Wednesday , October 17 2018
Home / اداریہ / حافظ سعید کی رہائی

حافظ سعید کی رہائی

حافظ سعید کی رہائی
پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ حافظ سعید وہ شخصیت ہیں جس کے خلاف کئی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ عالمی سطح پر اسے دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے ۔ وہ ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا کلیدی ملزم ہے ۔ وہ ہندوستان میں مطلوب ہے ۔ پاکستان میں بھی اس کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ جہاد کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے وہ ہمیشہ سرگرم رہتا ہے ۔ خود پاکستانی حکومت ایک سے زائد مرتبہ اسے امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے حراست میں رکھ چکی ہے اس کے باوجود اس کے خلاف جو قرار واقعی کارروائی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس معاملہ میں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت پاکستان اور عدالتیں آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس معاملہ میں حکومت پاکستان میں سنجیدگی کافقدان ہے ۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ دہشت گردی سارے جنوبی ایشیا اور خود پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریزاں ہے ۔ حافظ سعید کو مختلف قوانین کے سہارا لیتے ہوئے گذشتہ تقریبا دس مہینوں سے گھر پرنظر بند رکھا گیا تھا لیکن اب ایک عدالتی کمیشن نے حافظ سعید کی مزید نظربندی کی توثیق سے انکار کردیا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ حکومت نے حافظ سعید کے خلاف واضح اور کافی ثبوت و شواہد پیش نہیں کئے ہیں۔ حکومت اپنی جانب سے زبانی طور پر دنیا کو دکھانے کے مقصد سے سعید کے خلاف کبھی کبھار سخت الفاظ استعمال تو کرتی ہے لیکن ان الفاظ کو وہ اپنے عمل میں ڈھالنے میں یا تو ناکام ہوجاتی ہے یا پھر وہ خود کرنا ہی نہیں چاہتی ۔ یہ حکومت پاکستان کے دوہرے معیارات ہیں ۔ ایک طرف تو وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں اٹل ہونے کا دعوی کرتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے لیکن جہاں دہشت گردوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کی بات آتی ہے پاکستان کی حکومت پسر جاتی ہے اور عملی طور پر سخت گیر کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جب حکومت پاکستان کے قول و فعل میں تضاد نمایاں دکھائی دیا ہے ۔
پاکستان پر کئی گوشوں سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں ختم کیا جائے ۔ کئی دہشت گرد ایسے بھی ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے بھی اس فہرست میں شامل کردیا ہے ۔ حافظ سعید خود بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان کی جانب سے کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی حکومت سیاسی عزم و حوصلے سے عاری ہے اور وہ دہشت گردوں کے آگے بے بس ہوگئی ہے ۔ یہ وہی عناصر ہے جن کو پروان چڑھانے میں پاکستان کی حکومت نے ہی سب سے سرگرم رول ادا کیا ہے اور فوج کی بھی سرپرستی انہیں حاصل رہی ہے ۔ اب یہی عناصر اس حد تک تقویت پاچکے ہیں کہ حکومت خود ان کے سامنے بے بس نظر آنے لگی ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ کیا جاتا ہے اور دعوے کئے جاتے ہیں اور حقیقت میں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو خاص طور پر جنوبی ایشیا میں امن کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جن کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری نہیں ہو پا رہی ہے ۔ یہ وہی عناصر ہیں جن کی کارستانیوں نے دونوںملکوں کے مابین سرد مہری اور کشیدگی کی فضا پیدا کردی ہے اس کے باوجود پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے اور وہ خود اپنی عدالتوں میں ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عناصر عدالتوں یا عدالتی کمیشنوں سے راحت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتی ہے ۔ جب تک پاکستان اس حقیقت کو نہیں سمجھتا اس وقت تک وہ ان عناصر اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا حوصلہ نہیں جٹا پائیگا ۔ اسے نہ صرف اپنے ملک بلکہ سارے جنوبی ایشیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ذریعہ ہی پاکستان اپنی سنجیدگی کامظاہرہ کرسکتا ہے ۔ بات صرف حافظ سعید تک محدود بھی نہیں ہیں۔ ایسے کئی عناصر ہیں جو دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور انہیں عدالتوں سے راحت ملتی جا رہی ہے ۔ پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ ان عناصر کو کیفر کردار تک پہونچانے کیلئے عملی اقدامات کرے ۔ یہی امن کے حق میں بہتر ہے اور یہی بات خود پاکستان کے حق میں بہتر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT