Tuesday , December 11 2018

حب الوطنی اور اسلام سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

وطن سے محبت، اپنے ملک و سرزمین سے قلبی لگاؤ اور دیرینہ تعلق فطری امر ہے۔ جس طرح ماں باپ، بھائی بہن اور اولاد کی محبت فطری اور طبعی ہوتی ہے، اسی طرح وطن کی محبت بلاتکلف ہوا کرتی ہے۔ جس سرزمین پر انسان اپنی آنکھیں کھولتا ہے، نشو نما پاتا ہے، عنفوان شباب کو پہنچتا ہے، شادی بیاہ کرتا ہے، ملازمت و تجارت کرتا ہے، اس کی یادیں کچھ ایسی ہوتی ہ

وطن سے محبت، اپنے ملک و سرزمین سے قلبی لگاؤ اور دیرینہ تعلق فطری امر ہے۔ جس طرح ماں باپ، بھائی بہن اور اولاد کی محبت فطری اور طبعی ہوتی ہے، اسی طرح وطن کی محبت بلاتکلف ہوا کرتی ہے۔ جس سرزمین پر انسان اپنی آنکھیں کھولتا ہے، نشو نما پاتا ہے، عنفوان شباب کو پہنچتا ہے، شادی بیاہ کرتا ہے، ملازمت و تجارت کرتا ہے، اس کی یادیں کچھ ایسی ہوتی ہیں، جن کو وہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ وہ کیسے بھول سکتا ہے اس سرزمین کو، جس میں وہ اپنے آبا و اجداد، ماں باپ، بھائی بہن اور دوست و احباب کے ساتھ رہائش پزیر رہا ہو۔

ہندوستان میں بعض شرپسند عناصر مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں اور ہندوستان سے غداری و بے وفائی کا الزام لگاتے ہیں۔ وقفہ وقفہ سے پڑوسی ملک پاکستان چلے جانے کے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ مسلمان اس سرزمین کو کیوں چھوڑکر جائیں گے، جب کہ ہم نے اس سرزمین پر صدیوں حکمرانی و جہان بانی کی ہے۔ خون جگر سے اس سرزمین کو سینچا ہے، اس کی آغوش میں پروان چڑھے ہیں، اس کی آزادی کے لئے اپنا لہو بہایا ہے اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ دشمن سے نبرد آزما رہے، برطانوی سامراج کو ختم کرنے میں پہل کی اور ان کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رکھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے خلاف برطانوی سامراج کی قیامت خیز ظلم و ستم کی طویل فہرست موجود ہے، اس کے باوصف تاریخی حقائق سے دانستہ چشم پوشی کی جا رہی ہے، غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں، وطن سے بے وفائی کے بے بنیاد الزامات بڑی دلیری سے چسپاں کئے جا رہے ہیں، حتی کہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جا رہا ہے اور یہ باور کیا جارہا ہے کہ وہ بنیاد پرست اور اسلام پرست ہوتے ہیں، ان کے نزدیک وطن اور ملک کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ کیسا غیر معقول الزام ہے، جب کہ وطن کی محبت ایک فطری امر ہے اور دین اسلام وطن کی محبت، شوکت اور اس سے وفاداری کا حامی ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حب الوطنی سے سرشار کلمات سنہری حروف میں ثبت ہیں۔ جس وقت آپﷺ اپنے وطن مالوف مکہ مکرمہ سے کفار مکہ کی ظلم و زیادتی کی بناء پر ہجرت فرما رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ’’اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے، تو مجھے کس قدر محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا‘‘۔ (ترمذی)
مکہ مکرمہ کفار کے زیر تسلط تھا، کفار و مشرکین کا غلبہ تھا، بت پرستی کا رواج عام تھا، اس کے باوصف مکہ مکرمہ سے آپﷺ کا تعلق بہت گہرا تھا۔ مکہ مکرمہ میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، لیکن آپﷺ نے وطن ترک کرنا نہیں چاہا۔ جب ظلم و ستم انتہا کو پہنچا تو صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا اور آپﷺ بذات خود قیام پزیر رہے اور اپنی قوم سے نرمی کی توقعات وابستہ رکھیں، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہو گیا اور نرمی کی کوئی توقع باقی نہ رہی تو آپﷺ نے بادل نخواستہ ہجرت فرمائی۔

امام ذہبی علیہ الرحمہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب و پسندیدہ شخصیات و مقامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آپﷺ کو حضرت عائشہ، ان کے والد حضرت ابوبکر، حضرت اسامہ، حضرات حسنین کریمین، میٹھا، شہد، جبل احد اور اپنا وطن محبوب تھا‘‘۔
جب آپﷺ نے مدینہ منورہ کو اپنا وطن و مسکن بنالیا تو چوں کہ آپﷺ مکہ مکرمہ سے فطری و جبلی تھی، بارگاہ الہی میں دست بہ دعا ہوئے: ’’اے پروردگار! مدینہ کو ہمارے نزدیک محبوب بنادے، جس طرح ہم مکہ سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ محبت پیدا فرما‘‘۔ (بخاری و مسلم)
وطن کو ترک کرنا نفس پر نہایت گراں ہوتا ہے اور سخت تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید میں اپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت و تعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا ’’اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے معدود چند افراد کے‘‘ (سورۃ النساء۔۶۶) اور ایک مقام پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑکر فرمایا: ’’اللہ تعالی نے تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا، جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہ کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہ نکالا ہو‘‘۔ (سورۃ الممتحنہ۔۸)

حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے مکہ مکرمہ میں اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور فرزند حضرت اسماعیل علیہما السلام کو مستقل سکونت کے لئے چھوڑ دیا اور بارگاہ ایزدی میں عرض پرداز ہوئے، جس کو قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ’’اور جب حضرت ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس کو تو امن والا شہر بنادے اور اس کے باشندگان کو پھلوں سے سرفراز فرما جو لوگ ان میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۲۶)
وطن سے محبت ہو اور اہل وطن سے محبت نہ ہو، یہ ممکن نہیں، بلکہ وطن کی ایک ایک شے سے محبت ہوتی ہے۔ مسلم شریف میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء منقول ہے کہ ’’اے پروردگار! تو ہمارے لئے ہمارے کھجور میں برکت عطا فرما، ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما، ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، ہمارے لئے ہمارے مُد میں برکت عطا فرما۔ اے پروردگار! یقیناً ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، خلیل اور نبی ہے اور میں بھی تیرا بندہ اور نبی ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لئے دعا کی تھی اور میں مدینہ منورہ کے لئے وہی بلکہ اس کے دو چند کی دعا کرتا ہوں‘‘۔ (مسلم شریف)

ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس سے قلبی محبت ہوتی ہے اور یہ اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے یہ مقدس و متبرک مقامات ہیں اور اس کا تعلق دین و مذہب سے ہے۔ مقامات مقدسہ کی محبت و عظمت وطن کی محبت کے مغائر نہیں، جس طرح ماں باپ کی محبت، اولاد کی محبت کے مغائر نہیں اور دوست و احباب کی محبت، عزیز و اقارب کی محبت کے معارض نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم مسلمان ہندوستان سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں، اس کے ایک ایک ذرہ سے محبت رکھتے ہیں، اپنے ملک کی ایک انچ زمین کسی دوسرے ملک کو دینا گوارہ نہیں کرتے۔ اس ملک کو چھوڑکر کسی دوسرے پڑوسی ملک میں رہائش پزیر ہونے کی آرزو نہیں رکھتے۔ اسی سرزمین پر آنکھیں کھولی ہیں اور ایک دن اسی سرزمین میں پیوند خاک ہو جائیں گے، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم اس کی پرستش کریں، جس طرح دوسرے مذاہب کے لوگ کرتے ہیں، کیونکہ شاید ان کے نزدیک محبت کا پیمانہ بہت مختصر ہے، جو بہت جلد لبریز ہوکر چھلک جاتا ہے۔ ہمارے قلب کی وسعتوں کا کوئی دیگر قوم مقابلہ نہیں کرسکتی، جس کی ایک بہترین مثال یہ ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے نبی سے کس قدر والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ ہمارے نبی کی شان میں ادنی سی بے ادبی ہو جائے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جاتا ہے اور عالمی طاقتیں دہل جاتی ہیں، اس کے باوصف کوئی مسلمان اپنے نبی کی پرستش نہیں کرتا، وہ صرف اور صرف اپنے پروردگار ہی کی عبادت و پرستش کرتا ہے اور غیر خدا کی عبادت کو موجب کفر سمجھتا ہے۔ اسی طرح امت مسلمہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے صادر ہونے والے کلمات کی حفاظت کی ہے اور حفاظت حدیث اس امت کا اعجاز و کرشمہ ہے، اس کے باوصف ایک مسلمان اپنے آقاﷺ کے ایک کلمہ کو قرآن مجید میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا، اگرچہ وہ اپنے نبی کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اپنی اولاد اور مال و جائداد سے زیادہ محبوب رکھتا ہے۔ ایک مسلمان اپنے وطن سے دیگر برادران وطن سے کچھ کم محبت نہیں رکھتا، لیکن محبت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ محبت میں مغلوب ہوکر وطن اور ملک کو خدا کا درجہ دے دے، جو فی الواقعی جہالت اور غیر معقولیت ہے۔ مسلمانوں کی حب الوطنی روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان کو کسی نام نہاد فرقہ پرست کے سرٹیفکٹ کی چنداں ضرورت نہیں۔

TOPPOPULARRECENT