Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / حج سبسیڈی کی برخاستگی ، معمر خواتین کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت

حج سبسیڈی کی برخاستگی ، معمر خواتین کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت

نئی حج پالیسی کی تجاویز ، وزیر اقلیتی امور کو مسودہ کی پیشکشی ، ذریعہ طیارہ سفر کے مقامات میں کمی

ممبئی ۔ /7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز کی مقرر کردہ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ مجوزہ حج پالیسی کے مسودہ کی چند اہم جھلکیوں میں عازمین حج کو دی جانے والی سبسیڈی کی برخاستگی اور خاتون عازمین کو کم سے کم چار کے گروپ کی شکل میں محرم مرد کے بغیر سفر حج کی اجازت بھی شامل ہے ۔ سابق سکریٹری افضل امان اللہ کی زیرقیادت اس کمپنی نے اپنی مجوزہ حج پالیسی 2018-22 ء میں سفارش کی ہے کہ سعودی عرب کو روانگی کے لئے طیاروں کی پرواز کے مقامات کو موجودہ 21 سے گھٹاکر 9 کردیا جائے ۔ مجوزہ حج پالیسی کا یہ مسودہ آج مرکزی وزیر اقلیتی امور کو پیش کیا گیا ۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’’2018 ء کے عازمین حج اس نئی حج پالیسی کے خطوط پر سفر کریں گے ۔ یہ ایک اچھی پالیسی ہے ۔ جس میں عازمین کیلئے سہولتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ یہ ایک شفاف اور عوام دوست پالیسی ہے ۔ اس سے عازمین کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا ، حج سبسیڈی کو بتدریج ختم کیا جائے گا ‘‘ ۔ وزارت کے ذرائع نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کی جانب سے 2012 ء میں جاری کردہ احکام کی روشنی میں یہ پالیسی مدون کی گئی ہے جس کے ذریعہ مرکز کو بتدریج 2022 ء تک حج سبسیڈی برخاست کرنے کیلئے کہا گیا تھا ۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ’’نئی حج پالیسی کی اہم جھلکیوں میں حج سبسیڈی کی برخاستگی ہے ۔ علاوہ ازیں اس نے ایک اہم اصلاحی اقدام کی تجویز کی ہے ۔ جس کے مطابق 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کسی محرم مرد کے بغیر کم سے کم چار (خواتین) کے گروپ کی شکل میں مقدس فریضہ کیلئے سفر کرسکتی ہیں ‘‘ ۔ تاحال خاتون عازمین کسی محرم مرد کے بغیر حج کا سفر نہیں کرسکتیں ۔ محرم کی اصطلاح ایک ایسے مرد کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو اس عورت سے شادی نہیں کرسکتا ہے جو رشتہ میں اس کا والد ، بھائی ، بیٹا وغیرہ ہوتا ہے۔ البتہ 45 سال سے کم عمر کی خواتین صرف محرم مرد کے ساتھ ہی حج کا سفر کرسکتی ہیں ۔ نئی پالیسی میں محرم کوٹہ کی موجودہ تعداد 200 کو بڑھاکر 500 تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزارتی ذرائع نے کہا کہ سبسیڈی کے لئے مختص فنڈس مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی بااختیاری کے لئے استعمال کئے جائیں گے ۔ نئی پالیسی نے تجویز میں کہا کہ طیاروں کے سفر کے بہ نسبت سمندری جہاز کا سفر ارزاں ہے ۔ سمندری جہاز کے ذریعہ سفر کے موضوع پر حکومت سعودی عرب سے مشاورت کی جائے گی ۔ جس کے بعد ہی اس قسم کے سفر کیلئے مارکٹ کو مشغول و متحرک کیا جائے گا ۔ نئی پالیسی کے مطابق ذریعہ طیارہ سفر حج پر روانگی کے 9 مقامات میں دہلی ، لکھنؤ ، کولکتہ ، احمد آباد ، ممبئی ، چینائی ، حیدرآباد، بنگلورو اور کوچن شامل رہیں گے ۔ ان مقامات پر مناسب حج ہاؤز بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ سمندری سفر کے پیش نظر طیاروں سے روانگی کے مقامات میں کمی کی جارہی ہے ۔ حج پالیسی میں حج کوٹہ کی تقسیم کو معقول بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ آئندہ پانچ سال کے دوران حج کمیٹی آف انڈیا اور خانگی ٹور آپریٹروں کے درمیان 70:30 کی نسبت سے تقسیم کی سفارش کی گئی ہے ۔ عازمین حج کیلئے ہندوستان کا سالانہ کوٹہ 1.70 لاکھ ہے ۔ نئی پالیسی نے ہندوستانی عازمین کی سعودی عرب کے مقام منیٰمیں قیام کو یقینی بنانے کی سفارش بھی کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT