Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حج کیمپ میں انتظامی نقائص کی رپورٹ پر اعلی عہدیدار حرکت میں

حج کیمپ میں انتظامی نقائص کی رپورٹ پر اعلی عہدیدار حرکت میں

سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے کیمپ کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ عازمین کو سہولت کیلئے مختلف اقدامات کی فوری ہدایت
حیدرآباد۔/4ستمبر، ( سیاست نیوز) حج کیمپ میں عازمین حج کیلئے انتظامات میں کمی اور کوتاہی کے بارے میں ’سیاست‘ میں رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار حرکت میں آگئے اور ہنگامی طور پر کئی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل جو امریکہ کے دورہ سے واپس ہوئے ہیں انہوں نے اگرچہ عہدہ کی ذمہ داری نہیں سنبھالی تاہم انتظامات پر رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی فوری حج ہاوز پہنچے۔ انہوں نے تقریباً 3 گھنٹوں تک حج کیمپ کا تفصیلی دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے نقائص کی نشاندہی کی۔ موجودہ انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود جی ڈی ارونا نے بھی حج کمیٹی کے حکام سے ربط قائم کرکے انتظامات میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی۔ سید عمر جلیل کے دورہ کے موقع پر جب عازمین نے اپنی دشواریوں سے واقف کرایا تو انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زیر تعمیر کامپلکس میں قیام پذیر عازمین کیلئے 25 فیانس کا انتظام کرایا۔ اس کے علاوہ 2 کولرس بھی منگوائے گئے تاکہ عازمین حج کو گرمی سے راحت ملے۔ زیر تعمیر کامپلکس کے تین فلورس میں موجود ضعیف عازمین کیلئے گراؤنڈ فلور پر قیام کے ہنگامی طور پر انتظامات کئے گئے کیونکہ لفٹ کی عدم موجودگی کے باعث ضعیف افراد کو تیسری منزل تک پہنچنے میں دشواری ہورہی تھی۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے متعلقہ کنٹراکٹر کو ہدایت دی کہ وہ معاہدہ کے مطابق تمام سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے بصورت دیگر حج کمیٹی انکے خلاف کارروائی کریگی۔ سید عمر جلیل نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ کے ہمراہ حج کیمپ کا تفصیلی معائنہ کیا اور عازمین کو فراہم کی جارہی غذاؤں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ انتظامات کے سلسلہ میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور فنڈز کی اجرائی حکومت کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حج کیمپ کے بعض حصوں میں زائد کرسیوں کا انتظام کیا گیا تاکہ عازمین کو دفتری اُمور کی تکمیل کے سلسلہ میں ٹھہرنے کی زحمت سے بچایا جاسکے۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سید عمر جلیل نے اعتراف کیا کہ حج ہاوز کی موجودہ عمارت میں گنجائش کی کمی کے سبب انتظامات میں دشواریاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت میں 700 افراد کے قیام کی گنجائش ہے لیکن جاریہ سیزن میں روزانہ 3 فلائیٹس کے سبب بیک وقت 2000سے زائد عازمین حج کیمپ میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں حج کیمپ 15دن تک جاری رہتا تھا اور روزانہ 280افراد کی ایک یا دو فلائیٹس روانہ ہوتی تھیں لیکن اس بار ایک ہفتہ میں 16فلائیٹس کی روانگی کا شیڈول سنٹرل حج کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دشواری کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ سال حج تک شہر کے کسی موزوں مقام پر حج ہاوز کی نئی عمارت کی تعمیر کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حج کیمپ کے اختتام کے بعد اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی جائیگی تاکہ گنجائش کے اعتبار سے حج ہاوز کی عمارت تعمیر ہو جس میں تمام بنیادی سہولتیں دستیاب رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کیمپ کی تیاری کیلئے جس کنٹراکٹر کو کام الاٹ کیا گیا اس نے کاموں کی تکمیل میں کوتاہی کی اور بنیادی سہولتوں کے بغیر ہی کام انجام دیا۔ زیر تعمیر کامپلکس کے حصہ میں عازمین کیلئے فیانس کا انتظام نہیں کیا گیا جبکہ یہ کنٹراکٹر کی ذمہ داری تھی۔ حکام نے شکایت کی کہ کنٹراکٹر کا کام اطمینان بخش نہیں ہے اور کیمپ کے انتظامات کی نگرانی کیلئے کوئی متعلقہ شخص موجود نہیں تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کیمپ کے انتظامات میں دیگر اقلیتی اداروں کے ماتحت افسران کے عدم تعاون سے بھی کیمپ میں مشکلات پیش آئیں۔ وقف بورڈ کے حکام نے حج ہاوز کی عمارت سے خانگی اور سرکاری دفاتر کا تخلیہ کرتے ہوئے قیام کی گنجائش میں اضافہ کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک دفاتر کا تخلیہ عمل میں نہیں آیا جبکہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے 3 ماہ قبل ہی دفاتر کے تخلیہ کی ہدایت دی تھی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے ان کی ہدایت کے باوجود حج ہاوز کی عمارت کے کلر کا کام مکمل نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT