جے ایس پی اور سی پی ایم کے مابین انتخابی مفاہمت

حیدرآباد۔/16اپریل، ( پی ٹی آئی) آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی جئے سمکھیا آندھرا پارٹی ( جے ایس پی ) نے سیما آندھرا میں 7مئی کو ہونے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کیلئے سی پی آئی ایم سے انتخابی مفاہمت کی ہے۔ جس کے مطابق جے ایس پی 18اسمبلی اور 2لوک سبھا حلقوں میں سی پی آئی ایم کی تائید کرے گی اور مابقی حلقوں میں بائیں بازو کی یہ جماعت جے ایس پی کی تائید کرے گی۔ جے ایس پی کے صدر کرن کمار ریڈی نے آج شام یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سی پی آئی ایم نے ہمیشہ ہی آندھرا پردیش کی تقسیم کے خلاف واضح موقف اختیار کیا۔ اس نے دستور کی دفعہ 3میں ترمیم کی تائید بھی کی تھی جس کے ذریعہ مرکز کو ریاستوں کی تقسیم کا اختیار حاصل ہے۔ چنانچہ ہم نے سی پی آئی ایم سے مفاہمت کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

چندرا بابو نائیڈو ہی نیا دارالحکومت
بناسکتے ہیں: لوکیش
کڑپہ۔/16 اپریل، ( پی ٹی آئی) تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کے فرزند نارا لوکیش نے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے آج کہا کہ ان کے والد ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو سیما آندھرا میں آئندہ 10سال کے دوران ایک نیادارالحکومت بنانے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ لوکیش نے بدویل، میدکور اور پروداٹور میں روڈ شوز میں حصہ لیا اور جلسوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد نئی ریاست میں صرف تلگودیشم پارٹی ہی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی اور کانگریس کے مابین خفیہ ساز باز ہے۔ لوکیش نے کہا کہ جگن اپنے آبائی ضلع کڑپہ کو ترقی دینے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT