Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / جی ۔ 20کانفرنس میں نریندرمودی کی پاکستان پر شدید تنقید

جی ۔ 20کانفرنس میں نریندرمودی کی پاکستان پر شدید تنقید

لشکر طیبہ اور جیش محمد بھی داعش اور القاعدہ کی طرح خطرناک ، دہشت گردی کا ساتھ دینے والے ممالک کیخلاف اقدامات ضروری

ہمبرگ ۔ /7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے دہشت گروپ جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کی طرح خطرناک قرار دیا ۔ انہوں نے دہشت گردی کی تائید کرنے والے ممالک کے خلاف عالمی سطح پر سخت کارروائی کرنے کی وکالت کی ۔ نریندر مودی یہاں G-20 چوٹی کانفرنس میں دہشت گردی کے موضوع پر خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 11 نکاتی ایکشن پلان کو بھی پیش کیا ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی تائید کرنے والے ممالک سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ۔ وزارت خارجہ امور کے ترجمان گوپال بگلے نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے وقت کے سنگین مسائل میں سے اس ایک مسئلہ کو اٹھایا ۔ مشتبہ دہشت گردوں کی قومی فہرستوں کے تبادلے کے مطالبہ کے علاوہ ایسے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر زور دیا ۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل بنیاد مختلف ناموں سے مضبوط ہورہی ہے ۔

مشرق وسطیٰ میں آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ سرگرم ہیں تو جنوبی ایشیاء میں لشکر طیبہ ، جیش محمد اور حقانی نٹ ورک سرگرم ہے ۔ نائجیریا میں بوکوحرم کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ اس طرح سے دہشت گردی سے مربوط کئی نام اور بھی ہیں ۔ ان گروپوں کا بنیادی نظریہ نفرت اور قتل و غارت گری ہے ۔ بعض ممالک دہشت گردی کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں ۔ نریندر مودی نے دہشت گردی کی اس لعنت سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کارروائیاں کمزور پڑرہی ہیں ۔ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے اقوام کے اندر کوئی نیٹ ورک کام نہیں کررہا ہے ۔ حرکیاتی ایجنڈہ کے طور پر وزیراعظم نے تجویز پیش کی کہ جو ممالک دہشت گردی کی تائید کررہے ہیں ان کے خلاف سخت اقدامات کرنا چاہئیے ۔ دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے وسائل کو بند کردینا چاہئیے ۔ دہشت گردوں کی جانب سے سائبر اسپیس کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور نوجوانوں کو مشتعل کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد کارروائیوں میں بھرتی کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ دہشت گرد سرگرمیوں سے نمٹنے کیلئے ان کے ٹھکانوں کو ختم کیا جانا چاہئیے ۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادیں قابل عمل بن سکتی ہیں ۔ مودی نے دہشت گردی کی امداد پر فینانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کو موثر طریقہ سے عمل آوری کی وکالت کی ۔ قبل ازیں انہوں نے بریکس ممالک کے احتجاجی اجلاس میں شرکت کی اور جی۔ 20 اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی مالی مددکرنے والوں کے خلاف اجتماعی کارروائی کریں ۔

TOPPOPULARRECENT