جی ۔20مذاکرات:ایجنڈہ کے دو اہم نکات ٹرمپ کے منفی رویہ کی نذر

بیونس آئرس،3دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) ارجنٹائنا میں ہونے والے جی 20 مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں عالمی تجارت سے خامیاں دور کرنے پر اتفاق ہوا جب کہ ایجنڈے میں شامل دو اہم نکات امریکی صدر کے منفی رویے کی نذر ہوگئے جس کے باعث اعلامیہ جاری ہونے میں بھی تاخیر ہوئی۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی اقتصادیات کے حامل ممالک کی تنظیم جی- 20کے سربراہان کا اجلاس ارجنٹائن کی راجدھانی بیونس آئرس میں ختم ہوگیا۔ سمٹ کا اعلامیہ تاخیر سے جاری کیاگیا، اعلامیہ میں ایجنڈے میں شامل دو اہم نکات شامل نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانفرنس کے دوران دو اہم نکات عالمی تجارت کا مستقبل اور ماحولیات میں تبدیلی پر اپنی رائے کو کانفرنس میں شامل رہنماؤں کے سامنے پیش کرنے سے انکار کردیا جس کے باعث یہ دونوں نکات اعلامیہ کا حصہ نہیں بن سکے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل، انفرا اسٹرکچر کی تشکیل، خوراک کی کمی سے متعلق مسائل سے نمٹنے اور صنفی امتیاز سے متعلق حکمت عملی طے کرنے پر زور دیا گیا جبکہ عالمی تجارت میں خامیاں دور کرنے پر اتفاق اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔ شرکاء اس بات پر متفق ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن(ڈبلیو ٹی او) تجارتی تنازعات نمٹانے میں ناکام ہو رہی ہے ۔دوسری جانب جی- 20 مذاکرات کی سائیڈ لائن ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ اور چینی ہم منصب کے درمیان تجارتی معاملات طے پاگئے جب کہ ترکی نے سعودی عرب سے صحافی خشوگی کے قتل میں ملوث افراد کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا اور کینیڈا نے بھی صحافی کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔بیونس آئرس میں محمد بن سلمان سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گرم جوشی سے ملاقات کی اور تیل کے حوالہ سے ان سے ایک معاہدہ بھی کیا۔ترک صدر طیب اردغان نے بھی جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی تاہم وہ سیشن میں سعودی ولی عہد سے گرم جوشی سے نہ ملے اور بعد ازاں ان پر تنقید کی جو جمال خشوگی کے حوالے سے ترک صدر کا ان پر براہ راست پہلا بیان تھا۔طیب اردغان کا کہنا تھا کہ جی 20 سربراہی اجلاس میں سوائے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے علاوہ کوئی اور عالمی رہنما نے جمال خشوگی کے قتل کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے خود بھی سیشن کے دوران اس معاملہ کو نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ سعودی شاہی خاندان کو اس حوالے سے کوئی نقصان پہنچانے کی خواہش نہیں ہے تاہم انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔سعودی ولی عہد کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس کے دوران ولی عہد نے جمال خشوگی کے قتل کے حوالہ سے عالمی رہنماؤں کو بظاہر ایک ‘ناقابل یقین وضاحت’ دیتے رہے ۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ولی عہد نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ‘‘جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا آپ سعودی عرب کومجرم ثابت نہیں کرسکتے ’’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘‘بالکل ایسا قانونی نقطہ نظر سے درست ہو لیکن ان کے اپنے عہدیدار یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ ایک سوچھی سمجھی کارروائی تھی’’۔خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں ان کے قونصل خانے میں جمال خشوگی کے قتل کے بعد ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں منعقدہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے اس واقعے کے بعد پہلی مرتبہ عالمی رہنماؤ ںسے ملاقات کی۔

TOPPOPULARRECENT