Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / حج پالیسی 2018 میں تبدیلی کو چیلنج ، عدالت میں سماعت کا آغاز

حج پالیسی 2018 میں تبدیلی کو چیلنج ، عدالت میں سماعت کا آغاز

حیدرآباد ہائی کورٹ میں 4 جنوری کو آئندہ سماعت ، گجرات اور کیرالا میں درخواستوں کا ادخال
حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ میں حج پالیسی 2018ء میں تبدیلی کو چیلنج کردہ درخواست کی آج سماعت ہوئی۔ جسٹس ایس وی بھٹ کے اجلاس پر سماعت مقرر تھی جس میں سنٹرل حج کمیٹی اور تلنگانہ حج کمیٹی کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 4 جنوری کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ حج پالیسی میں 4 مرتبہ مسلسل درخواست گزاروں کے محفوظ زمرے کی برخاستگی کے خلاف مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کی گئیں۔ عدالت نے سنٹرل حج کمیٹی، تلنگانہ حج کمیٹی اور محکمہ اقلیتی بہبود کو نوٹسیں جاری کی تھی۔ آج مقدمہ کی سماعت کے موقع پر حج کمیٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواستوں کے ادخال کا سلسلہ جاری ہے اور 22 ڈسمبر آخری تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل حج کمیٹی نے عازمین حج کے انتخاب کے لیے 8 تا 15 جنوری مختلف ریاستوں میں قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حج پالیسی میں تبدیلی کی گئی۔ حج کمیٹی کے جوابی حلف نامہ کے ادخال کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت 4 جنوری کو مقرر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حج پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں بھی گجرات اور کیرالا سے تعلق رکھنے والے افراد نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت کے آئندہ اقدام کا انحصار رہے گا۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے حج پالیسی 2018ء پر نظرثانی کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے دو اہم فیصلے کیے۔ ایک تو یہ کہ مسلسل 4 مرتبہ درخواست دینے پر محفوظ زمرے میں انتخاب کی سہولت کا خاتمہ اور خواتین کو محرم کے بغیر حج کی اجازت۔ کمیٹی کی سفارشات کو مرکز نے قبول کرلیا اور محفوظ زمرے میں 70 سال یا اس سے زائد عمر کے عازمین کے زمرے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے استدلال پیش کیا کہ محفوظ زمرے کی برخاستگی سے ایسے افراد سے ناانصافی ہوگی جو مسلسل چوتھی مرتبہ درخواست داخل کررہے ہیں۔ انہوں نے اس زمرے کو بحال کرنے کی اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT