Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / جے این یو سے بی ایچ یو

جے این یو سے بی ایچ یو

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
جے این یو سے بی ایچ یو
مرکز کی نریندر مودی حکومت میں یونیورسٹی کے طلباء کو شدید نشانہ بنایا جانے کاسلسلہ جاری ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے لیکر بنارس ہندو یونیورسٹی یاحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طلباء پر زیادتیوں کی خبریں افسوسناک ہیں۔ تازہ تشدد ا ور جھڑپیں ، پولیس زیادتیوں میں بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات متاثر ہوئی ہیں۔ کیمپس میں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور دست درازی کے بڑھتے واقعات کے خلاف طالبات نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کرکے نمائندگی کی کوشش کی تھی مگر ان پر پولیس نے طاقت کااستعمال کرکے طالبات کے احتجاج کو تشدد میں تبدیل کرنے کی غلطیوں کا ارتکاب کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حلقہ لوک سبھا وارانسی میں کشیدگی کو سیاسی رنگ دینے کاالزام بھی مرکزی حکمراں طاقت کی فاش غلطی کہلائے گی کیوں کہ کیمپس میں طالبات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کانوٹ لینے کے بجائے اگر یونیورسٹی کے دمہ داروں اور حکومت اس واقعہ کو محض سیاسی نوعیت کی کہانی قرار دے کر اپنی خرابوں کی پردہ پوشی کرے گی تو اس کو آگے چل کر طلباء کی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یونیورسٹی طالبات وائس چانسلر جی سی ترپاٹھی سے مایوس ہوگئیں تھے جنھوں نے ان سے ملاقات کا وعدہ کرکے ملنے سے انکار کردیا تھا ۔ یہ طالبات خود پر ہونے والی زیادتیوں اور یونیورسٹی حکام کی بے حسی اور لاپرواہی کے خلاف پرامن احتجاج کررہی تھیں ۔ طالبات پر پولیس لاٹھی چارج مودی حکومت کے ساتھ ساتھ اُترپردیش کی ادتیہ ناتھ یوگی حکومت کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ یوپی میں جب سے آدتیہ ناتھ کی حکومت آئی ہے عوامی مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ اب وارانسی میں قدیم بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباء بھی پولیس زیادتیوں سے محفوط نہیں رہے ۔ پولیس راج کے ذریعہ عوام کا جینا حرام کرتے ہوئے حکمرانی کے فرائض انجام نہیں دیئے جاسکتے۔ ان لڑکیوں نے کیمپس میں چھیڑ چھاڑ کی شکایت کو اخلاقیات کا مسئلہ قرار دیا ہے ۔ طلباء کے احتجاج کو سیاسی مقصد براری قرار دے کر یونیورسٹی نظم و نسق نے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش اور اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام حرکت کی ہے ۔ طلباء کے پرامن احتجاج کو قوم دشمنی کا نام دے کر مسئلہ کو مزید دھماکو بنانے کیلئے غیرذمہ دارانہ رول ادا کیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اس لوک سبھا حلقہ کا دورہ کیا تھا عین ان کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی طالبات کے احتجاج کو سیاسی زاویہ سے دیکھنے والے بدبختانہ رویہ اختیار کرچکے ہیں جو کسی بھی طرح طلباء کے حقوق کے برعکس ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنی حکومت میں طالبات کے تحفظ میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کا’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘ کا نعرہ اس واقعہ کے تناظر میں اہمیت کھودیتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں اس طرح کے واقعات کے بعد بنیادی سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آیا مودی حکومت میں کوئی’’سسٹم‘‘ کام کررہا یا صرف لفاظی کے ذریعہ حکمرانی کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر اُترپردیش کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ یوگی نے ایک پرامن ماحول دینے کا وعدہ کیا تھا اور ریاست میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے رومیو اسکواڈ بھی بنایا تھا۔ پولیس کو کامل اختیارات دیتے ہوئے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کو روکنے کی ہدایت بھی دی تھی لیکن بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات کا احتجاج اس حکومت کی ناقص کارکردگی کو عیاں کرتا ہے ۔ سیاسی قیادت کے غلط فیصلوں سے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یونیورسٹی میں ہونیو الے واقعات کو قوم دشمن سے مربوط کرکے مودی حکومت اور اس کا ریاستی نظم و نسق ایک بھیانک غلطی کررہا ہے جو طالبات اپنے عزت نفس کیلئے احتجاج کررہی تھیںان کو قوم دشمنی میں ملوث کرنے کی کوشش اپنی خرابیوں اور ناکامیوں کی پردہ پوشی کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی ۔ اس تناظر میں اگر بنارس ہندو یونیورسٹی کے طالبات کی شکایات کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جنسی ہراسانی اور طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ نہیں بلکہ طالبات کے تعلیمی مستقبل کو تباہ کرنے والے واقعات ہیں۔ مودی حکومت کو طالبات پرلاٹھی چارج کرنے کے واقعہ کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے۔ عوام کے مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کا عزم رکھنے والے وزیراعظم کو ملک کے طلباء و طالبات کے مسائل کو نظرانداز کرنے اور تعلیمی اداروں کو تشدد کے مراکز میں تبدیل کرنے کے واقعات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وزیراعظم مودی ایک طرف خواتین ، بچوں اور طلباء کے مستقبل کو بہتر بنانے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے ہی حلقہ لوک سبھا کی یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے بجائے ان پر پولیس لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ ا سطرح کے واقعات مستقبل میں مزید تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT