Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / حج سبسیڈی کی برخواستگی سے تلنگانہ کے عازمین متاثرنہیں ہوںگے

حج سبسیڈی کی برخواستگی سے تلنگانہ کے عازمین متاثرنہیں ہوںگے

عازمین کو پریشانی کی ضرورت نہیں،فضائی کرایہ گزشتہ سال کی طرح رہیگا، دیگر اخراجات کی عازمین کی جانب سے تکمیل

حیدرآباد۔16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے حج سبسیڈی کی برخواستگی کا اعلان کیا ہے لیکن اس فیصلہ سے تلنگانہ کے عازمین حج متاثر نہیں ہوں گے۔ حیدرآباد سے روانہ ہو نے والے تلنگانہ ، آندھراپردیش اور کرناٹک کے 5 اضلاع کے عازمین کے اخراجات میں حج سبسیڈی کی برخواستگی سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور فضائی کرایہ جوں کا توں برقرار رہے گا۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے حج سبسیڈی کی برخواستگی کا اعلان کیا جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق 2022 ء تک مرحلہ وار انداز میں سبسیڈی ختم کی جانی چاہئے ۔ 2012 ء میں سپریم کورٹ نے سبسیڈی کے مرحلہ وار برخواستگی کا فیصلہ سنایا تھا۔ مرکز کے آج کے اعلان کے ساتھ ہی تلنگانہ کے عازمین حج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور وہ حج کمیٹی کے دفتر ربط قائم کرتے ہوئے فیصلہ کے اثرات کے بارے میں معلومات کرنے لگے۔ عازمین کو اندیشہ ہے کہ سبسیڈی کی برخواستگی سے حج اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ حج سبسیڈی مکمل اخراجات پر نہیں بلکہ صرف فضائی کرایہ پر ہے۔ باقی تمام اخراجات عازمین حج ادا کرتے ہیں۔ فضائی کرایہ کا تعین مسافت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ فضائی کرایہ پر سبسیڈی جو 50 فیصد تھی ، وہ گھٹ کر 30 فیصد ہوچکی ہے۔ تاہم حیدرآباد سے روانہ ہونے والے عازمین پر سبسیڈی کے فیصلہ کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا۔ 2016 ء میں حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کے عازمین کو فی کس 15,000 روپئے سبسیڈی فضائی کرایہ میں حاصل ہوئی تھی جبکہ 2017 ء یعنی گزشتہ سال فضائی کرایہ میں کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی۔ حیدرآباد ہی نہیں گجرات اور ممبئی سے روانہ ہونے والے عازمین کو بھی فضائی کرایہ میں کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی تھی اور یہ خالص مسافت کی بنیاد پر ہے۔ طویل مسافت والے علاقوں میں فضائی کرایہ زیادہ ہوتا ہے اور انہیں 30 فیصد سبسیڈی دی جاتی ہے۔ حیدرآباد سے جانے والے عازمین کا ٹکٹ حیدرآباد تا جدہ اور مدینہ تا حیدرآباد ہوتا ہے۔ ٹکٹ کی قیمت گزشتہ سال 62065 مقرر کی گئی تھی۔ فضائی کرایہ میں سبسیڈی ان مقامات پر دی جاتی ہے جہاں کا کرایہ 65,000 روپئے سے زائد ہو۔ لہذا سبسیڈی کی برخواستگی کے فیصلہ کا تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایر انڈیا کی جانب سے جو فضائی کرایہ مقرر کیا جاتا ہے ، اس سے کم کرایہ میں خانگی ٹور آپریٹرس نے عازمین حج کو روانہ کیا ہے۔ حقیقی فضائی کرایہ بھی ایر انڈیا کے مقررہ فصائی کرایہ سے کم ہے۔ حج کمیٹی سے جانے والے عازمین کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچانا اگر حکومت کا مقصد ہے تو اسے تلنگانہ حج کمیٹی کی تجویز پر عمل کرنا چاہئے ۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے وزیر خارجہ سشما سوراج ، وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی اور سنٹرل حج کمیٹی کے اجلاسوں میں تجویز پیش کی تھی کہ عازمین حج کی آمد و رفت سے متعلق کنٹراکٹ نامینیشن کی بنیاد پر ایرانڈیا کو دینے کے بجائے گلوبل ٹنڈرس طلب کئے جائیں۔ ایر انڈیا کنٹراکٹ حاصل کر کے سعودی ایر لائینس اور فلائی ناز ایر لائینس کو سب لیز دیتا ہے اور وہی کرایہ طئے کرتا ہے ۔ اگر گلوبل ٹنڈرس طلب کئے جائیں تو عازمین حج کا کرایہ 45,000 تک گھٹ جائے گا۔ واضح رہے کہ حکومت ہند کی سبسیڈی سے دیگر اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ عازمین حج ایام حج کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام ، ٹرانسپورٹیشن ، منیٰ اور عرفات میں قیام کے علاوہ معلم کی فیس بھی اپنے خرچ سے ادا کرتے ہیں اور اس کا سبسیڈی سے کوئی تعلق نہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ سبسیڈی کی برخواستگی کے فیصلہ سے الجھن کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس فیصلہ کا تلنگانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حج کے اخراجات گزشتہ سال کے مطابق ہی ہوںگے۔

TOPPOPULARRECENT