Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’حالات کی ستم ظریفی نے یہاں پہونچایا ، ہم دہشت گرد نہیں ‘‘

’’حالات کی ستم ظریفی نے یہاں پہونچایا ، ہم دہشت گرد نہیں ‘‘

حکومت ِہند سے تعاون کی اپیل ، سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ پر ملک میں مقیم روہنگیائی مسلمان تشویش سے دوچار
حیدرآباد۔ 21 ستمبر (پی ٹی آئی) ’’حالات کی ستم ظریفی نے اپنے ہی ملک سے جلاوطن ہونے کیلئے مجبور کیا اور اب یہاں سے واپس بھیجنے کی بات ہورہی ہے، لیکن مجھے توقع ہے کہ حالات ضرور سدھریں گے اور میرے ساتھ انصاف ہوگا‘‘۔ یہ تاثرات اُن روہنگیا مسلمانوں میں سے ایک شخص کے ہیں جو اپنا ملک چھوڑ کر حیدرآباد میں پناہ گزین ہیں۔ دُنیا بھر میں اس وقت میانمار کے راکھین اسٹیٹ میں مسلمانوں پر مظالم اور ان کی حالت ِ زار پر بحث جاری ہے۔ ایسے میں جو لوگ ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں، ان کیلئے بھی حالات مشکل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ میانمار سے تعلق رکھنے والے بشار نے توقع ظاہر کی کہ حکومت ہند انہیں واپس نہیں بھیجے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں مسائل پیدا کرنے کیلئے نہیں آئے، برائے مہربانی ہمارے ساتھ ’’دہشت گردوں کی طرح سلوک‘‘ نہ کیجئے۔ شہر میں موجوددیگر کئی روہنگیا پناہ گزینوں کی طرح ایک جھونپڑی اس وقت بشار اور اس کے خاندان کا گھر ہے۔ 27 سالہ اس شخص نے جو 2 بچوں کا باپ ہے، کہا کہ کوئی بھی پناہ گزین بننا نہیں چاہتا۔ ہمیں میانمار اس لئے چھوڑنا پڑا کیونکہ وہاں کی حکومت نسل کشی کی مرتکب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حالات بحال ہوں گے، ہم اپنے ملک واپس جانا چاہیں گے۔ بشار کی میانمار میں پتھر کا کاروبار تھا اور اب وہ یہاں ایک مزدور کی حیثیت سے کام کررہا ہے۔ وہ اپنے والدین، بیوی اور دو بچوں کی محنت مزدوری کے ذریعہ گذر بسر کررہا ہے۔ آج میانمار میں انسانی بحران کے تعلق سے عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہوئی ہے اور بشار بھی ان ہزاروں روہنگیائی مسلمانوں میں ایک ہے جنہیں اقوام متحدہ نے دنیا کی ’’انتہائی قابل رحم اقلیت‘‘ قرار دیا ہے۔ حکومت ہند کے اندازہ کے مطابق ملک کے مختلف مقامات پر تقریباً 14,000 روہنگیائی مقیم ہیں جبکہ امدادی کارکن کے مطابق یہ تعداد تقریباً 40,000 ہے۔ حیدرآباد میں اس وقت تقریباً 3,500 تا 4,000 روہنگیائی باشندے مختلف مقامات پر واقع کیمپس میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ ان میں تقریباً 3,500 اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے پاس رجسٹر شدہ ہیں۔ ان میں سے بعض 2012ء میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد یہاں پہونچے تھے، ابھی ان کی مشکلات ختم بھی نہیں ہوئیں کہ پھر میانمار میں تشدد پھوٹ پڑا اور لاکھوں روہنگیائی مسلمان وہاں سے اپنی جان بچاکر پڑوسی ملک بنگلہ دیش پہونچ گئے ہیں۔ ہندوستان میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کو سپریم کورٹ میں اس وقت جاری مقدمہ کی وجہ سے تشویش لاحق ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ روہنگیائی مسلمان غیرقانونی تارکین وطن ہے اور ان کی موجودگی ملک کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ آج مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’روہنگیائی مسلمان پناہ گزین نہیں ہیں جنہوں نے پناہ کی درخواست دی ہو، بلکہ وہ غیرقانونی تارکین وطن ہیں جنہیں واپس بھیج دیا جائے گا‘‘ ۔ ان حالات میں روہنگیا کے ایک اور شخص عبدالکریم نے کہا کہ ہم خود اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں اگر دنیا ہماری مدد کرے تو توقع ہے کہ واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص اپنے مادر وطن کو چھوڑنا نہیں چاہتا اور بحالت مجبوری ایسے حالات پیش آئیں تو انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اور جو کچھ کام میسر ہو، وہ کرلیتے ہیں۔ میانمار میں تشدد کی وجہ سے آج ہم اپنے ہی ارکان خاندان اور رشتہ داروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ کوئی بنگلہ دیش چلا گیا، کسی نے انڈونیشیا کی جانب رُخ کیا اور بعض سری لنکا، ملائیشیا، سعودی عرب چلے گئے، یہاں تک کہ بعض دوبئی میں ہیں۔ ایک اور 65 سالہ شخص سلطان محمود نے کہا کہ ہندوستان کو بحیثیت سوپر پاور یہاں اس وقت تک رہنے کی اجازت دینی چاہئے جب تک ہمیں میانمار میں مساوی حقوق نہیں مل جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم اپنی جان خطرہ ہونے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں، ہم کسی کیلئے خطرہ نہیں ہیں۔ حکومت نے ہماری کافی مدد کی اور یہاں ہمیں پناہ دی۔ پولیس باقاعدہ ہمارے کیمپس پہنچ کر معائنہ کیا کرتی ہے۔ ہمیں حکومت کی مدد کی وجہ سے ہی پناہ گزین کارڈ مل سکا۔ انہوں نے حکومت ہند سے تعاون کی اپیل کی۔ روہنگیا کے ان مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یگانگت کرتے ہوئے شہر کی کئی تنظیموں نے احتجاجی ریالیاں منظم کیں اور بعض تنظیمیں ان کی ممکنہ حد تک مدد بھی کررہی ہیں۔ موجودہ حالات نے ان روہنگیائی مسلمانوں کو تشویش سے دوچار کردیا ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

TOPPOPULARRECENT