Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حج سبسیڈی کے خاتمہ کے بعد عازمین کی نگرانی اور قوانین کا پابند بنانے کا کوئی جواز نہیں

حج سبسیڈی کے خاتمہ کے بعد عازمین کی نگرانی اور قوانین کا پابند بنانے کا کوئی جواز نہیں

حج کمیٹی کو برخاست کر کے آزاد کمیٹی کی تشکیل پر زور ، دہلی ہائی کورٹ میں شاہد علی کی درخواست
حیدرآباد۔7فروری(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے حج سبسیڈی کے خاتمہ کے بعد حج بیت اللہ کی ادائیگی کے لئے روانہ ہونے والے عازمین کی نگرانی اور انہیں اپنے قوانین کا پابند بنائے رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا بلکہ حج کمیٹی کو برخواست کرتے ہوئے سفر مقدس کیلئے حکومت کے کنٹرول سے آزاد کمیٹی کی تشکیل دی جانی چاہئے۔ دہلی ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ شاہد علی نے درخواست مفاد عامہ داخل کرتے ہوئے عدالت سے خواہش کی ہے کہ وہ اس معاملہ کی سنوائی کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت جاری کرے کہ وہ حج کمیٹی ایکٹ 2002کی تنسیخ کو یقینی بناتے ہوئے خودمختار ادارہ کی تشکیل کی راہ ہموار کرے۔ گذشتہ ہفتہ داخل کردہ اس درخواست میں عدالت کو اس بات سے واقف کروایا گیا کہ جب حکومت نے حج سبسیڈی کے خاتمہ کے ذریعہ ہوائی سفر پر فراہم کی جانے والی سبسیڈی کو ختم کردیا ہے تو ایسے میں ان امور میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔دہلی ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست مفاد عامہ میں سکھ مت کے لئے موجود گردوارہ ایکٹ 1925کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سکھ مت کو جس طرح اپنے مذہبی معاملات و سرگرمیوں کو انجام دینے کی اجازت فراہم کی گئی ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے آزادانہ ادارہ کے قیام کی اجازت فراہم کی جانی چاہئے۔ درخواست گذار نے عدالت سے خواہش کی ہے کہ وہ وزارت شہری ہوا بازی کو بھی ہدایت جاری کرے کہ وہ ہندستان سے سعودی عرب پروازیں چلانے والی ائیر لائنس سے کھلے ٹنڈر طلب کرتے ہوئے عازمین حج کی روانگی کا انتظام کرے یا پھر عازمین حج کو اپنے طور پر حج بیت اللہ کا ٹکٹ خریدنے کا اختیار فراہم کرے کیونکہ سبسیڈی ختم کئے جانے سے عازمین کو کوئی نقصان نہ ہو بلکہ ہوائی ٹکٹ میں دی جانے والی سبسیڈی کے خاتمہ سے پڑنے والے اثرات سے انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔ درخواست گذار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے سبسیڈی کی برخواستگی سے فضائی کمپنیو ںکو کھلے ٹنڈر کے ذریعہ ٹکٹ کی قیمتوں کے تعین کی راہیں ہموار ہوں گی۔ انہوںنے درخواست میں بتایا کہ حج کمیٹی ایکٹ کو برخواست کرتے ہوئے آزاد امور کا ادارہ قائم کئے جانے کے مثبت اثرات ہوں گے اسی لئے سکھوں کو جس طرح مذہبی امور کی انجام دہی کیلئے گردوارہ ایکٹ 1925 بنایاگیا ہے اسی طرزپر مسلمانوں کو بھی اپنے مقدس سفر کی اجازت کیلئے علحدہ ایکٹ کے نفاذ پر غور کیا جانا چاہئے تاکہ سفر مقدس کے متعلق مسلمان کسی کمیٹی کے قوانین یا پابندیوں کے دائرہ میں نہ رہیں بلکہ وہ اپنے آزاد ادارہ کے ذریعہ یہ سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ حج سبسیڈی کی برخواستگی کے بعد مرکزی و ریاستی حج کمیٹیوں کے وجود پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے کیونکہ جب حکومت کی جانب سے کوئی گرانٹ یا سبسیڈی فراہم نہیں کی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کو چاہئے کہ وہ سفر مقدس کو سرکاری کنٹرول سے مکمل طور پر آزاد رکھے اور درخواستوں کی طلبی عازمین کے انتخاب اور ان کی روانگی و واپسی کے امور میں مداخلت بھی نہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT