Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / حجاج کرام کو اپنی زندگی میں تبدیلی لانے اور دوسروں کیلئے مثال بننے کا مشورہ

حجاج کرام کو اپنی زندگی میں تبدیلی لانے اور دوسروں کیلئے مثال بننے کا مشورہ

حج سے واپسی پر حجاج کرام کی تہنیتی تقریب، پروفسیر ایس اے شکور اور علمأ کا خطاب

حیدرآباد 15 اکتوبر ( پریس نوٹ ) اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے حجاج کرام سے خواہش کی ہے کہ وہ فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی میںانقلابی تبدیلی لائیں اور دوسروں کے لئے ایک مثال اور نمونہ بنیں۔ انہوں نے آج دوپہر عابڈز فنکشن ہال ‘ تلک روڈ ‘ حیدرآباد میں حجاج کرام کی ایک تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ تقریب حج کی ادائیگی اور روضہ نبوی ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے بعد حجاج کرام کی واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقد ہوئی تھی۔ اس اجتماع میں جناب این ایم فاروق صدر نشین قانون سازکونسل آندھرا پردیش بھی شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ حج سے واپسی کے بعد حجاج کرام یہ کوشش کریں کہ زندگی اب قرآن اور سنت کے مطابق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہو‘معاملات سیدھے اور صاف صاف ہوں‘ غیبت اور جھوٹ سے بچیں۔ انہو ںنے کہا کہ حاجی کی زندگی ایسی ہو کہ حاجی اور غیر حاجی میں کچھ تو فرق محسوس ہو۔ انہوںنے کہا کہ ریاستی حج کمیٹی کی ذمہ داری ریاست تک محدود ہوتی ہے اور عازمین حج پلین میں سوار ہوجانے کے بعد حج کمیٹی کے دائرہ اختیار سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اور ان کے معاملات حکومت سعودی عرب اور حج مشن کے ذمہ ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکو رنے کہا کہ اس سال حجاج کرام کو بعض شکایات درپیش آئیں‘ زیادہ تر شکایات قیام گاہوں ‘ بسوں اور منیٰ میں انتظامات کے تعلق سے رہیں‘ جس کے تعلق سے حجاج کرام اپنی شکایات درج کروائیں‘ بہت جلد مرکزی حج کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں اس تعلق سے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ وہ ہر روز خادم الحجاج سے بات کرکے صورت حال سے واقفیت حاصل کرتے رہے ہیں ‘ تجربات کی روشنی میں تجاویز پیش کی جائیں گی‘ تاکہ آنے والے سال میں حجاج کرام کو ایسی شکایات نہ پیش آئے ۔ انہوں نے کہا کہ حج 2018 کے لئے حج درخواست فارم ایک مہینہ بعد درخواست فارم جاری کئے جائیں گے‘۔ حج سے واپسی کے بعد حجاج کرام کی ذمہ داری ‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی ابو بکر نے کہا کہ حجاج کرام حقوق کی ادائیگی خصوصاً خاندانی اور ازدواجی معاملات میں حقوق کی ادائیگی پر توجہ دیں‘ حج تو ہوگیا لیکن شرعی قوانین اور حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے تو پھر اس کا کیا فائیدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خاندان میں تناؤ اور کشیدگی کا ماحول ختم کریں‘نماز کی پابندی‘ پردہ کی پابندی جس طرح حج کے دوران کیا کرتے تھے اسی طرح واپس آنے کے بعد بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ حاجی بن جانا تو آسان ہے لیکن حاجی بن کر مرنا مشکل ہے۔ مفتی سید امجد نے کہا کہ حجاج کرام شریعت کے مطابق زندگی گزاریں‘ شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور خبردار رہیں اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں۔ مولانا مزمل جنید نے حجاج کرام پر زور دیا کہ سنتوں پر کاربند رہیں اور دین کی فکر کرتے رہیں۔ س موقعہ پرجناب عرفان شریف اے ای او حج کمیٹی بھی موجود تھے۔ اس تقریب میں حجاج کرام کی کثیر تعداد شریک تھی۔ خواتین کے لئے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔ تقریب کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی اور ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا۔ حجاج کرام کی اکثریت نے پروفیسر ایس اے شکور سے اظہار تشکر کیا۔ حجاج کرام نے ان کو اپنی مشکلات اور مسائیل سے بھی واقف کروایا۔

TOPPOPULARRECENT