Monday , July 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حج سبسیڈی… نام حاجیوں کا فائدہ ایرانڈیا کا!

حج سبسیڈی… نام حاجیوں کا فائدہ ایرانڈیا کا!

حیدرآباد، ممبئی اور احمد آباد مراکز غیر متاثر، دیگر شہروں کے عازمین کے فضائی کرایہ میں اضافہ کا امکان
حیدرآباد۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے جاریہ سال سے حج سبسیڈی کی برخاستگی کے اعلان سے 2018ء کے عازمین حج میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق 2022ء تک حج سبسیڈی کو ختم کرنا ہے لیکن مرکزی حکومت نے جاریہ سال ہی یہ فیصلہ کرلیا۔ اس اچانک فیصلہ سے عازمین حج میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ سبسیڈی کی برخاستگی سے حج اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ حج سبسیڈی کی برخاستگی کا اثر حیدرآباد امباریگیشن پوائنٹ سے روانہ ہونے والے عازمین پر نہیں پڑے گا تاہم ملک کی دیگر ریاستوں کے عازمین کے فضائی کرایہ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حج سبسیڈی دراصل مکمل اخراجات پر نہیں بلکہ صرف فضائی کرایہ پر دی جارہی تھی۔ سبسیڈی کے لیے نام تو عازمین حج کا لیا جاتا ہے لیکن اصل فائدہ ایرانڈیا کا ہورہا تھا جو زائد کرایہ کے ذریعہ اپنے نقصانات کی پابجائی میں مصروف تھا۔ نام کسی کا اور فائدہ کسی کا کے مصداق حج سبسیڈی پر عمل کرتے ہوئے حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی تھی جیسے وہ مسلمانوں پر کوئی احسان کررہی ہو۔ سپریم کورٹ نے 2012ء میں 2022ء تک سبسیڈی کی بتدریج برخاستگی کی ہدایت کے ساتھ سبسیڈی کی رقم مسلمانوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ 2012ء میں سبسیڈی کی رقم 782 کروڑ تھی جو بتدریج گھٹ کر 2017ء میں 200 کروڑ ہوگئی۔ ایرانڈیا جسے عازمین کی آمد و رفت کا کنٹراکٹ دیا جاتا رہا اس نے عازمین سے چارٹرڈ فلائٹ کے اعتبار سے دوہرا کرایہ وصول کیا اور کمپنی کا استدلال تھا کہ عازمین کو سعودی عرب پہنچانے کے بعد مسافرین کے بغیر ہی خالی فلائٹ واپس ہوتی ہے۔ اس طرح دوہرا کرایہ وصول کیا جاتا رہا۔ سبسیڈی کے فوائد تلنگانہ کے عازمین حج کو 2016ء تک حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ سال 2017ء میں فضائی کرایہ پر کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے اسپیشل آفیسر پروفیسر ایس اے شکور کی جانب سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2014ء میں حقیقی کرایہ 66,600 روپئے تھا لیکن رعایتی شرح پر 35 ہزار وصول کیے گئے اور فی حاجی 31 ہزار 600 روپئے کا فائدہ ہوا۔ 2015ء میں 68,288 روپئے فضائی کرایہ میں 26,300 کی سبسیڈی فراہم کرتے ہوئے 42 ہزار وصول کیے گئے۔ 2016ء میں 56,868روپئے طے پایا اور 11,850 کی سبسیڈی فراہم کرتے ہوئے 45 ہزار روپئے وصول کیے گئے۔ 2017ء میں حقیقی کرایہ 60,023 طے پایا لیکن تلنگانہ کے عازمین کو کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی برخلاف اس کے 2000 روپئے زائد شامل کرتے ہوئے فی کس 62,065 کرایہ وصول کیا گیا۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والے آندھراپردیش کے عازمین اور کرناٹک کے پانچ اضلاع کے عازمین کے لیے بھی یہی کرایہ وصول کیا گیا۔ کرایہ کا تعین روانگی کے مقام سے منزل کی مسافت کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال ممبئی، احمد آباد اور حیدرآباد سے روانہ ہونے والے عازمین کا کرایہ 65 ہزار سے کم تھا لہٰذا کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی۔ حکومت نے 200 کروڑ کی جو سبسیڈی فراہم کی تھی اسے سنٹرل حج کمیٹی نے ملک کی ان ریاستوں میں تقسیم کردیا جہاں سے کرایہ 65 ہزار روپئے سے زائد ہے۔ اس طرح 62,065 ہزار کی حد مقرر کرتے ہوئے اضافی رقم سبسیڈی کے طور پر ادا کی گئی۔ گوہاٹی سے فضائی کرایہ 1,11,723 روپئے ہے اور وہاں کے عازمین کو فی کس 49,650 کی سبسیڈی فراہم کی گئی۔ گیا سے کرایہ 1,06,868 روپئے ہے اور وہاں فی کس 44,800 روپئے کی سبسیڈی دی گئی۔ سرینگر کے عازمین کو 41,200، رانچی 41,550 ، مینگلور 35,700 وارانسی 22,399، لکھنو 14,150، کولکتہ 13,030 ، جئے پور 13,450، اندور 28450، گووا 12, 650، بھوپال 26,550 اور اورنگ آباد کے عازمین کو فی کس 18,700 روپئے کی سبسیڈی فراہم کی گئی تھی۔ اب جبکہ مرکزی حکومت نے سبسیڈی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے لہٰذا اندیشہ ہے کہ تلنگانہ، احمد آباد اور ممبئی چھوڑکر دیگر شہروں سے روانہ ہونے والے عازمین کے فضائی کرایہ میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر سرینگر، رانچی، اندور گوہاٹی، گیا، بھوپال، اورنگ آباد، کوچن، چینائی، گوا، جئے پور، کولکتہ، اور لکھنو کے عازمین پر زائد مالی بوجھ پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی حکومت سبسیڈی کی برخاستگی کے بعد عازمین کو زائد کرایہ کے بوجھ سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT