Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / حافظ سعید۔ ویدک ملاقات سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں

حافظ سعید۔ ویدک ملاقات سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں

نئی دہلی ۔ 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج ہندوستانی صحافی کی 26/11 دھماکوں کے مبینہ طور پر ذمہ دار حافظ سعید سے ملاقات کے مسئلہ پر حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اس ملاقات کی مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن سے رپورٹ طلب کی ہیکہ وہ اس معاملہ سے باخبر تھا یا نہیں۔ آج دوسرے د

نئی دہلی ۔ 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج ہندوستانی صحافی کی 26/11 دھماکوں کے مبینہ طور پر ذمہ دار حافظ سعید سے ملاقات کے مسئلہ پر حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اس ملاقات کی مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن سے رپورٹ طلب کی ہیکہ وہ اس معاملہ سے باخبر تھا یا نہیں۔ آج دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ چھایا رہا اور اپوزیشن نے جرنلسٹ وید پرتاب ویدک کی ملاقات کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے۔ یہ صحافی بی جے پی کے حامی اور یوگا گرو رام دیو کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے یہ دعویٰ کیا ہیکہ اس ملاقات کے بارے میں ہر دن نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر کئی مرتبہ ایوان کی کارروائی متاثر رہی اور دونوں ایوانوں کو بار بار ملتوی کرنا پڑا۔ کل یہ موضوع پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے کے بعد سے اب تک کارروائی میں خلل پیدا ہورہا ہے۔ وزیرامور خارجہ سشماسوراج نے راجیہ سبھا میں کہا کہ حکومت ہند وید پرتاب ویدک کی اس ملاقات کو بالکلیہ نامنظور کرتی ہے۔

حکومت ممبئی دہشت گرد حملوں کے کلیدی ملزم کے ساتھ اس ملاقات کی مذمت بھی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملاقات سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں اور وہ کوئی بھی بات مخفی رکھنا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ پاکستان میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن سے مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے اور اسے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ جواب اس وقت دیا جب اپوزیشن ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی خاموشی سے یہ سوال ابھر رہا ہیکہ اسلام آباد میں ہندوستانی مشن کیوں واقف نہیں تھا۔ ارکان نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا ویدک کے خلاف کوئی کارروائی کی جارہی ہے۔ سشماسوراج نے لوک سبھا میں کہا کہ حکومت کا اس ملاقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام بالکلیہ غلط اور بے بنیاد ہیکہ حکومت نے اس صحافی کی حافظ سعید سے ملاقات کا اہتمام کروایا تھا۔ وہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہی ہیں کہ اس ملاقات سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویدک نے حکومت کو پاکستان کے دورہ اور حافظ سعید سے ملاقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ یہ ان کی خانگی اور نجی ملاقات تھی۔

سشماسوراج نے کہا کہ حکومت بھی اپوزیشن ارکان کی طرح اس ملاقات سے لا علم تھی اور میڈیا کے ذریعہ ہی سب کو اس کا علم ہوا۔ وزیرامور خارجہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ہندوستانی ہائی کمیشن کو اس بات کا علم تھا یا نہیں کہ اس نوعیت کی کوئی ملاقات پاکستان میں ہورہی ہے۔ ویدک کے جموں و کشمیر پر بعض تبصروں کے بارے میں بھی انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اپوزیشن ارکان نے ویدک کے پاکستان میں توسیعی توقف کو قابل تشویش قرار دیا۔ ویدک جون میں سابق وزیرخارجہ کی جانب سے پاکستان میں منعقدہ ایک پروگرام میں شریک وفد کا حصہ تھے۔ اس وفد کے مابقی ارکان کو صرف 3 دن کا ویزا جاری کیا گیا تھا اور وہ مقررہ مدت کے اندر واپس بھی ہوگئے۔ ویدک کے ویزا میں توسیع کی گئی اور انہوں نے 3 ہفتے زائد قیام کیا۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے یہ بات کہی۔ اس کے جواب میں وزیرامور خارجہ نے کہا کہ ویزا حکومت پاکستان وفد کے ارکان کی درخواست کی بنیاد پر جاری کرتی ہے۔ راجیہ سبھا میں بھی آج جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اس مسئلہ پر ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔

اپوزیشن ارکان وقفہ سوالات کو معطل کرتے ہوئے اس سنگین مسئلہ پر حکومت سے جواب کا مطالبہ کررہے تھے۔ قبل ازیں قائد ایوان اور وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ ایک انفرادی شخص کی غلط سفارتی مہم جوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ ویدک اور ان کے خیالات سے بھی حکومت یا ان کی پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ ایوان کی کارروائی کو بار بار ملتوی کیا جاتا رہا۔ سشماسوراج کے بیان پر جواب دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے یہ جاننا چاہا کہ پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمیشن آخر اس ملاقات سے کیوں واقف نہیں تھا۔ اگر ہندوستانی ہائی کمیشن فی الواقع لاعلم تھا تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔

TOPPOPULARRECENT