Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / حجاب و پردہ کا تحفظ و تقدس رضائے الہٰی کا ذریعہ

حجاب و پردہ کا تحفظ و تقدس رضائے الہٰی کا ذریعہ

اسلامی تہذیب کی پہچان، خواتین و طالبات کو پردہ کی پابندی کی تلقین

اسلامی تہذیب کی پہچان، خواتین و طالبات کو پردہ کی پابندی کی تلقین

حیدرآباد ۔ 17 مئی (پریس نوٹ) حجاب ہمارے لئے نعمت ہے، تقویٰ و پرہیزگاری کا سرچشمہ ہے، نیکی و خیر کی زبردست قوت ہے، معزز و معتبر خواتین و طالبات کی پہچان ہے، سب سے بڑھ کر اللہ کا حکم ہے اور اللہ رب العزت کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ روحی خاں نے مسلم گرلز اسوسی ایشن کی جانب سے عنبرپیٹ میں جاری تعارف اسلام کلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کو ایک جامع و مکمل لباس (حجاب) عطا کیا ہے تاکہ جب وہ گھر کے باہر جائے تو پہچان لی جائیں کہ وہ باعزت و شریف گھرانے کی بیٹیاں اور مائیں ہیں، ستائی نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام نے لڑکیوں و عورتوں کو غیر محرم و رشتہ داروں اور اجنبی مردوں کے سامنے بلاحجاب نکلنے سے منع کردیا ہے۔ سوائے ان رشتوں کے جن میں دادا، نانا، سگے ماموں، چچا و تایا، بھائی، بھتیجے، بھانجے، شوہر کے باپ، بیٹے، پوتے، نواسے، نوعمر بچے اور غلام جو عمر رسیدہ ہو۔ انہوں نے قرآنی آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ و نبی اکرم ﷺ نے صوابدید و فیصلے پر اس بات کو نہیں چھوڑ دیا کہ آپ چاہیں تو حجاب کریں، چاہے تو نہ کریں بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے 5 ہجری میں امت مسلمہ کے خواتین کی عصمت، عفت اور شرافت کی بلندی و اسلامی سماج کے اقدار اور اسلامی تہذیب و تمدن کے ارتقاء و پاکیزگی کے تحفظ کیلئے تاحیات و تاقیامت حجاب کو لازمی و فرض کردیا۔ کمسن لڑکیوں اور بزرگ خواتین کو چھوڑ کر دنیا کے تمام قطعوں و علاقوں و قبیلوں اور اقوام اور مختلف زبان کہنے والوں کے تمام عورتوں پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حجاب فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1400 سال پہلے بھی انتہائی ماڈرن اور مکمل تھا اور آج بھی انتہائی ماڈرن اور آئندہ قیامت تک بھی یہ سب سے زیادہ پرفیکٹ و ماڈرن رہے گا۔ حجاب و پردہ ایک جانب عورت کی سترپوشی کرتا ہے تو دوسری جانب اس کی اپنی شخصیت کی شناخت کو قائم رکھتا ہے اور تیسری جانب سوسائٹی کے مردوں کیلئے یہ اعلان ہیکہ ہم ملت اسلامیہ کی انتہائی باوقار مائیں اور بیٹیاں ہیں۔ ہم اللہ کے دیئے ہوئے لباس کا تقدس برقرار رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عبادات کو ہر وقت صحیح طور پر Perform کرنا پڑتا ہے۔ یہی معاملہ حجاب کی فرضیت کا ہے جو محترمات اور مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین یہ بہانہ ڈھونڈھتی ہیں کہ ہم ڈھیلا ڈھالا لباس پہنتے ہیں اوپر سے اوڑھنی اوڑھتے ہیں یا ساری پر بڑا سا دوپٹہ کافی ہے یا ٹائیٹ جینز و جیکٹ پر اسکارف پہنتے ہیں تو یہ سب مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔ ہماری بہنوں کو یہ جاننا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری سترپوشی اور زینت کیلئے لباس اور گھر کے باہر نکلنے پر ہمارے اپنے تحفظ و وقار کو برقرار رکھنے کیلئے حجاب کو فرض قرار دیا ہے۔ یہ ایک مقدس اللہ کا دیا ہوا لازمی لباس و تحفہ ہے۔ مومن عورت کیلئے حجاب کرکے گھر سے نکلنا دراصل عبادت ہے، وہ حجاب زیب تن کرکے کوئی ایسے حرام اور برے کام کی طرف قدم نہیں بڑھاتی جو اس عظیم حجاب و اس کی شخصیت کے تقدس کو پامال کرے۔ حجاب کرنے والی محجبات پر اللہ اور اس کے فرشتے سلام بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حجاب دراصل عورت کے عقلی، جسمانی، روحانی و ظاہری تمام امور اور باتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ جیسے عورتیں اور لڑکیاں جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو اپنی نظریں نیچی رکھیں، خوشبو لگا کر نہ نکلا کریں، زمین پر پیر مار کر جھنکار کے ساتھ نہ چلیں، بن ٹھن کر گھومتی نہ پھریں، مردوں سے لکچدار و دل موہ لینے والے انداز میں بات نہ کریں، نامحرم مردوں کے ساتھ علحدگی میں نہ رہیں، اپنے آپ کی حفاظت کریں، مصروفیت نہ ہو تو گھر میں بیٹھی رہیں۔ یہ حجاب عورتوں کیلئے عفت و عصمت کے مضبوط عالیشان عظیم ستون اور پرنور و محفوظ درودیوار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج حجاب عالمی چیلنج بنا ہوا ہے۔ باطل طاقتیں اور اسلام دشمن عناصر ہر طرح سے مسلمان بیٹیوں اور ماؤں کو حجاب سے دور کرنے اور ان کے ایمان کو کمزور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں شہروں کے مختلف مقامات کے سنٹرس میں محترمہ راشدہ خاتون، محترمہ بشریٰ ندیم، محترمہ خیرالنساء بیگم، محترمہ شمیم بیگم، محترمہ سائرہ بیگم، محترمہ کبریٰ بیگم، محترمہ شاہین بیگم اور محترمہ فاطمہ بیگم، محترمہ عائشہ تبسم و دیگر کارکنات مخاطب کررہی ہیں۔ مزید تفصیلات کیلئے فون نمبر 66632673 پر ربط کریں۔

TOPPOPULARRECENT