Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جے این ٹی یو کالج میں 1141 طلبہ ‘صرف 4 پروفیسرس

جے این ٹی یو کالج میں 1141 طلبہ ‘صرف 4 پروفیسرس

معمولی خامیوں پر خانگی اقلیتی کالجس کے خلاف کارروائی ‘ سرکاری کالجس پر توجہ نہیں

معمولی خامیوں پر خانگی اقلیتی کالجس کے خلاف کارروائی ‘ سرکاری کالجس پر توجہ نہیں
حیدرآباد 16 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں خانگی پروفیشنل تعلیمی اداروں پر حکومت کی گہری نظر ہے اور حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط کو پورا نہ کرنے کا الزام عائد کرکے سال گزشتہ 143 تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی لیکن حکومت کی نظریں شائد سرکاری پروفیشنل کالجس پر نہیں ہیں چونکہ حکومت کی نگرانی میں چلنے جے این ٹی یو کالج آف انجینئرنگ منتھانی میں 1141 طلبہ کیلئے صرف 4 پروفیسرس کی خدمات دستیاب ہیں ۔ قانون حق آگہی کے تحت داخل کردہ درخواست میں پرنسپل جے این ٹی یو کالج انجینئرنگ منتھانی ڈاکٹر آر مارکنڈیا نے انکشاف کیا کہ کریم نگر کے اس معروف کالج میں بی ٹیک ، سیول ، سی ایس ای، ای ای ای ، میکانیل اور مائننگ میں جملہ 1141 طلبہ زیرتعلیم ہیں جن کیلئے 4پروفیسرس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جن میں ایک پروفیسر ای ای ای ، کے علاوہ ایک پروفیسر توانائی کی شعبہ کی تدریسی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ ایک اسسٹنٹ پروفیسر سی ایس ای اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر میکانیکل کی ذمہ داری نبھارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں 2 نان ٹیچنگ اسٹاف خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تفصیلات پرنسپل کالج نے جناب محمد یونس ساکن جگتیال کے دریافت کردہ سوالات کے جواب میں روانہ کی ہیں جوکہ Lr.No.JNTU HCEM/RTI/83/2014/593 میں محفوظ ہیں ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال گزشتہ جن 143 کالجس کے خلاف قواعد کے مطابق درکار تدریسی عملہ نہ ہونے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی تھی ان کالجس کو سلسلۂ تعلیم جاری رکھنے اور داخلے حاصل کرنے کی اجازت سپریم کورٹ کے احکام کے بعد حکومت کی جانب سے دی گئی تھی ان اجازت ناموں کے حصول کے ساتھ جو شرائط رکھے گئے تھے ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی کمیٹی کے ذمہ داران پر مشتمل ایک وفد کی تشکیل کے ذریعہ کالجس میں سہولیات کے علاوہ درکار تدریسی عملہ کی موجودگی کی تنقیح کروانے کی ہدایت دی گئی تھی اور ان احکامات کے مطابق حکومت نے بٹس پلانی اور آئی آئی ٹی میں سرکردہ عہدوں پر فائز ماہرین تعلیم کے ذریعہ ان کالجس کا معائنہ کروایا اور رپورٹ حاصل کی جس میں بیشتر کالجس بالخصوص اقلیتی تعلیمی ادارۂ جات میں معمولی خامیاں پائی گئیں جس کی بنیاد پر کالج کا الحاق ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن تدریسی عملہ کے تقرر کے معاملہ میں تقریباً تمام کالجس کا معائنہ کیا جن کے الحاق کو خْتم کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے ۔ بعض کالجس کے ماہرین تعلیم کی ان ٹیموں نے ایک سے زائد مرتبہ دورہ کرکے تفصیلات اکٹھا کی اور رپورٹ حکومت و کونسل برائے اعلیٰ تعلیمات کے علاوہ جواہر لعل نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ارباب مجاز کے حوالے کی لیکن رپورٹ کے حصول کے بعد بھی حکومت کالجس کو دوبارہ ان ہی بنیادوں پر الحاق نہ دینے پر بضد ہے جن بنیادوں کو مسترد کرکے سپریم کورٹ نے کالجس کو داخلوں کی اجازت فراہم کرکے خامیوں کو دور کرنے ہدایت دی تھی ۔ خانگی کالجس میں خامیوں کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کرنے والی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے کالج میں درکار تدریسی عملہ نہ ہونے پر کون کارروائی کریگا ؟ علاوہ ازیں حکومت آخر کیوں ان پروفیشنل کالجس بالخصوص اقلیتی خانگی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ماہرین تعلیم کی جانب سے خامیوں کو درست کرلئے جانے کی رپورٹ پیش کی جاچکی ہے ۔ بعض کالجس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کررہی ہے چونکہ طلبہ کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت فیس تو ادا نہیں کرے گی جبکہ کالجس کو ہراسانی سے ادارے بند ہوجانے کی صورت میں ہزاروں طلبہ کو جو فیس باز ادائیگی سے استفادہ کرتے ہوئے داخلے حاصل کررہے ہیں انھیں داخلوں سے محروم ہونا پڑے گا اور جب داخلہ ہی نہیں ملے گا تو ایسی صورت میں فیس باز ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT