Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ج25 جنوری سے قبل برقی شرحوں میں اضافہ کی سفارشات

ج25 جنوری سے قبل برقی شرحوں میں اضافہ کی سفارشات

برقی کے تمام زمروں میں اضافہ یقینی ، حکومت کا قطعی فیصلہ باقی
حیدرآباد۔13جنوری (سیاست نیوز) برقی شرحوں میں اضافہ کی تجاویز 25جنوری سے قبل الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو تفویض کردی جائیں گی۔ ریاست تلنگانہ میں موجود دونوں ڈسکامس تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹربیوشن کمپنی لمیٹیڈ اور تلنگانہ اسٹیٹ نارتھن پاؤر ڈسٹربیوشن کمپنی لمیٹیڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ سرمائی سیشن کے اختتام کے فوری بعد چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے برقی سربراہ کرنے والے اداروں کے اخراجات اور آمدنی میں فرق پر تبادلہ خیال کیا جائے تاکہ اس مناسبت سے برقی شرحوں میں اضافہ کے متعلق تجاویز کی تیاری کو ممکن بنایا جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں برقی شرحوں میں اضافہ کا قطعی فیصلہ کرلیا گیا ہے لیکن اس سلسلہ میں تاحال تجاویز کی تیاری عمل میں نہیں لائی گئی جس کے سبب تاخیر ہورہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ برقی کمپنیوں نے تمام زمروں میں برقی شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے سبسیڈی کے اعلان کی صورت میں زرعی اور گھریلوبرقی شرحوں میں کمی واقع ہوتی ہے اسی لئے حکومت کی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی تجاویز کو قطعیت دیئے جانے کا امکان ہے۔ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو تجاویز روانہ کردی گئی ہیں لیکن اس میں سبسیڈی اوررعایتی برقی شرحوں کے زمروں کے متعلق تفصیلات موجود نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے اس سلسلہ میں تاحال کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ٹی ایس این پی ڈی سی ایل کے اعلی عہدیدار کے بموجب حکومت سے مشاورت کے بعد برقی شرحوں میں اضافہ کی تجویز روانہ کی جائیں گی اور ان تجاویز پر ای آر سی کی جانب سے عوامی سماعت کے انعقاد کے بعد شرحوں میں اضافہ کا قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے بموجب گھریلو برقی شرحوں میں معینہ حد تک اضافہ نہ کئے جانے کا منصوبہ ہے ۔ محکمہ برقی کے عہدیداروں کے بموجب دونوں ڈسکامس کے محکمہ اکاؤنٹس کے عہدیدار ان دونوں کمپنیوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے اگر حکومت کی جانب سے سبسیڈی میں اضافہ کیا جاتا ہے تو محدود برقی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیلئے برقی شرحوں میں اضافہ نہیں ہوگا اور اگر حکومت کی جانب سے زرعی و گھریلو صارفین کو فراہم کی جانے والی سبسیڈی میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے تو مجموعی اعتبارسے تمام زمروں کے برقی شرحوں میںاضافہ کا خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT