Sunday , November 18 2018
Home / شہر کی خبریں / حج کمیٹی میں شیعہ رکن کا تنازعہ برقرار،کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن کا استعفیٰ باقی

حج کمیٹی میں شیعہ رکن کا تنازعہ برقرار،کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن کا استعفیٰ باقی

حیدرآباد۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حج کمیٹی کی تشکیل کو تین ماہ مکمل ہوگئے لیکن شیعہ رکن کی نامزدگی کا تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ حکومت 20 جنوری کو جی او آر ٹی 21 کے ذریعہ حج کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی میں شیعہ رکن کی شمولیت کے لیے 23 جنوری کو جی او آر ٹی 23 جاری کر کے شیم آغا کو رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ جی او کی اجرائی کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں بے چینی اور ناراضگی پیدا ہوگئی تھی کیوں کہ نامزد رکن کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ شمیم آغا نے کھل کر کانگریس سے اپنی وابستگی کا اعتراف بھی کیا۔ اس صورتحال سے پریشان محکمہ اقلیتی بہبود نے شیعہ رکن کی تبدیلی کی کارروائی شروع کی لیکن شمیم آغا کے استعفیٰ تک یہ ممکن نہیں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی مداخلت کے بعد شیعہ رکن نے فون پر مسیج کے ذریعہ استعفیٰ کی اطلاع دی لیکن قواعد کے مطابق یہ قابل قبول نہیں ہے۔ انہیں تحریری طور پر استعفیٰ پیش کرنا ہوگا۔ حکومت نے شیعہ رکن کی حیثیت سے پارٹی کی ایک خاتون لیڈر کے نام کو قطعیت دی ہے لیکن جی او کی اجرائی ممکن نہ ہوسکی۔ حج کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک تحریری طور پر استعفیٰ کا مکتوب وصول نہیں ہوگا اس وقت تک نئے رکن کی نامزدگی ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ٹی آر ایس کی تشکیل شدہ کمیٹی میں کانگریس کے رکن ہنوز برقرار ہیں۔ حکومت کی جانب سے حج کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ مذکورہ رکن کو اجلاس میں مدعو نہ کیا جائے لیکن اصولاً وہ ابھی بھی کمیٹی کے رکن برقرار ہیں۔ تاوقتیکہ تحریری طور پر استعفیٰ نہ دے دیں۔ ٹی آر ایس کے قائدین نے مسئلہ کی یکسوئی میں تاخیر پر ناراضگی جتائی ہے۔ دوسری طرف حج کمیٹی کے صدرنشین کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے متعلق جی او ابھی تک جاری نہیں ہوا ہے جس کے سبب حج کمیٹی کے عہدیدار تنخواہ اور دیگر مراعات کی ادائیگی کے سلسلہ میں الجھن کا شکار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT