Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / حامد انصاری کا تبصرہ سنجیدہ مباحث کا متقاضی حکومت کا غلط ردعمل

حامد انصاری کا تبصرہ سنجیدہ مباحث کا متقاضی حکومت کا غلط ردعمل

کلدیپ نائر
محمد حامد انصاری نے ہندوستان کے نائب صدرجمہوریہ کی حیثیت سے سبکدوشی کے موقع پر اپنے وداعی پیام میں مودی حکومت کے تحت ملک کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے وطن میں تحفظ و سلامتی کا احساس نہیں ہے۔ انھوں نے جو کچھ کہا کہ اُس پر توجہ دینے کی بجائے آر ایس ایس اور بی جے پی نے بس اُن کی مذمت شروع کردی، اور بعض نے تو یہاں تک بھڑاس نکالی اور کہہ دیا کہ انھیں ایسے ملک کو منتقل ہوجانا چاہئے جہاں وہ سلامتی محسوس کرتے ہوں۔ سب سے ناگوار ردعمل تو وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے سامنے آیا، جنھوں نے کہا کہ حامد انصاری اب ’’اپنے ایجنڈے پر کام کرسکتے ہیں‘‘۔ اقتدار کے منصبوں پر فائز چند دیگر نے بھی اسی طرح کے ریمارکس کئے۔ حامد انصاری کے تبصرے کا ہندو قائدین نے جائزہ لیا نہ کوئی جانچ کی اور اس طرح وہ مسلمانوں کو اُن کے انجانے خوف سے آزاد کرانے کا عظیم موقع کھو دیئے۔

ہاں، یہ اعتراض نامعقول نہیں کہ حامد انصاری یہ ریمارکس پہلے ہی کرسکتے تھے اور عہدہ پر رہتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کرسکتے تھے۔ لیکن ویسا کرنا ایک اور نوعیت کا بحران پیدا کرسکتا تھا جس کی یکسوئی میں دستوری ماہرین کو مشکل ہوتی، جس سے ملک شک و شبہ کی بھٹی میں گرجاتا۔ اکثریتی کمیونٹی کو ضرور معلوم کرنا چاہئے کہ کیوں ہندوستان میں ہر مسلم لیڈر جب کبھی اسے موقع ملے، بالخصوص عہدہ سے سبکدوشی کے موقع پر اپنی برادری کی بہبود و بھلائی کے تعلق سے تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے ریمارکس کہ انصاری اپنی پسند کے کوئی بھی ملک کو جاسکتے ہیں، اُس نکتہ کا کسی بھی حل نہیں جو انھوں نے اٹھایا، یا اسے مسئلہ کی جڑ تک پہنچنا کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے خود اپنی شخصی سلامتی کی بات نہیں کی ہے؛ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عمومی تشویش و فکرمندی سے واقف کرا رہے تھے۔
سبکدوش نائب صدرجمہوریہ پر شخصی حملے بالکلیہ مناسب نہیں ہیں۔ اس کی بجائے حکومتی قائدین کو غور کرنا چاہئے کہ انھوں نے کیا کہا اور سوچیں کہ اس صورتحال کا اکثریتی کمیونٹی کس طرح مداوا کرسکتی ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اس خیال کی مبینہ طور پر تائید کی کہ چونکہ انصاری ہندوستان میں رہتے ہوئے خوش نہیں ہیں، اس لئے وہ کہیں اور جاسکتے ہیں۔ ایک ہندو تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے بھاگوت کے ریمارک نے بدبختی سے اس سارے معاملہ کو ہندو بمقابلہ مسلمان کی قدیم بحث بنا دیا ہے۔

پھر بھی حامد انصاری کا تبصرہ عوامی دائرے میں آتا ہے اور چونکہ یہ ملک کے نائب صدر کی طرف سے کیا گیا، اس لئے تمام ذمہ دار فورموں بشمول پارلیمنٹ میں اس پر مباحث ہونے چاہئیں۔ ماضی میں مثال ملتی ہے کہ مرکز کی حکومت نے ایک کمیشن قائم کرتے ہوئے مسلم برادری کے احساسات اور حالات معلوم کئے ہیں۔ جسٹس راجندر سچر نے اس کمیشن کی سربراہی کی اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ دلتوں سے کہیں بدتر سلوک روا رکھا گیا ہے۔ اور انھوں نے پایا کہ مغربی بنگال میں لگ بھگ تین دہوں کی کمیونسٹ حکمرانی کے بعد صرف 2.5 فیصد تعلیم یافتہ مسلمان بستے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ایک اور کمیشن بٹھا کر معلوم کیا جائے کہ آیا جسٹس سچر کی رپورٹ سے کچھ فرق پڑا ہے۔
اسی طرح کا اظہار افسوس اور تشویش و فکرمندی دیگر مسلم قائدین نے ماضی میں کیا ہے، اور بعض مشہور شخصیتیں بھی اس معاملے میں اپنی رائے ظاہر کرچکی ہیں۔ مثال کے طور پر فلم اسٹار عامر خان کا دو سال قبل کا ریمارک ہے جب انھوں نے سیاست دانوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اپنی بیوی کرن راؤ کے خوف کا حوالہ دیا تھا جو ہندوستان کی بڑھتی عدم رواداری کے تعلق سے ظاہر کیا گیا۔

عامر نے کہا تھا: ’جب میں کرن سے گھر میں بات کرتا ہوں، وہ کہتی ہے، ’’کیا ہمیں انڈیا سے باہر منتقل ہوجانا چاہئے؟‘‘ یہ کرن نے کاری ضرب لگانے والی اور بہت بڑی بات کہہ دی‘‘۔ عامر نے مزید کہا تھا کہ اسے اپنے بچہ کی فکر ہوتی ہے۔ وہ تشویش میں مبتلا ہے کہ ہمارے اطراف کا ماحول جانے کیا ہوجائے گا۔ اسے ہر روز اخبارات کھولتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ تشویش و فکرمندی کے علاوہ بڑھتی بے چینی کا احساس پایا جاتا ہے، ناامیدی بڑھ رہی ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے تو آپ پست حوصلہ ہوجاتے ہیں۔ یہی احساس کرن کو پریشان کررہا ہے۔عامر نے ایوارڈز کی ایک تقریب سے مخاطبت میں ادیبوں، فنکاروںو دیگر کی طرف سے ایوارڈز کو واپس کردینے کی بھی تائید و حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اپنے عدم اطمینان یا اپنی مایوسی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ نامور اداکار نے کہا: ’’لوگ جو ہمارے منتخب نمائندے ہیں، جنھیں ہم ہماری سماجی و سیاسی دیکھ بھال کرنے پانچ سال کیلئے منتخب کرتے ہیں … جب عوام قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے لگیں تو ہم ان (منتخب نمائندگان) سے امید باندھتے ہیں کہ وہ سخت موقف اختیار کریں، سخت بیان دیں، قانونی عمل میں تیزی لائیں۔ جب ہم ایسا ہوتے دیکھتے ہیں تو سلامتی کا احساس پیدا ہوتا ہے لیکن جب ہم ایسا ہوتے نہیں دیکھتے ہیں تو عدم سلامتی کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔‘‘
بی جے پی نے توقع کے مطابق عامر کے ریمارک پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی ترجمان شاہنواز حسین نے کہا، ’’وہ تو خوفزدہ نہیں لیکن وہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ ہندوستان نے انھیں تمام تر اعزازات اور احترام دیا۔ انھیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ انڈیا نے انھیں اسٹار بنایا ہے‘‘۔ لیکن کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے فلم ایکٹر کی بھرپور مدافعت کی اور ایک ٹوئٹ میں کہا: ’’ان تمام کو جو حکومت اور مودی جی پر سوال اٹھا رہے ہیں انھیں حب الوطنی سے عاری، قوم دشمن یا ’’مقصد براری میں مشغول‘‘ قرار دینے کی بجائے حکومت کیلئے بہتر ہوگا کہ لوگوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے سمجھے کہ انھیں کیا مسئلہ پریشان کررہا ہے۔‘‘ بی جے پی ترجمان نے معمول کے مطابق راہول کے تبصرہ کو ملامت کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سازش ہورہی ہے کہ قوم کو کسی طرح بدنام کیا جائے۔

ہمارے ملک کا حقیقی مسئلہ مذہب کی اساس پر ’سیرل راڈکلف‘ کا کھینچا گیا خط ِ فاصل ہے۔ اسے تقسیم کے تناظر میں پیش آئی ہلاکتوں پر تاسف ہوا، لیکن اس نے خط میں تبدیلی نہیں لائی۔ وہ جو اس کی دوسری جانب ہیں پاکستان کے لوگ ہیں جو بتدریج اسلامی دنیا کا حصہ بن رہے ہیں کیونکہ وہاں کٹرپسندی کی گرفت مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔
سرحد کی دیگر سمت عملاً کوئی ہندو اور سکھ نہیں ہیں۔ پاکستان کی اقلیتوں میں اکثریت عیسائیوں کی ہے، اور ان کو شکایت ہے کہ چرچوں کو تباہ کردیا گیا اور اسلام کی طرف جبری تبدیلی مذہب ہورہا ہے۔ جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم نے اتنا کیا جتنا وہ اپنی معزولی سے قبل کرسکتے تھے، لیکن حرفِ آخر تو آرمی کا ہوتا ہے۔ بدبختی سے آرمی بھی آلودہ ہوتی جارہی ہے۔
حامد انصاری کے تبصرے آج بہت مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ ہلکی شدت کا ہندوتوا ہندوستان بھر میں پھیل رہا ہے۔ وہ جو عنان اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں ، انتشار کو ہوا دے رہے ہیں کیونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بنیاد پر لڑے جانے والے انتخابات سے ہندوؤں کو فائدہ ہونا یقینی ہے۔ سکیولر ہندوستان کے تانے بانے کو بتدریج تار تار کیا جارہا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ سکیولرازم کی آئیڈیالوجی جس کی گزشتہ سات دہائیوں میں تعمیل ہوئی، اب سنگین خطرے میں پڑگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT