Wednesday , December 19 2018

حافظ سعید اور پاکستان

اقوام متحدہ نے 2005ء میں ہی پاکستان کی فلاحی تنظیموں کو دہشت گردی کی فہرست میں شمار کرکے انہیں کالعدم قرار دیا تھا۔ برسوں سے یہ تنظیمیں پاکستان میں فلاح انسانیت کے لئے کام کررہی ہیں مگر ایک دہے سے زائد عرصہ کے دوران فلاح انسانیت کے حوالے سے مختلف تنظیموں کا وجود میں آنا اور دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ نے عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ لشکر طیبہ، جیش محمد اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیمیں عالمی اداروں کی نظر میں دہشت گرد قرار دی گئیں۔ طالبان، القاعدہ کے بعد لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر کڑی نظر رکھی گئی تھی، اس لئے پاکستان نے شاید عالمی دباؤ کے تحت حافظ سعید کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔ حافظ سعید کا نام کالعدم قرار دی جانے والی لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ صدر پاکستان نے آرڈیننس کے ذریعہ ان تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دیا جن کو اقوام متحدہ نے بہت پہلے ہی کالعدم کردیا تھا۔ پاکستان میں ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے اب تک اجتناب کیا جاتا رہا ہے مگر اب چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ لاہور میں سکیورٹی کی نام پر کی جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی ختم کردیں۔ جماعت الدعوۃ کے ہیڈکوارٹرس پر بھی سکیورٹی انتظامات کے تحت پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا تھا جس کو اب ختم کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کو اذیت دینے والے اقدامات کرتے ہوئے چند تنظیموں کے ہیڈکوارٹرس والے علاقوں میں سڑکوں کو عام راہگیروں کے لئے بند کردیا تھا جس کی وجہ سے اب تک کئی شہری ان مصیبتوں کا سامنا کرتے آرہے تھے۔ ان کے اندر ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ جماعت الدعوۃ اور اس طرح کی تنظیموں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کے نام پر عوام کی روزمرہ زندگی اور آمدورفت کے راستوں کو بند کردینے کے خلاف آواز اٹھا سکیں لیکن اب حکومت نے ازخود 12 مقامات سے سکیورٹی کے نام پر کھڑی جانے والی رکاوٹوں کو ہٹا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس سے عوام کو راحت حاصل ہوگی۔ جماعت الدعوۃ کے ہیڈکوارٹرس کے باہر گزشتہ 10 سال سے سکیورٹی انتظامات تھے۔ اس ہیڈکوارٹر کو جانے والی سڑک کی ناکہ بندی سے عوام اور مقامی موٹر رانوں کو مسائل درپیش تھے مگر یہ لوگ آواز اٹھانے سے قاصر تھے اور جماعت الدعوۃ کے کارکنوں کے خوف سے اپنی آواز کو دبائے رکھا تھا۔ جماعت الدعوۃ کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ لشکر طیبہ کی محاذی تنظیم ہے جو ممبئی دہشت گرد حملوں کیلئے ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔ جون 2004ء میں امریکہ نے اسے بیرونی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتوں کی متعلقہ وزارتیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہیں

اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ایسی تنظیموں کے خلاف اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود حکومت میں حوصلہ کا فقدان دیکھا جاتا رہا ہے، خاص کر حکومت پاکستان نے اپنی سرزمین پر خون ریز کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی خاص مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجہ میں یہ تنظیمیں دن بہ دن قوی ہوتی گئیں اور آج حکومت کے لئے درد سَر بن چکی ہیں۔ پاکستان نے اس مرتبہ ہمت تو دکھائی ہے کہ اس نے حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیا۔ لیکن ان کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے وہ حوصلہ پیدا کرسکے گی، یہ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ خود وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ ملک کا وزیراعظم ہونے کے اعتبار سے دہشت گرد افراد کہے جانے والے حافظ سعید کا احترام کرتے ہوئے صاحب یا سر کہنے کی ضرورت نہیں تھی مگر انہوں نے حافظ سعید کے بارے میں ایک لفظ بھی ایسا ادا نہیں کیا جس سے جماعت الدعوۃ کے کارکنوں کو ناراضگی ہوسکے۔ امریکہ کے دباؤ میں آکر کیا جانے والا یہ قدم صرف ایک دکھاوا ثابت ہوتا ہے تو پاکستان اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارلینے کا مرتکب ہوگا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو ناراض کرنے کی وجہ سے ہی آج پاکستان مختلف عنوانات سے امریکہ کی سرپرستی سے دور ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات ایک چیلنج بھرے دور سے گذر رہے ہیں۔ اس لئے وہ دہشت گردی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے نیم دلانہ کوشش کرتے دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ نے اس ماہ کے اوائل میں پاکستان کو دی جانے والی سکیورٹی امداد 2 بلین امریکی ڈالر کو معطل کردیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ کارروائی نہیں کررہا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی امریکہ کیساتھ فوجی و انٹلیجنس تعاون کرنا بند کردیا تھا۔ یہ ایک ایسی کشیدہ صورتحال ہے جس میں پاکستان دلدل کی طرح پھنستا جارہا ہے لہذا حکومت پاکستان کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے قول کے مطابق افعال پر بھی توجہ دے تو سرزمین پاکستان کو دہشت گرد کارروائیوں سے پاک بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے ہمسایہ ملکوں کی بھی شکایت دُور ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT