Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حج کمیٹی کو بجٹ کی عدم اجرائی ، خادم الحجاج کے لیے کمیٹی پر اضافی بوجھ

حج کمیٹی کو بجٹ کی عدم اجرائی ، خادم الحجاج کے لیے کمیٹی پر اضافی بوجھ

صرف دو اداروں سے خادم کے انتخاب پر دیگر محکمہ جات کے ملازمین ناراض

صرف دو اداروں سے خادم کے انتخاب پر دیگر محکمہ جات کے ملازمین ناراض
حیدرآباد۔/18 ستمبر، ( سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے حج کمیٹی کو جاریہ مالیاتی سال کا بجٹ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا تو دوسری طرف حج کمیٹی پر خادم الحجاج کی روانگی کے سلسلہ میں 30تا35لاکھ روپئے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ حج کیمپ کے انعقاد کیلئے درکار فنڈز حج کمیٹی کے پاس موجود نہیں لیکن حکومت سے منظوری کی امید میں کمیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کو خادم الحجاج کی روانگی پر خرچ کیا جارہا ہے۔ جاریہ سال جملہ 18 خادم الحجاج کو عازمین حج کی خدمت کیلئے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ان میں 15کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعہ ہوا جبکہ 3 حج کمیٹی اور وقف بورڈ سے نامزد کئے گئے۔ جہاں تک خادم الحجاج کی روانگی کی افادیت کا سوال ہے حجاج کرام کی یہ شکایت عام ہے کہ قیام سعودی عرب اور ایام حج کے دوران کسی بھی موقع پر اکثر خادم الحجاج رہنمائی کیلئے دستیاب نہیں رہتے بلکہ وہ سعودی عرب پہنچتے ہی اپنی نجیسرگرمیوںیا پھر اپنے دوست احباب سے ملاقاتوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں خادم الحجاج کی روانگی اگرچہ حج کمیٹی کے قواعد کے مطابق ہے لیکن عازمین حج کی رائے میں یہ کمیٹی پر اضافی بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ ہر 300عازمین کیلئے ایک خادم الحجاج کو مقرر کیا جاتا ہے۔ مختلف سرکاری محکمہ جات سے قرعہ اندازی کے ذریعہ 15خادم الحجاج کا انتخاب کیا گیا جن کیلئے سرکاری ملازم ہونا، ایک بار حج کی سعادت حاصل کرنا اور 50سال سے کم عمر جیسی شرائط ہیں۔ ان کے علاوہ حج کمیٹی سے دو اور وقف بورڈ سے ایک ملازم کو خادم الحجاج کے طور پر نامزد کیا گیا۔ ان کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ ایک بار حج کی سعادت حاصل کئے ہوئے ہوں اور عمر 50سال سے کم ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کمیٹی میں صرف 4ملازمین ہی ایسے ہیں جنہوں نے حج کی سعادت حاصل کی لہذا یہی چار ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے خادم الحجاج کے طور پر باری باری سے روانہ ہورہے ہیں جبکہ وقف بورڈ سے اس مرتبہ دو کے بجائے صرف ایک ملازم کو منتخب کیا گیا اور دوسرے کیلئے بجٹ کی کمی کو بہانہ بنایا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خادم الحجاج پر سعودی عرب پہنچنے کے بعد نگرانی کا کوئی نظم نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو جوابدہ ہیں۔ جب کبھی حج کمیٹی سے فون کیا جائے تو وہ عازمین کی خدمت میں مصروفیت ظاہر کرتے ہیں۔ خادم الحجاج منتخب اور نامزد افراد کے گرین زمرے میں قیام کی صورت میں حج کمیٹی فی کس 1,91,000 روپئے ادا کرتی ہے جبکہ عزیزیہ زمرے میں قیام کرنے والے خادم الحجاج کیلئے فی کس 1,61,000 روپئے ادا کرتی ہے۔ خادم الحجاج کو ایک ماہ کی غیر حاضری سرکاری ڈیوٹی میں تصور کی جاتی ہے اور انہیں ان کے متعلقہ محکمہ جات سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر عازمین حج کی طرح انہیں بھی بطور خرچ فی کس 2100ریال ادا کئے جاتے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے تحت اگرچہ اور بھی ادارے ہیں لیکن صرف حج کمیٹی اور وقف بورڈ سے خادم الحجاج کی نامزدگی پر دیگر اداروں کے مسلم ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی، دائرۃ المعارف، سروے کمشنر وقف اور اقلیتی کمیشن جیسے ادارے اقلیتی بہبود کے تحت آتے ہیں جہاں مسلم ملازمین کی کمی نہیں لیکن صرف دو اداروں سے ہی ہر سال مخصوص افراد کی روانگی پر دیگر اداروں کے ملازمین ناراض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خادم الحجاج اور مخصوص اداروں سے خادمین کے انتخاب کے سلسلہ میں قواعد کی تبدیلی کیلئے سنٹرل حج کمیٹی سے نمائندگی کی جارہی ہے تاکہ خادمین حجاج کو نہ صرف جوابدہ بنایا جائے بلکہ انتخاب کے طریقہ کار میں شفافیت پیدا کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT