Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / حتی کہ دہشت گردوں کے حقوق بھی محفوظ

حتی کہ دہشت گردوں کے حقوق بھی محفوظ

مناسب عمل کے بغیر کسی کو پھانسی پر بھی چڑھایا نہیںجاسکتا ‘‘
نئی دہلی۔ 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں عدم رواداری کے تلخ و تند تنازعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے آج کہا کہ ’’عدم رواداری دراصل ایک ’’سیاسی مسئلہ‘‘ ہے اور کسی کو اس وقت تک خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک عدلیہ آزاد ہے اور قانون کی حکمرانی برقرار ہے‘‘۔ چیف جسٹس نے یہاں اخباری نمائندوں سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے اُردو زبان میں کہا  کہ ’’یہ سیاسی پہلو ہیں‘‘۔ ’’ہمارے پاس قانون کی حکمرانی ہے اور جب تک قانون ہے تاوقتیکہ عدلیہ آزاد رہے گی اور عدالتیں، حقوق اور فرائض کی پاسدار رہیں گی۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ کسی کو بھی کسی بات پر خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت ہوگی‘‘۔ چیف جسٹس ٹھاکر نے مزید کہا کہ ’’مَیں اس ادارہ کی قیادت کررہا ہوں جو قانون کی حکمرانی کا پاسداد و نگہبان ہے اور تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہم عوام کے تمام طبقات کے حقوق کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میرا ادارہ، شہریوں کے حقوق کی نگہبانی کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’عدم رواداری کا مسئلہ دراصل قیاس و اِدراک سے تعلق رکھتا ہے اور سیاسی لوگ اس کا کیسا استعمال کرتے ہیں (اس کے بارے میں) مَیں کچھ کہنا نہیں چاہوں گا‘‘۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک بڑا ملک ہے، ہمیں کسی بات پر پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ یہ سب (عدم رواداری وغیرہ) محض اِدراک و قیاس کی باتیں ہیں‘‘ جب تک عدلیہ آزاد ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’لیکن ہم قانون کی حکمرانی اور مختلف مذاہب و ذات پات سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔ سماج کے کسی طبقہ کو خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ چیف جسٹس نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ غیرشہریوں اور حتی کہ دہشت گردوں کو بھی چند حقوق حاصل ہیں اور قانون کی حکمرانی کے ایسے استفادہ کنندگان کے خلاف قانون کی توثیق کے مطابق مقدمہ چلایا جاتا ہے، انہیں قانونی عمل کے بغیر پھانسی پر نہیں لٹکایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمارے پاس کوئی جانبداری یا رکاوٹیں نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کوئی تذبذب یا پس و پیش نہیں ہے۔ ہم تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ وہ کسی مخصوص واقعہ کا حوالہ نہیں دے رہے ہیں، مزید کہا کہ یہ ملک تمام مذاہب کا گہوارہ ہے اور حتی کہ دیگر ممالک میں منظم مظالم سے متاثرہ افراد بھی اس ملک میں پناہ لیتے ہوئے خوشحال زندگی گذارتے رہے ہیں‘‘۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ دیگر ممالک میں ظلم و جبر کے شکار عوام یہاں خوشحال زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمارے پاس پارسی برداری کے افراد بھی ہیں جن کی عظیم خدمات اور کارنامے ہیں۔ ہمارے پاس پارسی برادری کے سرکردہ ماہرین قانون اور صنعت کار ہیں۔ ان میں ایف ایس ناریمن، نانی پالکھی والا جیسے نامور اصحاب بھی ہیں جو قانون کی حکمرانی کے علمبردار ہیں اور آپ ان کی خدمات و کارناموں سے اچھی طرح واقف ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT