ برآمدات کمزور ہیں اور عراق کا بحران ملک کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ ہندوستانی مقننہ کاروباری ضروریات پر غالب ہے۔ اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کاروباری ماحول بہتر بنانا چاہئے اور اہم فیصلے انسپکٹرس سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں تک ہر ایک کو کرنا چاہئے۔ قوانین پر دوبارہ نظر ثانی ضروری ہے تاکہ حکومت کو بازاروں میں دخل اندازی کا اختیار حاصل ہوسکے۔ ایف ای ایم اے قانون کے تحت سرمایہ پر قابو پانے سے تیز رفتار عالمیانے کا شکار معیشت کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔ بینکنگ کا شعبہ عالمی اور اندرون ملک انحطاط سے متاثر ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT