Monday , November 20 2017
Home / مضامین / حج و عمرہ اور احکامات کی پابندی

حج و عمرہ اور احکامات کی پابندی

کے این واصف
آج سے تین دن بعد کعبتہ اللہ سے چار کیلومیٹر کی دوری پر ایک بار پھر خیموں کا شہر منیٰ آباد ہوگا۔ لاکھوں نفوس پر مشتمل ایک ایک اجتماع جس کی مثال دنیا کا کوئی اور اجتماع نہیں دے سکتا ۔ اقطاع عالم سے لاکھوں مسلمان مرد و خواتین یکجا ہوں گے ۔ الگ الگ رنگ و نسل ، الگ الگ بولیاں بولنے والے ، الگ الگ تہذیبوں کے پروردہ ، ایک جیسے لباس میں ایک مقصد کے حصول یعنی اپنے گناہوں کی بخشش ، اپنی خطاؤں سے توبہ اور اپنی غلطیوں کی معافی ، دنیا کے مسائل و مصائب سے چھٹکارہ اور آخرت میں کامیابی کیلئے دعائیں کریں گے ، روئیں گے ، گڑگڑائیں گے ، بارگاہ رب العزت میں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے والوں میں سب ہی شامل رہیں گے ۔ بوڑھے ، جوان ، صحت مند ، توانا ، بلکہ آج کل اس عظیم اجتماع میں صحت مند اور کم عمر افراد کی اکثریت نظر آتی ہے ۔ لگتا ہے وہ زمانے لد گئے جب لوگ حج کی ادائیگی کو زندگی کا آخری کام تصور کرتے تھے ۔ گزرے وقتوں میں زیادہ تر بڑی عمر میں ہی فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے نکلتے تھے ۔ جب وہ اپنی زندگی کی تمام ذمہ داریوں سے فراغت پاجاتے تھے ،  لیکن پچھلے کچھ برسوں میں اس تصور میں تبدیلی آئی ہے  ۔ اب لوگ عمر کے بڑھنے سے قبل اور صحت کے اچھے رہتے فریضہ حج کی ادائیگی سے فارغ ہورہے ہیں ۔ جو ایک خوش آیند بات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں عمرہ اور حج پر آنے والوں کی تعداد میں پچھلی ڈیڑھ دہائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ ضیوف الرحمن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت سعودی عرب حرمین شریفین کی گنجائش میں اضافہ بھی کررہی ہے ۔ لیکن ہر توسیعی منصوبے کے اختتام پر محسوس ہوتا ہے یہ اضافہ بھی ناکافی  ہے ۔ چند دن قبل جدید توسیعی منصوبہ مکمل ہوا ۔ ایسے ہی کام کے لئے نصب کئے گئے کرین میں ایک دیو ھیکل کرین پچھلے جمعہ کو شدید طوفانی ہواؤں کے باعث صفا و مروہ کی تیسری منزل کی چھت سے مطاف کے صحن کے ایک حصہ میں گرپڑا ۔ جس کے نتیجہ میں 107 افراد جاں بحق اور تقریباً 250 افراد زخمی ہوئے ۔ شہید ہونے والوں میں دو ہندوستانی خواتین اور زخمی ہونے والوں میں 15 ہندوستانی شامل ہیں۔

خیر ہماری گفتگو شروع ہوئی تھی مکہ مکرمہ میں حاصل گنجائش اور زائرین و حجاج کی تعداد سے ۔ اس موضوع پر ہر سال متعدد جرائد و رسائل میں مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ زائرین وحجاج کو سمجھایا جاتا ہے کہ حرمین شریفین میں موجود گنجائش کے مطابق زائرین وحجاج کی تعداد ہو ۔ مناسک خشوع و خضوع کے ساتھ ادا ہوں ، ہر شخص اپنی عبادت سہولت اور اطمینان بخش طریقہ سے مکمل کرے ، اس کیلئے مسلمانان عالم کا تعاون سب سے بڑی شرط ہے ۔ ایسے افراد جو چھوٹے چھوٹے وقفہ یا ہر سال عمرہ اور حج پر آتے ہیں ان سے ذرائع ابلاغ کی وساطت سے حکومت سعودی عرب مسلسل گزارش کرتی ہے کہ وہ بار بار حج یا عمرہ پر نہ آئیں ۔ اس تشہیر پر حکومت بہت رقم بھی خرچ کرتی ہے ۔ مقامی افراد کو بار بار حج پر آنے سے روکنے کیلئے سیکورٹی عملے کے ذریعہ سختیاں برتی جاتی ہیں ۔ لیکن ان ساری کوششوں کا کوئی اثر ہونا نظر نہیں آتا ۔ لوگ وہی کرتے ہیں جو ان کی مرضی ہو ۔ پچھلے جمعہ کے خطبہ میں حرم مکی و مسجد نبوی شریف کے ائمہ نے بھی پھر ایک بار اس موضوع پر مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ ائمہ نے حج کے احکامات پر تفصیلی روشنی یوں ڈالی
مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر خالد الغامدی نے واضح کیا ہے کہ حج توحید اور اتحاد کی پہچان دیتا ہے ۔ مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ صلاح البدیر نے کہا کہ اجازت نامہ نہ ملنے پر حج ملتوی کردیا جائے ۔ حیلے بازی ، دھوکہ دہی ، دروغ گوئی اور جعلسازی سے پرہیز اور حج قوانین کا احترام کیا جائے ۔ مسجد نبوی شریف کے خطیب صلاح البدیر نے جمعہ کا ایمان افروز خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی شریعت نے اپنے پیروکاروں کیلئے فرائض ، سنتیں ، نفلیں اور جائز اشیاء مقرر کی ہیں ۔ اسلام نے اسے تمام مسلمانوں پر جو استطاعت رکھتے ہوں حج فرض کیا ہے  ۔ حج اسلام کا پانچواں عظیم رکن ہے ۔ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اسے پوری زندگی میں ایک بار حج کرنا لازمی ہے ۔ جس شخص پر حج فرض ہوجائے اور وسائل مہیا ہوجائیں اسے پہلی فرصت میں حج کرنا ضروری ہے ۔ یہ ہدایت پیغمبر اسلام محمد مصطفیﷺ کی ہے ۔ امام البدیر نے یہ بھی بتایا کہ اگر کسی ایسے شخص کی موت واقع ہوجائے جس پر حج فرض ہو اور اس نے حج ادا نہ کیا ہو تو اس کے ترکے سے حج اور عمرے کے اخراجات نکالے جائیں ۔

اس نے حج یا عمرے کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو یہ ہدایت پیغمبر اسلام محمد مصطفیﷺ کی ہے ۔ امام مسجد نبوی نے یہ بھی واضح کیا کہ جو شخص اپنے طور پر حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اسے اپنی جانب سے کسی اورکو حج پر نہیں بھیجنا چاہئے ۔ اگر کسی سے اپنا حج کرایا تو حج ادا نہیں ہوگا ۔ اسی طرح اگر کسی شخص پر حج کی تمام شرطیں پوری ہورہی ہوں تاہم جسمانی طور پر وہ حج کے سفر سے معذور ہو ۔ مثال کے طور پر اسے کوئی ایسا مرض لاحق ہوگیا ہو جس سے شفایاب ہونے کی امید نہ ہو یا سواری پر بیٹھنے میں اسے مشقت پیش آتی ہو ۔ ایسی مشقت جو ناقابل برداشت ہو یا وہ بہت زیادہ بوڑھا ہوگیا ہو تو ایسی حالت میں اسے اپنی جانب سے کسی اور شخص کو حج اور عمرے پر بھیج دینا چاہئے ۔ امام البدیر نے یہ بھی کہا کہ جس شخص نے اپنی جانب سے کسی سے حج کرالیا ہو اور پھر وہ صحت یاب ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں اسے دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں ہوگا ۔  اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ امید ہو کہ وہ اپنے مرض سے صحت یاب ہوجائے گا اور حج کرسکے گا تو ایسے شخص کو صحت یابی کا انتظار کرنا چاہئے اور کسی شخص کو اپنی جانب سے حج پر نہیں بھیجنا چاہئے ۔ اس کے باوجود اگر کسی نے اپنی طرف سے کسی کو حج پر بھیج دیا اور اس نے حج کرلیا تو یہ ادا نہیں ہوگا ۔ غریب مسلمان پر حج فرض نہیں ۔ البتہ کوئی بھی شخص اپنے طور پر اسے حج کراسکتا ہے ۔ جو شخص بھی غریب کو حج کراکے احسان نہیں جتلائے گا تو اللہ تعالی حج کرانے والوں کو بھی اجر و ثواب سے نوازے گا ۔ البدیر نے کہا کہ حجِ بدل کرنے والا حج کرانے والے سے محنتانہ لے سکتا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ اخراجات کے نام پر رقم وصول کرے اور اسے محنتانے کا نام نہ دے ۔ البدیر نے بتایا کہ جس شخص نے فرض حج نہ کیا تو ایسی حالت میں حج کرانے والے کے بجائے حج خود اس کا ہو جائے گا جو حج ادا کررہا ہوگا ۔ کوئی ایک شخص بیک وقت دو افراد کی طرف سے حج نہیں کرسکتا  ۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک انسان اپنی اور کسی اور کی جانب سے حج کرنا چاہے ۔ دو افراد کی طرف سے بھی بیک وقت حج کی نیت نہیں کی جاسکتی  ۔

اگر والدین کا انتقال ہوگیا ہو یا وہ معذور ہوں تو ایسی صورت میں بہتر ہوگا کہ اولاد اپنے والدین کی طرف سے حج کرے ۔ پہلے ماں کی جانب سے حج کرے کیونکہ بیٹے پر ماں کا حق زیادہ ہے ۔ اگر کسی خاتون کو حج کیلئے محرم مل جائے تو ایسی صورت میں شوہر کیلئے اپنی بیوی کو حج سے محروم کرنا جائز نہیں ۔ اگر کسی شخص پر قرض ہو تو ایسی حالت میں اسے پہلے قرض ادا کرنا چاہئے پھر حج کا ارادہ کرنا چاہئے  ۔ الا یہ کہ قرضہ دینے والا اسے حج کی اجازت دے دے یا قرضے کی ادائیگی قسطوں میں ہورہی ہو ۔ قسطوں والے قرض کی صورت میں قرض دینے والے سے اجازت لینا ضروری نہیں  ۔البدیر نے کہا کہ اگر کوئی شخص کمزوروں ، عورتوں ، مریضوں اور حج پر آنے والوں ، بوڑھوں کی سہولت کی غرض سے ازدحام کے عالم میں نفلی حج ترک کردے تو یہ عمل کار خیر میں شامل ہوگا اور اللہ اسے ایسا کرنے پر اجر دے گا ۔ وجہ یہ ہے کہ نفل حج سنت ہے اور مسلمانوں کو اذیت سے بچانا فرض ہے ۔ نفل حج یا عمرے سے بہتر صدقہ ہے ۔ صلاح البدیر نے یہ بھی بتایا کہ اگر کسی شخص کو حکام سے حج کا اجازت نامہ نہ ملا ہو تو ایسے شخص کو اجازت نامہ نہ ملنے پر حج کی ادائیگی ملتوی کرنا واجب ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی شرعی حکمت کے تحت عازمین حج اور معتمرین کی تعداد مقرر کی جاتی ہے ۔ شریعت کا حکم ہے کہ دھکے بازی ، بدنظمی اور بے ضابطگی سے حج اجتماع کو بچانا ضروری ہے ۔ امام البدیر نے خبردار کیا کہ جو لوگ حج قوانین سے جان چھڑانے کیلئے دروغ گوئی ،دھوکہ دہی ، حیلے بازی اور رشوت ستانی کے طریقے اختیار کرتے ہیں یا وہ لوگ جو چیک پوسٹوں سے فرار ہونے کیلئے پُرخطر راستے اور ٹیڑھے میڑھے طریقے اپناتے ہیں وہ بڑا گناہ کرتے ہیں  ۔مقامی حکام نے اس حوالے سے جو پابندیاں مقرر کی ہیں وہ حاجیوں کی سلامتی اور حج موسم کو پرامن اور پرسکون بنانے کیلئے لگائی ہیں ۔ امام البدیر نے توجہ دلائی کہ جو لوگ اسلامی شریعت کے احکام میں خلل پیدا کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدیں پامال کرتے ہیں ،جو لوگ حرام کا ارتکاب کرتے ہیں ، میقاتوں سے پابندی کے باوجود بلااجازت نامہ کے گزرتے ہیں وہ قابل مذمت ہیں ۔ تفتیشی  چوکیوں سے احرام کے بغیر گزرنا درست نہیں ۔ جھوٹ بول کر ، دھوکہ دے کر قوانین پامال کرکے کس طرح کا حج ہوسکتا ہے ۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ۔ امام البدیر نے کہا کہ جو لوگ غیر قانونی طریقے سے عازمین کو حج مقامات پر لے جاتے ہیں اور اس سے آمدنی حاصل کرتے ہیں یہ حرام کی کمائی ہے ۔ یہ کمائی صحیح نہیں ۔ حرم شریف کے امام ڈاکٹر الغامدی نے بتایا کہ اسلامی شریعت توحید کی شریعت ہے ۔ تمام مسلمان حج اعمال میں مضمر توحید کے سبق کو اچھی طریقے سے سمجھ کر اپنے کردار و گفتار کا حصہ بنائیں ۔ یہ تو تھے ائمۂ حرمین شریفین کے ارشادات ۔ ہمیں خود بھی سوچنا چاہئے کہ اجر و ثواب حاصل کرنے کیلئے صرف حج و عمرہ ہی ایک واحد عمل نہیں کہ ہم بار بار حج و عمرہ کا قصد کریں ۔ نفلی حج و عمرہ پر خرچ ہونے والے پیسے سے دیگر عمل انجام دے کر بھی اتنا ہی اجر و ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے  ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آنکھ اٹھا کر دیکھیں ہمارے اطراف کتنے ایسے مستحق ترین افراد ہیں جن کی مالی مدد کرکے ہم اجر عظیم اور ثواب جاریہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ ائمہ حرمین کے پیام کو ہر مقام کے علماء و ائمہ اپنے وعظ و بیان میں دہرائیں تاکہ لوگوں کی رہنمائی ہو۔

TOPPOPULARRECENT