Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / فقیہ المقدم الامام محمد بن علی باعلویؒ

فقیہ المقدم الامام محمد بن علی باعلویؒ

حبیب سہیل بن سعید العیدروس

یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ہر زمانے میں دین کی فہم، مذہب و ملت کی رہبری و رہنمائی ضروری ہے۔ ہر دور میں دقائق و حقائق قرآن کو جاننے، سمجھنے اور سمجھانے والے، احیائے سنت کا کام حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینے والے نفوس کی ضرورت ہے اور یہی کچھ ہوتا آرہا ہے۔ زمانوں کو اپنے علم سے روشناس کرانے کیلئے علماء کی جماعت، معرفت و حقیقت کی راہوں پر گامزن کرنے اور تاریک دلوں کو منور کرنے کیلئے اولیاء و صوفیۂ کرام کی جماعت آتی رہی ہے اور کچھ ایسے بھی خاصانِ حق ہیں کہ جن کے ذمۂ کرم میں تبلیغ دین، علومِ قرآن و سنت، تزکیہ و تصفیۂ باطن جیسے تمام ہی اُمور سپرد کئے گئے اور انھوں نے ان کو بدرجۂ کمال نبھایا۔ ان ہی یگانہ روزگار شخصیات میں ساتویں صدی ہجری کی مشہور شخصیت امام محمد فقیہ المقدم کی ہے۔

نام و نسب: آپؒ کا اسم گرامی محمد اور سلسلۂ نسب یوں ہے الفقیہ المقدم استاذالاعظم محمد بن علی بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد صاحب الصومعہ بن علوی صاحب السہل بن عبیداﷲ صاحب العرض بن امام المھاجر احمد بن عیسیٰ الرومی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن الامام جعفر الصادق بن امام محمد الباقر بن امام علی زین العابدین بن امام الشھید حسینؓ سبط النبی بن امام علی بن طالب و سیدتنا فاطمۃ الزھراء بنت سیدنا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم ۔
ولادت اور حالات زندگی:  حضرت فقیہ المقدم کی ولادت ۵۷۴ہجری میں حضرموت کے شہر تریم میں ہوئی اور ابتداء ہی سے قرآن و سنت کے ماحول، اسلامی تہذیب و کردار اور علوم تصوف کے درمیان آپ پروان چڑھے۔ بہت ہی کم سنی میں حفظ قرآن مجید سے فراغت حاصل کرنے کے بعد تمام علوم اسلامیہ شرعیہ کے اصول و فروع پر بلوغ کو پہنچنے سے قبل ہی مہارت حاصل کرلی تھی۔ آپ کو یمن کے مشاہیر علماء و فقھاء کے پاس علوم کی تکمیل کروائی گئی۔ بعد ازاں آپ نے علوم طریقت و حقیقت کا آغاز فرمایا اور اکابر صوفیہ کی صحبت بافیض اور خاندانی اثرات سے قلب کو منور کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ امام الاولیاء اور شیخ علی الاطلاق مانے جاتے تھے۔ آپ نے علوم شرعیہ میں اتنا کمال حاصل کرلیا تھا کہ آپ مجتہد کے مقام پر فائز ہوئے اور تمام فقہاء پر آپ کی فقاہت کو سبقت حاصل ہونے کی وجہ سے ’’فقیہ المقدّم ‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔

کسی عالم نے ایک ہی مجلس میں آپ سے تین سو (۳۰۰) پیچیدہ سوال جو مختلف فنون و علوم سے تعلق رکھتے تھے پوچھا تو آپ نے ہر سوال کا جواب انتہائی سہل انداز میں عنایت فرمایا اور تمام اشکلات کو دور فرمادیئے۔ یہ سوالات اور جوابات ایک کتاب میں جمع کئے گئے ہیں جو آج تک محفوظ ہیں۔
ایک رات فقیہ المقدم کے صاحبزادے احمد نے آپ کا پیچھا اس غرض سے کیا کہ وہ اپنے والد کے احوال کو دیکھیں۔ جب امام استاذ الاعظم غار میں پہنچے او راﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوئے تب ساری وادی آپ کے ذکر اور نداؤں کا جواب دینے لگی اور پہاڑوں سے غیبی آواز سنائی دینے لگی، جس نے آپ کے صاحبزادے کو حیرت و گھبراہٹ میں ڈال دیا۔

اگرچہ امام محمد بن علیؒ کے تمام اجداد مرتبۂ احسان کے حامل تھے جس کا ذکر حدیث جبرئیل میں موجود ہے اور وقت کے امام اور اقطاب تھے لیکن یہ سعادت اور خاصہ آپ ہی کا تھا کہ آپ کے ذریعہ خاندانی علوم ، اسرار اور تصوف کے دقائق کا اظہار ہوا اور آپ باعلوی سادات میں سے وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے دنیا کے سامنے علوم تصوف کو نہ صرف پیش کیا بلکہ اس کو سبقاً  پڑھانے والے پہلے استاد کی حیثیت سے بھی سامنے آئے۔ اسی اثناء میں مغرب کے بہت بڑے شیخ اور غوث الوقت شیخ ابومدین المغربیؒ نے اپنے قاصد کو خاص ہدایات کے ساتھ بھیجا کہ وہ استاذالاعظم کو ان کے سلسلے کی خلافت و خرقہ عطا کریں۔

ہرچند کے فقیہ المقدم امام محمدؒ نے شیخ ابومدین کی خلافت کو قبول کرلیا لیکن مکمل انہی کے سلسلہ کی پیروی کی بجائے آپؒ نے اپنے اجدادی طریق تصوف کو زیادہ فوقیت دی لیکن اپنی تعلیمات میں طریقت باعلوی کے ساتھ ساتھ شیخ ابومدین المغربیؒ اور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظمؒ کی طریقت و تعلیمات کو ایک میں جمع فرمادیا اور ان سب معاملات میں شیخ سعید العمودیؒ نے آپ کی بڑی مدد کی۔ یہ بھی شیخ ابومدینؒ کے خلیفہ تھے جن کو قاصد نے ان کے شہر قیدون جاکر خلافت کی امانت عطا کی تھی اور شیخ سعید العمودیؒ قیدون سے شہر تریم اسی لئے آئے تھے کہ امام محمدؓ سے ملاقات کرکے انہیں اپنی وفاداری پیش کریں کیونکہ امام محمدؒ اہلبیت میں سے تھے اور اہلبیت سے وفاداری حکم رسولﷺ ہے۔
جس ماحول میں فقیہ المقدمؒ رہ رہے تھے وہ سیاسی طورپر غیرمستحکم حالات سے گزر رہا تھا۔ مختلف قبائل حضرموت کی وادیوں اور خصوصاً باعلوی سادات کے سروں پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے کوششیں کررہے تھے کیونکہ ان سادات کی شہرت نہ صرف حضرموت بلکہ حدود یمن کو بھی راہ میں چھوڑکر مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عراق، ایران، شام، ملیشیاء، سنگاپور وغیرہ تک پہنچ چکی تھی اور سیاستداں نہیں چاہتے تھے کہ سادات باعلوی کو اتنی شہرت میسر آئے، اسی کے چلتے بغض و نفرت اور حب دنیا نے سادات کی قربانیاں لینے پر مجبور کردیا۔ حالات اتنے بدترین تھے کہ فقیہ المقدمؒ جب اپنے استاد شیخ علی بامروانؒ کے یہاں درس میں بیٹھتے تو اپنے پیروں پر تلوار رکھا کرتے تاکہ اپنی اور اپنے احباب کے نفوس کی حفاظت ہوسکے۔ آپؒ نے دیکھا کہ اہل محبت اور چاہنے والوں کے حق میں خون خرابہ اور صفوں میں اختلاف بڑھتا ہی جارہا ہے اور چاہنے والوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، پس آپ نے اشارتاً اپنی تلوار کو توڑکر یہ اعلان فرمایا کہ میرا اور تمام باعلوی سادات کا طریق، محبت، امن اور عدم تشدد ہے۔
فقیہ المقدمؒ کا تصوف اور امن کا طریقہ اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپؒ سماجی حالات اور مسلمانوں کی ضروریات سے کنارہ کشی اختیار کررہے تھے بلکہ آپؒ نے شمشیر علم رسولؐ اور نبوت کے عظیم اخلاق کو زیب تن فرماکر قومی اُمور اور مذہبی بے راہ روی کو درست کیا۔
آپؒ نے اور آپ کے بعد آنے والے تمام باعلوی سادات نے اسی طریقے کی تعظیم کی اور اس کو اپناکر ہر اختلاف کو ختم کیا۔ اس خانوادے کے سادات کی محنتوں نے قوم کے اندر آپسی محبت، ہم آہنگی، موافقت و رفاقت کو اپنے فکر وعمل اور حکیمانہ انداز سے دوبارہ بحال فرمایا۔ جب تمام حالات ٹھیک ہونے لگے اور قوم راحت و سکون میں آچکی تب فقیہ المقدم نے ایک زاویہ کا اانعقاد عمل میں لایا اور ان پر اپنی روحانی توجہات کے ذریعہ ان کو جو اس زاویہ کیلئے منتخب کئے گئے تھے سنوارنا شروع کیا اور باطنی طہارت و تزکیہ فرمایا یہاں تک کہ وہ خود اس قابل ہوئے کے دوسروں تک اس تعلیم روحانی کو پہنچاسکیں۔ اس زاویۃ کے شرکاء اور آپ کے شاگردوں میں سب سے بہترین اور مشہور آپؒ ہی کے صاحبزادے علوی، عبداﷲ، عبدالرحمن، احمد اور علی کے علاوہ شیخ عبداﷲ باعباد اور ان کے بھائی شیخ عبدالرحمن اور شیخ علی بن محمد الخطیب ہیں، یہ تمام کے تمام اپنے مقام پر امام کی حیثیت رکھتے تھے۔
شیخ عبدالرحمن السقافؒ نے فرمایا: ’’میں نے حضورﷺ کے صحابہ کے بعد کسی کی تقریر و درس کو اتنا پُراثر نہیں دیکھا جتنا فقیہ المقدمؒ کی زباں سے نکلنے والے ہر لفظ کی کیفیت دیکھی۔ میں کسی اہل اﷲ کو فقیہ المقدم پر ترجیح نہیں دیتا سوائے حضورﷺ کے صحابہ کرام یا ان اولیاء کے جن کی عظمت کو حضورﷺ نے خود بیان فرمایا ہو جیسا کہ اویس القرنی؄۔
فقیہ المقدم ہی وہ پہلے فرد ہیں جنھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کے روضۂ انور کی سالانہ زیارت  وفاتحہ خوانی کا اہتمام فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ فقیہ المقدم کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تو حضرت ہود علیہ السلام خود آپؒ کے پاس آئے اور فرمایا: ’’اے فقیہ المقدم! اگر تم میری زیارت کو نہیں آؤگے تو میں خود تمہاری زیارت کرنے آؤںگا ‘‘۔
وصال مبارک: آپ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں مخلوق سے کنارہ کرلیا اور مکمل طورپر یاد الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ آخرکار ۲۹؍ ذی الحجہ ۶۵۳ہجری کو فقیہ المقدم نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے محبوب حقیقی اﷲ رب العزت سے واصل ہوئے۔ آپؒ کی زنبل مقام پر تدفین عمل میں آئی۔ لوگ آپؒ کے مزار مبارک پر سب سے پہلے حاضر ہوتے باوجود اس کے کہ اس مقام پر دوسرے صالحین بھی مدفون ہیں۔ اسی تقدیم پر جو آپ کو دوسرے اولیاء پر ہے آپ کو فقیہ المقدم کہا جاتا ہے۔ آپ کی نسل سے کئی ایسے ائمہ تصوف و شریعت ہوئے جن سے زمانے مستفید ہوئے اور آپ کی ذریت میں حبائب کے تقریباً ۷۵ قبائل منسوب ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں آپ کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT