Sunday , November 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / حج کا طریقہ

حج کا طریقہ

لَبَّیْکَ أَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
ڈاکٹر سیدہ نفیس النساء بیگم، سابقہ صدر معلمہ کلیۃ البنات جامعہ نظامیہ
۸؍ ذو الحجۃ الحرام :حج کا احرام باندھنے کے لئے سب سے پہلے غسل کرکے اپنے مقام سے یا حرم شریف سے دو رکعت نماز پڑھ کر احرام باندھ لیں۔ اگر طواف کرنا چاہتے ہوں تو طواف کریں، طواف کرنا بہتر ہے، یہ نفل طواف ہے۔ حج کا فرض طواف ۱۰؍ ذو الحجۃ الحرام سے ۱۲؍ذوالحجۃ الحرام کے درمیان کرنا ہے۔ ۸؍ ذو الحجۃ الحرام کی فجر کی نماز حرم شریف میں پڑھ کر منٰی کو چلے جائیں۔ اگر طواف کرکے جا رہے ہیں تو آپ کو اختیار ہے، اس طواف کے بعد حج کی سعی بھی کرسکتے ہیں تو پھر ۱۰؍ ذو الحجۃ الحرام کے بعد دوبارہ سعی کرنے کی ضرورت نہیں، ورنہ ۱۰؍ ذو الحجۃ الحرام سے ۱۲؍ ذو الحجۃ الحرام کے درمیان طواف زیارت کرنے کے بعد سعی کرنا ہوگا۔ مکرہ مکرمہ سے منٰی تقریباً تین میل یعنی پانچ کیلو میٹر ہے۔عورتیں اگر حیض یا نفاس کی حالت میں ہیں تو صفائی اور نظافت کی غرض سے غسل کریں اور بغیر نماز پڑھے حج کی نیت کریں۔ لبیک پڑھ لیں تو احرام میں آجائیں گی اور وہ حج کے تمام کام کرسکتی ہیں، البتہ وہ مسجد حرام میں نہ جائیں اور طواف نہ کریں، باقی منٰی، عرفات، مزدلفہ کو جانا، کنکریاں مارنا اور قربانی وغیرہ کے تمام کام کرسکتی ہیں۔
منٰی کو ہو سکے تو پیدل جائیں، ورنہ سواری وغیرہ پر جائیں اور ظہر سے پہلے منٰی پہنچ جائیں۔ ظہر کی نماز منٰی میں پڑھنا مستحب ہے اور ۹؍ ذو الحجۃ الحرام کی فجر تک منٰی میں رہیں۔ ہو سکے تو فجر و مغرب مسجد خیف میں پڑھنے کی کوشش کریں، ورنہ اپنے اپنے ڈیروں میں جماعت سے پڑھیں اور عورتیں ہمیشہ اپنے اپنے ڈیروں میں ہی پڑھیں گی۔ اور ۹؍ ذو الحجۃ الحرام کو منٰی میں فجر کی نماز پڑھ کر سیدھے میدان عرفات کو چلے جائیں۔ میدان عرفان چھ میل یعنی دس کیلو میٹر ہے۔ ظہر سے پہلے میدان عرفات پہنچ جائیں۔ میدان عرفات پہنچ کر آپ غسل کریں۔ غسل میں خوشبودار صابن استعمال نہ کریں اور رگڑکر میل نہ نکالیں۔ اگر آپ اور امام دونوں مسافر ہوں تو مسجد نمرہ میں امام کے پیچھے ظہر کی نماز اور عصر کی نماز ظہر کے وقت ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرکے پڑھیں، ورنہ اپنے اپنے خیموں میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت اور عصر کی نماز عصر کے وقت اپنا کسی کو امام بناکر جماعت سے پڑھ لیں۔ یاد رکھیں مسجد نمرہ کے سامنے کا حصہ میدان عرفات کے موقف سے باہر ہے، اسی لئے نماز کے بعد مسجد کے ابتدائی حصہ سے باہر آجائیں۔ البتہ سہولت ہو تو جبل رحمت کے قریب ٹھہریں، ورنہ جہاں بھی سہولت ہو موقف کے اندر ٹھہریں۔
جب عصر کا وقت آجائے تو عصر تا مغرب کے وقت دعاؤں میں مشغول رہیں اور استغفار کریں اور خوب روئیں۔ یہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے یہاں ساری امت کی حفاظت، امن و امان، امت کی مغفرت و بخشش اور امت کی سلامتی کے لئے دعاء فرمائی ہے اور دعاء کی قبولیت کا اعلان ہوا ہے، اس لئے اس میدان عرفات اور اس میں ہمارا یہ ٹھہرنا سب اسی لئے ہے کہ اللہ تعالی کے دربار میں اللہ تعالی کی کبریائی اور اپنی بندگی و عاجزی کا اظہار کریں۔ میدان عرفات میں نمازوں کے بعد سب سے بڑا کام ایمان پر استقامت اور دین کی بھلائی، والدین، رشتہ دار، دوست احباب، اہل وطن اور ساری دنیا کے مسلمانوں کی امن و سلامتی کی دعائیں کریں اور خوب روئیںاور میدان عرفات میں مغرب تک ٹھہریں۔ مغرب کے بعد میدان عرفات میں مغرب کی نماز نہ پڑھیں اور مزدلفہ کو روانہ ہو جائیں۔ پیدل یا سواری یا موٹر وغیرہ پر جیسی سہولت ہو نہایت وقار کے ساتھ اور راستہ کشادہ ہو تو قدرے تیزی کے ساتھ مزدلفہ کو چلیں۔ راستہ میں کثرت سے لبیک پڑھیں اور تکبیر کہتے جائیں۔ مزدلفہ، عرفات سے تین میل یا ۹ کیلو میٹر ہے۔

مزدلفہ پہنچ کر قزح پہاڑ کے قریب ٹھہریں یا جس جگہ سہولت ہو ٹھہریں۔ مغرب و عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ جمع کرکے پڑھیں۔ مسجد مشعر حرام میں امام کے پیچھے یا جس جگہ بھی سہولت ہو جماعت بناکر ہو یا تنہا، ہر صورت میں جمع کرکے پڑھ لیں اور مغرب کی سنتیں عشاء کے فرض کے بعد پڑھیں اور مزدلفہ میں رات دعاؤں میں گزاریں۔ پھر فجر کی نماز اول وقت پڑھ لیں۔ مزدلفہ میں فجر کے وقت رہنا واجب ہے، پھر منٰی کو روانہ ہو جائیں۔ البتہ عورتیں اور چھوٹے بچے فجر سے پہلے بھی منٰی کو جا سکتے ہیں، ان کو اجازت ہے۔ مزدلفہ میں یا منٰی کے راستہ میں جمرات کو مارنے کے لئے کنکریاں چن لیں۔ دس تاریخ کی سات کنکریاں، گیارہ کی ۲۱ عدد اور بارہ کی بھی ۲۱ عدد اور تیرہ تاریخ کو منٰی میں ٹھہر گئے تو اس کی بھی ۲۱ عدد جملہ ۷۰ کنکریاں ساتھ رکھ لیں۔

دس ذو الحجۃ الحرام کی فجر کے بعد منٰی کو پہنچ کر ہم کو تین کام کرنا ہے۔ سب سے پہلے جمرہ عقبہ پر جاکر سات کنکریاں مارنا اور ہر کنکری مارتے وقت یہ بولنا ’’رجما للشیطان ، رضا للرحمن بسم اﷲ اﷲ اکبر‘‘ (شیطان کو مارنے کے لئے اور رحمن کو راضی کرنے کے لئے) اگر کنکری حلقہ میں نہ گرے تو اس کی جگہ ایک دوسری کنکری ماریں۔ سات کنکریوں کے بعد وہاں دعاء نہ کریں فوراً آجائیں۔ جس جمرہ کے بعد کسی دوسرے جمرہ کو کنکریاں مارنا نہیں ہے، وہاں ٹھہرکر دعاء بھی نہیں کرنا ہے، آپ فوراً آجائیں۔ اب اس کے بعد آپ قربانی دیں یا قربانی کے لئے کسی کو وکیل بنائیں تو اس کے قربانی دینے تک انتظار کریں۔ اس کے بعد حلق یا قصر کریں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کا احرام ختم ہو گیا۔ اب آپ غسل کرلیں، خوشبو کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ جن کاموں سے روکا گیا تھا، وہ سب کام اب جائز ہو گئے۔ البتہ طواف زیارت تک بیوی سے قربت نہیں کرسکتے۔ اگر ہو سکے تو آپ اپنی قربانی کا گوشت کھائیں۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کا گوشت تناول فرمایا تھا۔
اب آپ جس قدر جلد ہو سکے کعبۃ اللہ کو جاکر طواف زیارت کریں اور عورتوں کے لئے اگر ایام آجائیں تو پاک ہونے تک طواف زیارت کو مؤخر رکھنا ہے، اس کی وجہ سے ان پر دم نہیں ہے۔ بہرحال طواف زیارت فرض ہے۔ طواف زیارت دس تاریخ سے بارہ کی مغرب تک کسی بھی وقت کرسکتے ہیں۔ اگر بارہ کی مغرب تک طواف زیارت کے کم از کم چار چکر پورے نہیں کرسکے تو ایک دم دینا واجب ہو جاتا ہے۔ حیض و نفاس والی عورتوں پر دم واجب نہیں، وہ جب پاک ہوجائیں گی تب طواف زیارت کریں گی اور جو حضرات منٰی کو جانے سے پہلے حج کی سعی نہیں کئے تھے تو طواف زیارت کے بعد حج کی سعی کرلیں۔ طواف زیارت اپنے معمول کے کپڑوں میں کریں گے۔ اگر سعی کرنا ہو تو اس میں رمل بھی کریں گے، ورنہ رمل نہیں کریں گے۔ پھر رات منٰی میں گزارنے کی کوشش کریں، یہ سنت ہے اور گیارہ تاریخ کو زوال کے بعد پہلے چھوٹے جمرہ کو، پھر منجھلے کو اور پھر جمرۂ عقبہ (بڑے جمرہ) کو سات سات کنکریاں ماریں۔ چھوٹے اور منجھلے کے پاس دعاء کریں اور بڑے کے پاس دعاء نہ کریں، واپس آجائیں۔اسی طرح بارہ ذو الحجۃ الحرام کو زوال کے بعد چھوٹے کو سات کنکر ماریں اور دعاء کریں، پھر منجھلے کو مارے اور دعاء کریں اور پھر بڑے کو مارے اور دعاء نہ کریں واپس ہو جائیں۔ اب حج کے مناسک پورے ہو گئے۔ اللہ تعالی سب کے حج کو مقبول اور مبرور فرمائے۔ (آمین)

اگر آپ ۱۳؍ ذو الحجۃ الحرام کی فجر تک منٰی میں ٹھہر گئے تو پھر ۱۳؍ ذو الحجۃ الحرام کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو پہلے کی طرح سات سات کنکریاں مارنا ہے، زوال سے قبل مکروہ ہے۔
اب آپ مکہ مکرمہ میں جب تک ٹھہرنا چاہتے ہیں ٹھہریں۔ اگر عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو مقام تنعیم کو جاکر یا کسی بھی طرف حدود حرم سے باہر جاکر، یا جعرانہ مقام میں جاکر عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کریں۔ ایک اہم بات یاد رکھیں کم از کم سات چکر کا نام طواف ہے، اور ہر طواف (سات چکر) کے بعد دو رکعت نماز طواف مقام ابراہیم کے پاس مسجد حرام میں جہاں سہولت ہو پڑھنا واجب ہے۔ زم زم پیتے رہیں، تسبح و تہلیل اور ذکر خدا اور تلاوت قرآن مجید اور دعائیں کرتے جائیں اور کعبۃ اللہ میں طواف کے بعد بہترین عبادت کعبۃ اللہ کو دیکھتے رہنا ہے۔ آفاقی حاجی کے لئے طواف وداع واجب ہے، مگر عورتوں کیلئے اگر ایام میں ہوں تو طواف وداع معاف ہے اور اس کی وجہ سے ان پر دم بھی نہیں ہے۔طواف وداع کے وقت کعبۃ اللہ سے جانے کا شدید احساس اور اس کا رنج و غم ہونا چاہئے اور اس کی کیفیت طاری ہونا چاہئے، بلکہ رونا چاہئے۔ اس موقع پر اپنے شدید جذبات کا اظہار کرنا اور کعبۃ اللہ کے پردے کو پکڑکر روتے ہوئے حج کی مقبولیت، رب تعالی کی خوشنودی اور اس دربار میں بار بار آنے کی تمنا اور اس کے لئے دعاء کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT