Monday , January 22 2018
Home / دنیا / حامد انصاری کا سمر قند کے تاریخی مقامات کا دورہ

حامد انصاری کا سمر قند کے تاریخی مقامات کا دورہ

اسلامی تہذیب و ثقافت کا بغور مشاہدہ ،ہوٹل پر ہندوستانی پرچم اُلٹا لہرادیا گیا ظہیرالدین علی خاں

اسلامی تہذیب و ثقافت کا بغور مشاہدہ ،ہوٹل پر ہندوستانی پرچم اُلٹا لہرادیا گیا
ظہیرالدین علی خاں
سمرقند۔ 23 مئی ۔ نائب صدرجمہوریہ ہند جناب حامد انصاری نے آج ازبیکستان کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس ملک کی قدیم اسلامی تاریخ اور یہاں کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ نائب صدرجمہوریہ نے بالخصوص شاہ زندہ کامپلیکس اور بی بی خانم مدرسہ کا دورہ کیا۔ یہاں انہوں نے مدرسہ میں تعلیمی نظام اور دیگر اُمور کے بارے میں متعلقہ عہدیداروں سے معلومات حاصل کیں۔نائب صدرجمہوریہ کا یہ یادگار دورہ اختتام کو پہونچنے والا ہے تاہم آج ہندوستانی عہدیداروں کو اس وقت عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک خانگی ہوٹل میں جہاں حامد انصاری ٹھہرے ہوئے تھے، ہندوستانی پرچم کو الٹا لہرایا گیا۔

نائب صدرجمہوریہ کے ہمراہ ہندوستانی عہدیداروں نے فوری اس غلطی کی نشاندہی کی جس پر پرچم کو درست کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہوٹل ریجستان پلازہ کے باب الداخلہ پر یہ پرچم لہرا رہا تھا جب ازبک عہدیداروں کو اس غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے فوری اسے درست کردیا۔ سمرقند میں نائب صدرجمہوریہ نے صوبہ کے علاقائی سربراہان سے ملاقات کی۔

حامد انصاری منگل کو چار روزہ دورہ پر تاشقند آئے ہوئے تھے۔ وہ جاریہ ہفتہ افریقی یونین چوٹی اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی بھی کرنے والے ہیں۔ یہ چوٹی اجلاس 25 مئی کو عدیس ابابا میں منعقد ہوگی جس میں 10 منتخبہ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ حامد انصاری ایتھوپیا کے دارالحکومت میں ہورہی اس کانفرنس میں سرکردہ افریقی قائدین سے خطاب کریں گے۔ ہندوستان کے علاوہ جن دیگر منتخبہ پارٹنرس کو مدعو کیا گیا ہے، ان میں امریکہ، یوروپی یونین، فرانس، برازیل، روس، چین، جاپان اور جمائیکا کے علاوہ اقوام متحدہ شامل ہیں۔

حامد انصاری اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے اور توقع ہے کہ وہ 26 مئی کو ہندوستان واپس ہوں گے۔ حامد انصاری نے کل صدر ازبکستان اسلام کریموف سے ملاقات کرتے ہوئے وسیع تر اُمور بشمول انسداد دہشت گردی اور باہمی روابط کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ انہوں نے ازبکستان کی مجلس شوریٰ سینیٹ کے صدرنشین سوبیروف سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس کے علاوہ اسپیکر سے بھی ملاقات کی۔ سمرقند کی اس لحاظ سے نمایاں اہمیت ہے کہ یہ چین اور بحیرہ روم کے مابین ’’سلک روڈ ‘‘کا موقف رکھتا ہے۔ چودہویں صدی میں یہ تیمور لنگ کا دارالحکومت رہ چکا ہے اور یہیں ان کی مزار بھی واقع ہے

TOPPOPULARRECENT