Sunday , April 22 2018
Home / دنیا / حافظ سعید کے ہاتھ ’’خون سے رنگے ہیں‘‘

حافظ سعید کے ہاتھ ’’خون سے رنگے ہیں‘‘

جماعت الدعوۃ کے سربراہ دہشت گرد، سابق سی آئی اے ڈائرکٹر کا دعویٰ
واشنگٹن ۔ 25 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) ممبئی حملہ کے اصل سازشی ذہن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیںاور وہ پاکستان کی اصل دھارے کی سیاست کو انتہاپسندی کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امریکہ کے سابق جاسوسی ماہر نے آج یہ بات بتائی ۔ پاکستان نے کل انھیں رہا کردیا ہے ۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور لشکر طیبہ کے بانی کے سر پر امریکہ کے 10 ملین ڈالر کا انعام ہے ۔ دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے انھیں ہلاک کرنے کا انعام دیا جائے گا ۔ سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے ) کے سابق ڈائرکٹر مائیکل مورل نے جو اس ادارہ کے دو مرتبہ کارگذار ڈائرکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں ، ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ حافظ سعید ایک دہشت گرد ہے جو لشکر طبیہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک کشمیر ی عسکریت پسند گروپ کی حوصلہ افزائی کی ہے اور حملوں کیلئے القاعدہ کی بھی مدد کی ہے ۔ ان کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ اب وہ پاکستان میں اصل دھارے کی سیاست کو انتہاپسندی کی جانب گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ حافظ سعید کو اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے دہشت گرد قرار دیا ۔ انھیں کل ہی لاہور میں رہا کیا گیا ۔ حافظ سعید 60 سال کے ہیں جو جنوری سے 297 دن تک نظر بند تھے ۔ شعلہ بیان عالم دین کو کل نصف شب رہا کیا گیا جبکہ 26/11 ممبئی حملوں کی 9 ویں برسی سے قبل اُن کی رہائی عمل میں آئی ۔ اس حملے میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 6 امریکی بھی شامل ہیں۔ اس رہائی پر پنی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکہ نے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ حافظ سعید کو ان کے جرائم کی پادداش میں دوبارہ گرفتار کرے۔ پاکستان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لشکر طیبہ لیڈر کو سلاخوں کے پیچھے ہی رکھا جائے ۔ دہشت گرد گروپس پر تحقیق کرنے والے ایک نامور جنوبی ایشیائی ماہر کرسٹین فیز نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے دولت اسلامیہ سے اتحاد نہیں کیاہے۔ حافظ سعید کی جیل سے رہائی افسوسناک ہے اور یہ شخص مکمل طورپر پاکستان میں جہادیوں کی ذہن سازی کرنے والا اصل سرغنہ ہے ۔ این بی سی نیوز نے کہا ہے کہ حافظ سعید کی رہائی سے پھر ایک بار پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ کئی دہوں سے پاکستان لشکر طیبہ جیسے گروپس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رکھا ہے اور انھیں اپنا ایک اثاثہ سمجھتا ہے کیوں کہ وہ کشمیر میں ہندوستانی سپاہیوں کو نشانہ بناتے آرہے ہیں ۔ اگرچیکہ حکومت پاکستان پاکستانی طالبان جیسے جہادی گروپس سے نبرد آزما ہے جو راست طورپر اس ملک کیلئے خطرہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT