Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / جے این یو طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کو شرمناک شکست

جے این یو طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کو شرمناک شکست

مسترد کردینے کے نظریہ کی کامیابی ‘ مرکزی وزیر رجیجو کا ردعمل
نئی دہلی ۔11ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بائیںبازواتحاد نے آج جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں آر ایس ایس کے طلبہ شعبہ اے بی وی پی کو زبردست شکست دی ۔ بائیں بازو کے الحاق رکھنے والے گروپس کی اے بی وی پی سے سخت مسابقت تھی ۔ دونوں کے نظریات متضاد ہیں ۔ یونیورسٹی کے احاطہ میں 9فبروری کے جلسہ عام میں قوم دشمن نعرہ بازی کرنے کا اے بی وی پی نے الزام عائد کیا تھا ‘ جس کے نتیجہ میں تین طلبہ بشمول یونین سے سبکدوش ہونے والے صدر کنہیا کمار کو غداری کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا تھا ۔ پہلی بار سی پی آئی ( ایم ایل ) کے طلبہ شعبہ کُل ہند طلبہ اسوسی ایشن ( اے آئی ایس اے ) کے رکن طالب علم نے ثابت کردیا کہ اُسے برسوں سے یونیورسٹی کے احاطہ میں زبردست اثر و رسوخ حاصل ہے ۔ اس نے سی پی آئی ایم کے طلبہ شعبہ ایس ایف آئی سے اتحاد کیا تھا ۔ اس اتحاد نے 31 نشستوں میں سے 30نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ اے بی وی پی کو صرف شعبہ سنسکرت کی ایک نشست حاصل ہوئی ۔ بایاں بازو اتحاد نے برسا امبیڈکر پھولے اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن سے سخت مقابلہ کیا ‘ جو صدارتی عہدہ کے انتخابات میں دوسرے مقام پررہی ‘ جب کہ اے بی وی پی نائب صدر اور جنرل سکریٹری کے عہدہ کی مسابقت میں دوسری رنر ثابت ہوئی ۔

بایاں بازو اتحاد کے موہت پانڈے کو طلبہ یونین کا صدر منتخب کرلیا گیا ۔ برسا امبیڈکر گروپ کو 409ووٹوں کی اکثریت سے ناکامی ہوئی ۔ دیگر تنظیموں نے انتخابات کیلئے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے تاہم ان سب کو قابل نظرانداز ووٹ حاصل ہوئے ۔ 1140طلبہ نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ کسی نے بھی ’’نوٹا‘‘ کا بٹن نہیں دبایا ۔ ستپورٹا چکرورتی واحد لڑکی امیدوار ہے جس نے 2424ووٹ حاصل کر کے جنرل سکریٹری کے عہدہ کیلئے امیدوار وجئے کمارکو 1094 ووٹوں سے شکست دی ۔ یونیورسٹی کے احاطہ میں نتائج کے اعلان کے فوری بعد جشن منایا گیا اور آزادی کے نعرے لگائے گئے ۔ ایک دوسرے کے چہروں پر گلال لگایا گیا ۔ کنہیا کمار نے اپنے جانشین کو مبارکباد پیش کی ۔مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اس کامیابی کو مسترد کردینے کی نظریہ کی کامیابی قرار دیا ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بائیں بازو کے قائدین نے مسترد کردینے کے نظریہ کو رومانوی رنگ دے دیا تھا ۔ چار کلیدی عہدوں پر بائیں بازو اتحاد کے امیدواروں نے قبضہ کرلیا ہے ۔ اے بی وی پی صرفایک عہدہ حاصل کرسکی ‘ اس سے مسترد کردینے کے نظریہ کی کامیابی ثابت ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT