Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / حج کا پیغام حجاج کرام کے نام

حج کا پیغام حجاج کرام کے نام

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی
حج کا موسم آجاتا تو مکہ مکرمہ میں زائرین کی چہل پہل بڑھ جاتی ، تو بھٹکی انسانیت کے گمراہ رسومات ، طور طریقے جو ایام جاہلیت کے دور میں حج کے نام پر ہوتا ہوا دیکھتے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم تڑپ اٹھتے ۔ کعبتہ اللہ جو 360 بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا ، گمراہ قومیں باطل طریقۂ کار اپنائے ہوئے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بے چینی اور بڑھ جاتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم انتہائی فکر اور درد مندی کے ساتھ اپنے چند معتبر گنے چنے جاں نثار صحابہ کرام کو لیکر جن میں خاص کر یار غار حضرت ابوبکر صدیقیؓ کے ساتھ کبھی مکہ کی گلی کوچوں میں ، کبھی بازاروں میں ، کبھی منیٰ کے خیموں اور وادیوں میں کبھی مکہ کی پہاڑیوں میں کبھی علانیہ کبھی چھپ کر کبھی دن کے اجالے میں کبھی رات کے اندھیروں میں بذات خود پہنچ کر اعلائے کلمتہ کے ذریعہ صداقت کا پیغام پہنچاتے تاکہ یہ گمراہ انسانیت جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائے ۔

یہ قوم جن کی عقل روشن لیکن روح تاریک ، اندھی بصیرت ، رب ذوالجلال کی ذات عالی کی منکر ، جو اندھی تقلید میں گھری ہوئی ، ایک دوسرے کی قاتل بنی ہوئی ، ان کو راہ ہدایت راہ نجات بتانے کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم حج کے سیزن کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ۔یہی پیغام حق کو لیکر صحابہ کرامؓ کی جماعت رب کائنات کا نور حق ، عشق و سرور ، محبت میں مخمور ہو کر توحید کا نعرہ عام کرنے کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو اتباع میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ صحابہ جب یہی مشن رسول اللہﷺ کو اپنے دل و جان میں اتار کر آگے بڑھے تو مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن یہ آفتیں ، مصیبتیں ، تکالیف ، شفیق و مہربان حبیب خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے دی جانے والی تسلی و اطمینان و راحت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے ۔ یہی مشن رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب دھیرے سے وسعت حاصل کرنے لگا تو کفار مکہ کے مظالم بڑھتے گئے ، آج جب امن والے شہر کعبتہ اللہ کا دیدار و طواف کرتے ہیں جہاں کے در و دیوار ، میدان و پہاڑ ، بازار و غار اسلامی عظمت کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے صحابہ کرم کی قربانیوں کی یاد دلارہی ہیں بلکہ ہمیں (حجام کرام) کو للکاررہی ہیں ۔ اے حاجی ! یہاں جہاں تو جسمانی و روحانی تسکین کا سامان تلبیہ کے ذریعہ حاصل کررہا ہے ۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں قیام امن و قیام اسلام کے لئے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بے رحمی سے پیٹ کر لہولہان کیا گیا ۔ حضرت  ابوبکرؓ کو سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر ظلم و زیادتی ، حضرت زبیر بن عوامؓ ، حضرت عثمان غنیؓ جو اعلی خاندان و قبیلے کے ہونے کے باوجود  فقر و فاقہ کرنا پڑا ۔ حضرت بلالؓ ، حضرت عامر بن قہیرہ! ، حضرت معصب ، حضرت خبیب و خباب رضوان اللہ تعالی اجمعین کو گرم ریت پر سلایا جانا ۔جیسی داستان اور قربانیاں وابستہ ہیں تب جا کر یہ شہر مکہ گہوارۂ امن بنا ۔ ہمارے اسلاف کو ناقابل فراموش قربانیوں کے نتیجے میں اسلام کا پرچم سارے عالم میں بلند ہوا اور آج دنیا کا سب سے بڑا اجتماع مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے ۔ کعبتہ اللہ سے گونجنے والی لبیک کی صدائیں ساری دنیا میں مشرق و مغربی ، شمال و جنوب میں گونجتی ہیں ۔ لیکن پرامن فضا کے قیام میں دی جانے والی قربانیوں اور صحابہ کرام کی روحوں کی فریاد کو بھی حاجی صاحبان بھول رہے ہیں ۔ جس محنت کو اپنا کر صحابہ کرام دنیا میں عزت ، آخرت میں جنت کی بشارت پائے تھے وہی دعوت دین کو پس پشت ڈال کر امت مسلمہ تارک حالات سے دوچار ہورہی ہے ۔

خطبہ حجتہ الوداع کا بنیادی پہلو جو کہ ’اعلائے کلمتہ  الحق‘ کو خاص تاکید کو ہی ہم بھول گئے ۔ اسلام رنگ و نسل خاندان و برادری ، مختلف قبائل میں ہونے والے جاہلانہ ، مشرکانہ اعمال و بت پرستی کو صفحہ ہستی سے مٹانے آیا اور مٹانا چاہتا ہے ۔ علاوہ ازیں ملکی ، نسلی ، علاقائی تفریق کو مٹا کر ہر فرد کو دعوت دین کی ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے ۔ خاص کر حجاج کرام اور عموماً ہر کلمہ گو کو اس اہم ذمہ داری پر غور کرنا چاہئے ۔ حج کا عظیم مقصد ہی کلمہ کو محنت ، توحید و رسالت کے پیغام کو عام کرنا ہے ۔ اس کے لئے مثبت تبدیلی اور لائحہ عمل طے کرنا ہے ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج دین کی ہر عبادت صرف ایک رسم بن گئی ہے ۔ ستم بالائے ستم حج جیسا ایک اہم رکن بھی اس رسم کی کڑی بن گیا ہے  جس کی وجہ سے حج کے متوقع فوائد ہمیں نہیں حاصل ہورہے ہیں ۔ اگر ہر حاجی امت واحدہ کا تصور لیکر دعوت دین حق کو محنت کی تڑپ کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر واپس ہو تو ہماری ملت اسلامیہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرسکتی ہے اور ساری روئے زمین پر ایک پررونق انقلاب برپا ہوگا  لیکن افسوس
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
اس طرح حجتہ الوداع کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے جو پیغام دیا تھا جو ساری انسانیت کے لئے اولین منشور ہے ۔ جس میں امت مسلمہ کو ذمہ داری سونپی گئی کہ حق کا پیغام ان لوگوں تک پہنچایا جائے جو یہاں (خطبہ حجتہ الوداع) میں موجود نہیں ہے ۔ بس یہ ہم مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیغام کو عام کریں اور اپنے اندر تبلیغ اسلام ، دعوت دین حق کی تڑپ پیدا کریں تاکہ بھٹکی ہوئی انسانیت کی فلاح جو ہماری منصبی ذمہ داری ہے کہ حق ادا ہوسکے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے ۔
’’ساری انسانیت اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کو آرام پہنچائے‘‘ (بیہقی)۔ یعنی بھٹکی ہوئی انسانیت کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچائے ۔ اس کا ٹوٹا ہوا رشتہ رب العالمین سے جوڑدے ۔ ورنہ حج کا مقصد حاصل ہونا دشوار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT