Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حالی اور شبلی کو ’’مجتہد العصر ادیب‘‘ کہا جاسکتا ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

حالی اور شبلی کو ’’مجتہد العصر ادیب‘‘ کہا جاسکتا ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پانچ روزہ بین الاقوامی سمینار کا آغاز

یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پانچ روزہ بین الاقوامی سمینار کا آغاز
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر (پریس نوٹ) علامہ شبلی اور مولانا حالی کی صدی تقاریب کا افتتاحی اجلاس 9 نومبر کو سنٹرل یونیورسٹی اف حیدرآباد میں منعقد ہوا ۔ سمینار کا افتتاح پروفیسر امیتابھ داس گپتا ، ڈین ، اسکول آف ہیومانٹیزکے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ انہوں نے تفصیل سے حالی اور شبلی کے عہد کے حوالے سے گفتگو کی ۔ سمینار کے ڈائرکٹر اور کنوینر ڈاکٹر حبیب نثار نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ پروفیسر کے مظفر علی ، صدر شعبہ اردو نے خیر مقدم کیا ۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم ، شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی نے عہد حالی اور شبلی کے تضادات ، تسامحات ، تصنیفات و تالیفات ، رجحانات اور شخصیات کے حوالے سے پرمغز تقریر کی اور کہا اکہ حالی نے جس طرح اپنے عہد میں اردو شعر و ادب میں بعض اضافے کئے ۔ ا ن کی روشنی میں انہیں ’مجتہد العصر ادیب‘ کہا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے پہلی بار اردو شاعری میں ہندوستانی عورت کو پیش کیا ۔ مقدمہ کی شکل میں اردو تنقید کی بنیاد رکھی ۔ اردو میں غیر افسانوی نثر کی ابتدائی اینٹ بھی مولانا حالی کے ہاتھوں رکھی گئی ۔ اردو میں سوانح نگاری کا آغاز بھی حالی کی کوششوں سے ہوا۔ غرض حالی کی حیثیت تاریخ ادب اردو میں موجد کی بھی نظر آتی ہے اور مؤسس کی ۔ پروفیسر بیگ احساس ، سابق صدر شعبہ اردو حیدرآباد یونیورسٹی نے کہا کہ ہمیں کسی ایسے ادیب یا نقاد کا انتظار ہے جو موازنۂ انیس و دبیر کی طرز پر ’موازنۂ حالی و شبلی ، لکھے تاکہ ہم ان دونوں شخصیات کو بھرپور طریقے سے سمجھ سکیں۔ اس تقریب کی صدارت معروف طنز و مزاح نگار پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے کی اور انہوں نے اپنے مخصوص اسلوب میں حالی اور شبلی کی ادبی خدمات پر گفتگو کی ۔ پروفیسر روی رنجن ، سابق صدر شعبہ ہندی ، حیدرآباد یونیورسٹی نے ہندی اور اردو ادب کا تقابلی مطالعہ اس عہد کے ہندی ادیبوں کے حوالے سے پیش کیا اور بہت اہم باتیں کیں ۔ پروفیسر سید مجاور حسین رضوی سمینار میں شریک نہ ہوسکے لیکن ان کے کلیدی خطبے کا کچھ حصہ ڈاکٹر حبیب نثار نے پڑھ کر سنایا ۔ محترمہ پروفیسر آمنہ انصاری نے شریک محفل ہوکر نہ صرف بزم کی رونق بڑھائی بلکہ اپنی دعاؤں سے بھی نوازا۔ سمینار کی نظامت ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے کی ۔ پانچ روزہ اس بین الاقوامی سمینار میں شرکاء اور عمائدین شریک ہوئے ۔ اس موقع پر مشہور افسانہ نگار نورالحسحین ، ڈاکٹر اسلم مرزا (اورنگ آباد) ، پروفیسر صفدر امام قادری (پٹنہ ) ، محترمہ نازیہ بیگم جفو (ماریشس)، ڈاکٹر عرفان عالم ، ڈاکٹر برکت حمید (سری نگر ، کشمیر)، ڈاکٹر محمد نثار احمد (تروپتی) کے علاوہ محترمہ قمر جمالی ، ڈاکٹر جعفر جری ، ڈاکٹر ابرارالباقی کے علاوہ شعبہ اردو ہندی کے علاوہ دیگر شعبوں کے طالب علم اور ریسرچ اسکالرز کثیر تعداد میں موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT