Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حج پالیسی میں تبدیلی کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواستیں

حج پالیسی میں تبدیلی کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواستیں

کورٹ کی فریقین کو نوٹس جاری ‘ 13ڈسمبر کو سماعت

حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) حج پالیسی 2018ء سے 4 مرتبہ مسلسل درخواست گزاروں کے محفوظ زمرے کو برخاست کیئے جانے کے خلاف حیدرآباد ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی۔ عدالت نے 6 درخواست گزاروں کی رٹ پٹیشن کو سماعت کے لیے قبول کرلیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت کی ہدایت دی۔ اس معاملہ کی سماعت 13 ڈسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ محبوب نگر کے نذیر محمد اور کریم نگر کے رئیس احمد کے علاوہ دیگر 4 افراد نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے ان احکامات کو چیلنج کیا جس کے ذریعہ عازمین حج کے دو محفوظ زمرہ جات میں سے ایک برخاست کردیا گیا۔ مرکزی حکومت نے حج پالیسی 2018ء پر نظرثانی کے لیے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دو محفوظ زمرہ جات میں 70 سال یا اس سے زائد عمر کے زمرے کو برقرار رکھا جبکہ مسلسل چوتھی مرتبہ درخواست دینے والے عازمین کے محفوظ زمرے کو برخاست کردیا گیا۔ مرکز نے اس سفارش کو قبول کرلیا اور حج 2018ء میں صرف ایک محفوظ زمرہ شامل کیا گیا ہے۔ ایسے عازمین جو مسلسل چوتھی مرتبہ درخواست داخل کرتے ہوئے محفوظ زمرے میں شامل ہونا چاہتے تھے انہیں مایوسی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ کے علاوہ کیرالا میں بھی حکومت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ حیدرآباد ہائی کورٹ میں سکریٹری اقلیتی امور حکومت ہند، سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر سنٹرل حج کمیٹی اور اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی کو فریقین کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے 4 مرتبہ درخواست دینے سے متعلق محفوظ زمرے کو برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں مرکز کو ہدایت دی تھی کہ حج پالیسی پر ہر پانچ سال میں ایک بار نظرثانی کی جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مرکز نے 2018ء میں حج پالیسی پر نظرثانی کی ہے۔ 13 ڈسمبر کی سماعت میں حج کمیٹی کے وکلاء حکومت کے موقف کی وضاحت کریں گے۔ محفوظ زمرے کی برخاستگی سے جاریہ سال حج کمیٹی کو موصولہ درخواستوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT