Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حجاج کرام کو کتاب و سنت کی پابندی کرنے اور دوسروں کیلئے مثال بننے کا مشورہ

حجاج کرام کو کتاب و سنت کی پابندی کرنے اور دوسروں کیلئے مثال بننے کا مشورہ

حج سے واپسی کے بعد حجاج کرام کی تہنیتی تقریب: پروفیسر ایس اے شکور اور علماء کا خطاب
حیدرآباد  6   نومبر ( پریس نوٹ ) اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے  حجاج کرام سے خواہش کی ہے کہ وہ فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی میںانقلابی تبدیلی لائیں اور  دوسروں کے لئے ایک مثال اور نمونہ بنیں۔ انہوں نے آج دوپہر  عابڈز فنکشن ہال ‘ تلک روڈ ‘ حیدرآباد میں  حجاج کرام کی ایک  تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ تقریب حج کی ادائیگی اور روضہ نبوی ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے بعد حجاج کرام کی واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقد ہوئی تھی۔  انہوں نے کہا کہ حج سے واپسی کے بعد حجاج کرام یہ کوشش کریں کہ زندگی اب قران اور سنت کے مطابق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہو۔ معاملات سیدھے اور صاف صاف ہوں‘ غیبت اور جھوٹ سے بچیں۔ انہوںنے کہا کہ ریاستی حج کمیٹی کی ذمہ داری ریاست تک محدود ہوتی ہے اور عازمین حج پلین میں سوار ہوجانے کے بعد حج کمیٹی کے دائرہ اختیار سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اور ان کے معاملات حکومت سعودی عرب اور حج مشن کے ذمہ ہوجاتے ہیں۔  پروفیسر ایس اے شکو رنے کہا کہ اس سال حجاج کرام کو بعض شکایات درپیش آئیں‘ جن میں سم کارڈ کی فراہمی کا مسئلہ سرفہرست رہا‘ سم کارڈ حکومت سعودی عرب کی جانب سے جاری کیا گیا ‘ آئندہ سال بھی سم کارڈ وہیں جاری ہوگا۔ اس کے علاوہ گرین زمرہ میں پکوان پر پابندیوں کے تعلق سے بھی الجھن رہی‘ پہلے اجازت دی گئی‘ پھر اس کو منسوخ کردیا گیا اور بعد میںبحال کیا گیا‘  انہوں نے بتایا کہ حج 2017کے دوران گرین۔ زمرہ میں پکوان کی اجازت نہیں ہوگی‘ اس لئے حکومت ہند کوشش کررہی ہے کہ گرین زمرہ اور عزیزیہ کے درمیان ایک اور زمرہ تشکیل دیا جائے جہاں حجاج کرام کو پکوان کی سہولت مل سکے۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی نے کہا کہ حج 2017کے لئے حج درخواست فارم ماہ دسمبر کے آخری ہفتہ سے جاری کئے جائیں گے‘ اس مرتبہ فارم صرف ایک صفحہ پر مشتمل ہوگا۔  انہوںنے کہا کہ وہ ہر روز خادم الحجاج سے بات کرکے صورت حال سے واقفیت حاصل کرتے رہے‘ جس کی روشنی میں ممبئی میںحال ہی میں منعقدہ حج کانفرنس کے دوران انہوں نے بعض ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں۔  حج سے واپسی کے بعد حجاج کرام کی ذمہ داری ‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی ابو بکر نے کہا کہ حجاج کرام حقوق کی ادائیگی خصوصاً خاندانی اور ازدواجی معاملات میں حقوق کی ادائیگی پر توجہ دیں‘ حج تو ہوگیا لیکن شرعی قوانین اور حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے تو پھر اس کا کیا فائیدہ ہوا۔  انہوں نے کہا کہ خاندان میں تناؤ اور کشیدگی کا ماحول ختم کریں‘نماز کی پابندی جس طرح حج کے دوران کیا کرتے تھے اسی طرح واپس آنے کے بعد بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ حاجی بن جانا تو آسان ہے لیکن حاجی بن کر مرنا مشکل ہے۔ مفتی سید امجد نے کہا کہ حجاج کرام شریعت کے مطابق زندگی گزاریں‘ شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور خبردار رہیں اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں۔جناب عرفان شریف اے ای او حج کمیٹی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس تقریب میں حجاج کرام کی کثیر تعداد شریک تھی۔ خواتین کے لئے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT