Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حج مقدس فریضہ ، سبسیڈی کی برخواستگی کی تجویز سنگھ پریوار کو تقویت پہونچانے کے مماثل

حج مقدس فریضہ ، سبسیڈی کی برخواستگی کی تجویز سنگھ پریوار کو تقویت پہونچانے کے مماثل

حیدرآباد کے ایم پی کا بیان افسوسناک ، علی بن ابراہیم مسقطی تلگو دیشم لیڈر کا سخت ردعمل
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : آرگنائزنگ سکریٹری تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی جناب علی بن ابراہیم مسقطی نے حج سبسیڈی برخواست کردینے کی رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حج کے مقدس فریضہ کی تکمیل کے لیے سبسیڈی بالکل جائز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے چنانچہ صاحب استطاعت پر حج فرض بھی ہے جب کہ وہ اصحاب جو استطاعت نہیں رکھتے وہ سبسیڈی کے ذریعہ اپنے مقدس فریضہ کی تکمیل کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ چند اصحاب کو اہل خیر حضرات حج بدل بھی کرواتے ہیں تاکہ مسلمان کی آخری خواہش پوری ہوسکے ۔ جناب علی مسقطی نے کہا کہ ہر مسلمان کی دلی تمنا ہوا کرتی ہے کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ مقدس فریضہ کی تکمیل کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار جو مسلمانوں کی بے باک نمائندگی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ، انہوں نے حج سبسیڈی برخواست کرنے کی حکومت کو تجویز پیش کررہے ہیں اور مذکورہ رقم کو لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے جو کہ بالکلیہ طور پر غلط اور مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کرنے کے مماثل ہے ۔ علی مسقطی نے کہا کہ ملک بھر کے تمام ریاستوں میں اقلیتوں کے لیے مختص کردہ بجٹ کا بہتر استعمال نہ ہونے کے باعث سال کے اختتام سے قبل بھی مذکورہ مختص کردہ بجٹ کا نصف حصہ حکومتوں کو واپس ہوجایا کرتا ہے جس کی واضح مثال تلنگانہ حکومت سے دی جاتی ہے حکومت تلنگانہ کے اقلیتوں کے لیے 1200 کروڑ سے قریب بجٹ مختص کیا لیکن افسوس کہ نصف حصہ کا بھی استعمال نہیں ہوپایا جب کہ اس بات سے جمیع اراکین اسمبلی و رکن پارلیمان بھی خود شاہد ہیں باوجود جاری قیادت کی بے بسی ہے کہ نہ ہی اسمبلی وپارلیمنٹ میں آواز بلند کی گئی اس کے برعکس حج سبسیڈی کی برخواستگی مسلمانوں کے لیے نہ صرف سوالیہ نشان ہیں بلکہ لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ علی مسقطی نے کہا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کی مذکورہ تجویز دراصل آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کو تقویت پہنچانے کے مماثل ہے ۔ علی مسقطی نے کہا کہ اگر اقلیتوں کے لیے مختص کردہ حج سبسیڈی برخواست کی گئی تو یہ بھی ممکن ہے کہ دیگر مذاہب کو دئیے جانے والے سبسیڈی بھی برخواست ہونے کا خدشہ ہے ۔ علی مسقطی نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں تمام جمہوری اصولوں پر کاربند ہیں وہ بحیثیت ہندوستانی ملک کے تمام مراعات کے حصول کے بھی پابند ہیں ۔ لہذا اس طرح کی تجویز پیدا کرتے ہوئے مسلمانوں کو معاشی پسماندگی سے دوچار کرنے کی سازش ظاہر ہوتی ہے ۔ علی مسقطی نے کہا کہ ہمارے قائدین کو چاہئے کہ وہ ریاست کے مسلمانوں کو سطح غربت سے نکالنے کے لیے انہیں حکومتیں سطح پر ان کے معاشی موقف کو بہتر بنانے کے لیے بلا سودی قرضہ جات کی فراہمی پر غور کریں تاکہ مسلمان اپنا معاشی موقف بہتر بناسکے ۔ علی مسقطی نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ فرقہ پرستوں سے دور رہیں جو مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT