Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / حب الوطنی کا سبق پڑھا نے والے جدوجہد آزادی میں کہاں تھے؟

حب الوطنی کا سبق پڑھا نے والے جدوجہد آزادی میں کہاں تھے؟

Varanasi: Bihar CM and JD(U) President Nitish Kumar addresses a party meeting in Varanasi on Thursday. PTI Photo (PTI5_12_2016_000142A)

آر ایس ایس اور بی جے پی سے چیف منسٹر بہار نتیش کمار کا تلخ و تند سوال
وارناسی۔/12مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم  نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارناسی میں آج چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے حب الوطنی اور بلیک منی کے مسئلہ پر بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اتر پردیش میں اس کے قول و فعل کے تضاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں پر آئندہ سال اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے۔ انہوں نے یہاں ایک جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچیکہ بی جے پی حب الوطنی کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن اس کے اتالیق ( آر ایس ایس ) کا تحریک آزادی میں کوئی رول نہیں تھا، اور جس وقت عوام باپو ( گاندھی جی ) کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد کررہے تھے اس وقت آر ایس ایس گوشہ گمنامی میں تھی لیکن اب وہ ہمیں حب الوطنی کا درس دینے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس اپنی نظریاتی کامیابی پر عام ہندوستانیوں کو قومی پرچم لہرانے کیلئے مجبور کررہی ہے۔ جنتا دل متحدہ کے صدر نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم ( آر ایس ایس ) نے ترنگا لہرانا شروع کردیا کیونکہ تم لوگ  بھگوا ( زعفرانی ) پرچم کے کٹر حامی تھے

اور جس وقت ترنگا کو قومی پرچم کی حیثیت سے قبول کرلیا گیا تو اس وقت بی جے پی اور اس کے سیاسی آقاؤں دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ اتر پردیش میں اندرون ایک سال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر نتیش کمار نے بلیک منی واپس لانے کے مسئلہ کو اٹھایا اور مرکز میں برسراقتدار پارٹی کا تمسخر اُڑاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے وعدوں کے مطابق ہر ایک شہری کے کھاتہ میں 15-20لاکھ روپئے جمع کرنا ممکن نہیں ہے تو کم از کم 15-20 ہزار روپئے پیشگی قرض ( کریڈٹ ) کے طور پر ان کے کھاتوں میں ڈال دیئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی صدر امیت شاہ نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ کالا دھن کا مسئلہ انتخابی حربہ تھا، یہ استدلال پیش کرتے ہوئے کہ کسانوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اب مرکز سے کوئی امید وابستہ نہیں رہی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی میں اب تکبر اور غرور آگیا ہے لیکن یہ سیاست میںکارآمد ثابت نہیں ہوتی۔

بہار میں عوام کو گمراہ کرتے ہوئے2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 40 میں سے 31نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد ( جنتا دل متحدہ ، کانگریس، آر جے ڈی ) کے ہاتھوں اسے ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑی اور بہار کے عوام نے سارے ملک کو ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اتر پردیش میں بھی بی جے پی کے قول و فعل کے تضاد کو سمجھا جائے۔ مسٹر نتیش کمار نے وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقہ کے عوام اور باقیماندہ اترپردیش ووٹروں سے دریافت کیا کہ انہوں نے مودی سے کیا توقع کی تھی اور کیا حاصل کیا ہے؟ ۔ اتر پردیش کے عوام نے یہ کیا کردیا کہ 80میں سے 73 پارلیمانی نشستیں بی جے پی کے کھاتہ میں ڈال دیں لیکن اب یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ انہیں کیا حاصل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ نتیش کمار نے بہار اسمبلی کے نتائج سے حوصلہ پاکر قومی سطح پر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے غیر بی جے پی جماعتوں کے اتحاد کی تجویز پیش کی ہے۔

 

جرائم میں اضافہ پر بی جے پی نتیش کے استعفیٰ کی خواہاں
نئی دہلی ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جرائم کے واقعات میں اضافہ پر بی جے پی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر نتیش کمار سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا۔ یو پی میں وزیراعظم نریندر مودی کے انتخابی عمل میں وارناسی میں آج ہی سے صدر جے ڈی یو نتیش کمار نے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کریا ہے۔ اس موقع پر بی جے پی نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شبرسراقتدرا پارٹی کے ارکان کو اقتدار کا نشانہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT