Wednesday , July 18 2018
Home / ہندوستان / حج سبسڈی کا مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ ، وی ایچ پی کا اعتراض

حج سبسڈی کا مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ ، وی ایچ پی کا اعتراض

اقلیتوں کی تعلیم کیلئے خرچ کی کانگریس کو اُمید ، مسلم لیگ کی جانب سے مذمت
نئی دہلی۔ 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی بہبود مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت ہر سال حج سبسڈی کی شکل میں 700 کروڑ روپئے ادا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حج سبسڈی سے بچنے والی رقم صرف اور صرف مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو 2012ء میں حج سبسڈی ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کو 2022ء تک حج سبسڈی پوری طرح ختم کردینی چاہئے۔ دریں اثناء وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) مرکزی وزیر اقلیتی اُمور کے اس اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حج سبسڈی کی رقم صرف مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر کیوں خرچ کی جارہی ہے۔ تمام مستحق لڑکیوں کی تعلیم پر بلالحاظ مذہب و ملت کیوں خرچ نہیں کی جاتی۔ وی ایچ پی نے مطالبہ کیا کہ حج سبسڈی کی رقم تمام مستحق لڑکیوں کی بشمول ہندو لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے۔ صرف مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر نہیں۔ دریں اثناء کانگریس نے اُمید ظاہر کی کہ حج سبسڈی کی برخاستگی کے ذریعہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل آوری کی ہے، تاہم اس نے اُمید ظاہر کی کہ حکومت ان فنڈس کو بے اختیار اقلیتی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرے گی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے اعلان کیا تھا کہ جاریہ سال سے حج سبسڈی ادا نہیں کی جائے گی۔ کانگریس کے سینئر ترجمان غلام نبی آزاد حکومت نے مقررہ وقت سے 4 سال قبل سبسڈی کی ادائیگی ختم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی، مسلمانوں کی خوشامد نہیں ہے اور امید ظاہر کی کہ اس سے ایرلائینز کو فائدہ پہنچے گا، کیونکہ اسے دوگنا کرایہ حاصل ہوگا۔ ہم اس کو ایک مسئلہ ہرگز نہیں بنانا چاہتے، لیکن اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ یہ رقم مستحق اقلیتی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کی جائے گی۔ تیرواننتھاپورم سے موصولہ اطلاع کے بموجب کیرالا کی کانگریس اور مسلم لیگ نے حج سبسڈی جاریہ سال سے ختم کردینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ رمیش چنی تھالہ نے الزام عائد کیا کہ یہ اعلان بدبختانہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT