Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حج کمیٹی میں کانگریس لیڈر کی رکنیت کا تنازعہ برقرار

حج کمیٹی میں کانگریس لیڈر کی رکنیت کا تنازعہ برقرار

ٹی آر ایس کی مہیلا قائد رضیہ سلطانہ کو کمیٹی میں شامل کرنے پر غور
حیدرآباد۔6۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حج کمیٹی میں کانگریس سے تعلق رکھنے والی رکن کی نامزدگی سے پیدا شدہ تنازعہ کی یکسوئی ابھی تک نہیں ہوسکی کیونکہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ رکن نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ہے۔ حج ایکٹ کے مطابق نئے رکن کا تقرر اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک کوئی رکن استعفیٰ نہ دے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 20 جنوری کو 16 رکنی حج کمیٹی تشکیل دی تھی۔ حج ایکٹ کے مطابق کمیٹی میں شیعہ رکن کی شمولیت لازمی ہے لیکن 20 جنوری کے جی او میں کوئی بھی شیعہ رکن شامل نہیں تھا ۔ اس تنازعہ سے بچنے کیلئے حکومت نے ایک رکن ستار گلشنی سے استعفیٰ حاصل کرلیا اور ان کی جگہ شیعہ رکن کی حیثیت سے شمیم آغا کو شامل کیا۔ ٹی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ شمیم آغا نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی لیکن انہوں نے کانگریس سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھا ہے ۔ حج کمیٹی میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن کی شمولیت کا تنازعہ چیف منسٹر تک پہنچا اور مسئلہ کی یکسوئی کیلئے شیعہ رکن سے استعفیٰ کی خواہش کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک استعفیٰ پیش نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں نئے شیعہ رکن کی شمولیت میں تاخیر ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شمیم آغا کی جگہ ٹی آر ایس کی مہیلا قائد رضیہ سلطانہ کو حج کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے، جب شمیم آغا رکنیت سے استعفیٰ دیں۔ حج ایکٹ کے مطابق کسی بھی رکن کی علحدگی کے لئے تین شرائط ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ رکن خود استعفیٰ دیدیں ، دوسری شرط یہ مسلسل تین اجلاسوں تک رکن غیر حاضر رہے یا پھر کسی رکن کے خلاف فوجداری مقدمہ ہو۔ ان تین وجوہات کے علاوہ کسی اور وجہ سے کسی رکن کو علحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ترمیمی جی او کی اجرائی کی فائل چیف منسٹر کے دفتر میں ہے اور اجرائی کیلئے ایک رکن کے استعفیٰ کا انتظار ہے۔

TOPPOPULARRECENT