Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / جے این یو میں مودی اور امیت شاہ کے پتلے نذر آتش

جے این یو میں مودی اور امیت شاہ کے پتلے نذر آتش

یونیورسٹی انتظامیہ کے تحقیق کے حکم پر طلباء کا ردعمل
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ملک بھر میں دسہرہ کے موقع پر راون کے پتلے کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ، ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے چہرے لگاکر جلائے جارہے تھے ۔ اس وقت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلباء ایک سیکشن وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کو راون کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے پتلا نذر آتش کیا ۔ باور کیا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتہ حکومت گجرات ، اور گاؤرکھشک کے پتلے جلانے کے واقعہ کی تحقیقات اور وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے یونیورسٹی کے فیصلے کے خلاف طلباء کا یہ ردعمل تھا ۔ کانگریس سے وابستہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے کارکنوں نے مودی کی شکل میں راؤن کا پتلا نذر آتش کر کے دسہرہ تہوار منایا ۔ ادعا کیا کہ یہ احتجاج وعدوں کی تکمیل میں مرکز کی خلاف ورزی اور ملک میں مختلف تعلیمی اداروں پر حملوں ( نشانہ ) کے خلاف ہے ۔ طلباء نے مودی اور شاہ کے علاوہ یوگا گرو رام دیو ، سادھو پرگیہ ، ناتھو رام گوڈسے ، آشارام باپو اور وائس چانسلر جے این یو جگدیش کمار کے پتلے بھی نذر آتش کیے ۔ اس موقع پر طلباء یہ پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے کہ بدی پر نیکی کا غلبہ ہو ، این ایس یو آئی کارکن سنی ڈیمن نے بتایا کہ حکومت سے ناراضگی کے اظہار کے لیے یہ پتلے نذر آتش کیے گئے ہیں تاکہ حکومت میں سے بدی طاقتوں کا صفایا اور موافق طلباء اور عوام نظام قائم کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں برسر اقتدار حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انتخابی وعدے ہنوز کاغذ پر ہیں اور صرف دھواں دھار تقاریر کی جارہی ہیں اور جب بھی طلباء اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں یونیورسٹی انتظامیہ ، تادیبی کارروائی کے ذریعہ نشانہ بناتا ہے اور حکومت کی ایماء پر طلباء کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مذکورہ پتلے ، جے این یو کیمپس میں سرسوتی دھابہ کے قریب نذر آتش کیے گئے ۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ اس خصوص میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT