Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / جے این یو ہاسٹل پر اچانک دھاوے، کمروں کی تلاشی

جے این یو ہاسٹل پر اچانک دھاوے، کمروں کی تلاشی

آر ایس ایس، بی جے پی پر طالبات کو فاحشہ قرار دینے کا الزام، طلبہ کا احتجاج
نئی دہلی ۔ 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ہاسٹل پر حکام نے آج رات کے آخری پہر دھاوے کرتے ہوئے کئی کمروں کی اچانک تلاشی لی، جس کے نتیجہ میں وہاں مقیم طلبہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی کے اسکالرس بالخصوص خواتین کا کردار مسخ کرنے کے مقصد سے یہ کارروائی کی گئی۔ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ ایک لکچرر کی قیادت میں سیکوریٹی اہلکاروں کے ایک گروپ نے طلباء و طالبات کے کمروں میں زبردستی گھس کر غیر ضروری تلاشی لی۔ بعض اخبارات نے اس کارروائی پر یہ سرخی لگائی کہ ’کئی لڑکیاں‘ لڑکوں کے روم میں پائی گئیں‘‘۔ اسٹوڈنٹس یونین کے سابق جنرل سکریٹری ستروپا چکرورتی نے کہا کہ کئی وارڈنس صبح 5 بجے اچانک کمروں میں گھس گئے۔ داخلے سے قبل دروازہ کھٹکھٹایا نہیں گیا تھا۔ اس وقت کئی طلبہ محوخواب تھے اور الماریاں کھلی تھیں۔ یونیورسٹی قواعد کی خلاف ورزی کے نام پر جرمانے عائد کئے گئے۔ طلبہ یونین کے جنرل سکریٹری دگی رالہ سری کرشنا نے کہا کہ گذشتہ سال یہ کہانیاں گشت کروائی گئی تھیں کہ جے این یو میں روزانہ 3000 استعمال شدہ کنڈومس برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آر ایس ایس۔ بی جے پی حکومت ’’جے این یو بند کرو مہم‘‘ کے تحت خواتین اور طالبات کو جسم فروشی فاحشہ قرار دیتے ہوئے اور کنڈومس کی دستیابی کی جھوٹی کہانیاں پھیلاتے ہوئے جے این یو جیسے قومی ادارہ کے وقار اور کردار کو تباہ و برباد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ اس یونیورسٹی ہاسٹل میں لڑکے اور لڑکیوں کے قیام کے علحدہ مقامات ہیں اور حتیٰ کہ ڈائننگ ہالس میں بھی وہ یکجا نہیں ہوسکتے۔ جے این یو ٹیچرس اسوسی ایشن کی صدر عائشہ قدوائی نے اس کارروائی کو ’’سماجی دہشت گردوی‘‘ قرار دیا۔

 

TOPPOPULARRECENT